’’وعظ ‘‘کا مفہوم اور اہمیت

اس تمہید کے بعد اب ہم حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں. حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ  مَوْعِظَۃً ایک روایت میں ذَاتَ یَوْمٍ کے الفاظ بھی ہیں ’’اللہ کے رسول نے ایک دن ہمیں وعظ ارشاد فرمایا‘‘.یہ وعظ کا لفظ نوٹ کیجیے. آج کل عام فضا عقلیت(rationalism) کی ہے کہ بھئی دلیل سے بات کرو. آپ کی یہ بات ہماری عقل میں نہیں آ رہی. ہماری عقل (۱) صحیح البخاری‘ کتاب تفسیر القرآن‘ باب قولہ وآخرین منہم لما یلحقوا بھم. وصحیح مسلم‘ کتاب فضائل الصحابۃ‘ باب فضل فارس. آپ کی بات ماننے اور تسلیم کرنے کے حق میں نہیں. اسی طرح جب کوئی شخص وعظ کہہ رہا ہو تو لوگ ذرا حقارت کے ساتھ کہتے ہیں کہ وعظ کہہ رہے ہیں جی . یعنی ان کے نزدیک وعظ کوئی اعلیٰ اور عمدہ شے نہیں ہے.

حقیقت یہ ہے کہ وعظ کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے. اس میں اگرچہ منطق کا استعمال نہیں ہوتا‘لیکن اس میں استدلالی اور جذباتی انداز میں دل اور روح کو براہِ راست مخاطب اور متوجہ کیا جاتا ہے .ایک ہے کہ آپ کسی بات کو دماغ اور عقل کے ذریعے سے دل میں اتارتے ہیں. عقلیت پسند(rationalists) لوگوں کا معاملہ یہی ہوتا ہے کہ جب تک ان کی عقل کسی شے کو تسلیم نہ کرے تو وہ دل میں نہیں اترتی. اس اعتبار سے عقل ایک رکاوٹ (barrier) ہے اور عقل کا معنی ہی’ باندھنے والی شے‘ ہے.عربی لوگ سفر کے دوران آرام کی غرض سے کہیں رکنے کے وقت اپنے اونٹ کا ایک گھٹنا باندھ دیتے تھے ‘یعنی ایک ٹانگ کو گھٹنے سے موڑکر اسے کسی رسی سے باند ھ دیتے .اس حالت میں وہ ذرا اُچک اُچک کر کسی کیکر کے درخت پر تو منہ مارلے گا مگر وہ بھاگ کر دور نہیں جاسکتا.اونٹ کے گھٹنے کو باندھنے والی رسی کو ’’عقال ‘‘کہتے ہیں.یہ جو عربوں کا رواج ہے کہ وہ اپنے سر پر بڑی قیمتی رسی’’عقال‘‘باندھتے ہیں‘ اصل میں یہ وہی رسی ہے جس کے ساتھ اونٹ کا گھٹنا باندھا جاتا تھا .آرام کے وقت تو رسی سے اونٹ کا گھٹنا باندھ دیتے‘ لیکن جب دوبارہ سفر کا آغاز کرتے تو اسے کھول کر اپنے سر کے اوپر لپیٹ لیتے.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنی اونٹنی کھلی چھوڑی. آپ نے دیکھا تو اس سے فرمایا: اِعْقِلْھَا وَتَوَکَّلْ (۱’’اس کا گھٹنا باندھو اور اللہ پر توکل کرو!.‘‘ ٭ یعنی پہلے دنیا کے وسائل استعمال کرو اور پھر اللہ پرتوکل کرو.یہ نہ سمجھو کہ ان وسائل کی وجہ سے تمہاری مرضی کا نتیجہ نکل آئے گا‘ نتیجہ (۱) مشکلۃ الفقر للالبانی‘ ح:۲۲. اس مضمون کی احادیث سنن ترمذی‘ صحیح ابن حبان اور دیگر کتب حدیث میں بھی منقول ہیں.

٭ اس ضمن میں رسول اللہ کا یہ فرمان بھی لائق توجہ ہے: 

مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَۃِ إِنْ تَعَاہَدَہَا صَاحِبُہَا بِعُقُلِہَا أَمْسَکَہَا عَلَیْہِ وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَہَا ذَہَبَتْ (ابن ماجہ) 

’’قرآن کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جس کا گھٹنا بندھا ہوا ہو کہ اگر اس کا مالک اسے باندھے رکھے تو رکا رہتا ہے اور اگر کھول دے تو چلا جاتا ہے.‘‘ 
توبالآخر اللہ کی مرضی کے مطابق ہوگا‘لیکن وسائل اور ذرائع استعمال نہ کرنا غلط ہے.

خلیل جبران ایک عرب ادیب اور بہت مفکر قسم کا آدمی تھا‘اس کا ایک جملہ بہت پیارا اور بہت عمدہ ہے:’’عقل سے روشنی حاصل کرو‘ لیکن جذبے کے تحت حرکت کرو‘‘.عقل انسان کو حرکت نہیں کرنے دیتی ‘اس لیے کہ عقل کے معنی ہی روکنے کے ہیں.عقل روشنی اور چراغ کی مانند تو ہے کہ راستہ دکھادیتی ہے‘لیکن جب راستہ نظر آجاتا ہے تو پھر عافیت اور مصلحت کے نام پر چلنے میں قدم قدم پر رکاوٹ ڈالتی ہے. جیسے اقبال نے کہا ہے ؎

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی!

آگ میں کود جانا عقل کے تحت تو نہیں ہو سکتا‘اس لیے کہ عقل تو جان بچانے کا کہتی ہے. حضرت خباب بن الارتh کے لیے جب آگ کے انگارے زمین پر بچھا دیے گئے اورا ن سے کہا گیا کہ ان پر لیٹ جاؤ تو وہ لیٹ گئے. اس لیے کہ حضور کا حکم تھا کہ جو بھی تکلیف آئے اسے اللہ کی طرف سے آزمائش سمجھو اورکوئی جوابی کارروائی نہ کرو! یہ ہے اصل میں عشق اور یقین جس کے تحت آدمی حرکت کر سکتا ہے.دوسری طرف عقل کا معاملہ یہ ہے کہ وہ قدم قدم پر اَڑنگے لگائے گی‘ آپ کو مصلحت سکھائے گی اور اپنے جان و مال کو بچانے کا مشورہ دے گی.