پہلی وصیت:اللہ کا تقویٰ اختیار کرو!

رسول اللہ نے سب سے پہلی وصیت یہ فرمائی: اُوْصِیْـکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ’’ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی‘ جو بہت زبردست ‘ بہت بلند و بالا ہے‘‘ بعض روایات میں الفاظ آتے ہیں کہ آپؐ فرمایا کرتے تھے : اُوْصِیْـکُمْ وَنَفْسِیْ بِتَقْوَی اللّٰہِ ’’میں تمہیں بھی وصیت کرتا ہوں اور اپنے نفس کو بھی وصیت کرتا ہوں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی‘‘ یعنی اللہ کی عظمت‘ جلالت ِشان‘اس کے مواخذے اور اس کے محاسبے کا ایک احساس دل کے اندر قائم رہنا چاہیے.یہ بات تو ایک مؤمن کی معراج ہے کہ اس کو یہ یقین ہوجائے کہ گویا وہ اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو کم ازکم یہ کیفیت تو ضرور ہونی چاہیے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے اور میں اللہ کے حضور میں ہوں. (I am in His presence) اس کے نتیجے میں تقویٰ پیدا ہوگا کہ اب بچ بچ کر چلنا ہے کہ کہیں کوئی غلط کام نہ ہوجائے‘میرے اعضاء وجوارح سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہوجائے جو اللہ کی ناراضگی کا سبب بنے اورنہ کوئی ایسا خیال دل میں آنے پائے.اگر دل میں ایمان کے خلاف یا کسی گناہ اور برائی کاکوئی وسوسہ آجائے تو انسان لاحول ولاقوۃ الا باللہ یا تعوذ پڑھ کر اللہ کی پناہ میں آجائے اور اس برائی سے نفرت کا اظہارکرے.وسوسہ اندازی کا اختیارتو اللہ نے شیطان کو دیا ہوا ہے.سورۃ الناس میں ہے: الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ ۙ﴿۵﴾ ’’جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے‘‘.لہٰذا وسوسہ تو آسکتا ہے‘ لیکن ایمان کی علامت یہ ہے کہ پھر انسان کو شدید دکھ ہو کہ میرے دل میں یہ وسوسہ کیوں آیا.بہرحال تقویٰ یہ ہے کہ نہ تو میرے دل میں کوئی ایسی بات آئے اور نہ میرے اعضاء وجوارح میری زبان‘میرے ہاتھ‘میرے پاؤں‘میری آنکھوں اورمیرے منہ سے کوئی ایسا فعل سرزد ہو جو اللہ کی ناراضگی کا باعث بنے. 

تقویٰ کا ترجمہ عام طور پر ’’ڈر‘‘ کر دیا جاتا ہے‘ جو اچھا ترجمہ نہیں ہے. غلط میں نہیں کہہ رہا ‘اس لیے کہ ڈر کا مفہوم بھی اس میں شامل ہے. تقویٰ کا اصل مفہوم ’’بچنا‘‘ ہے ‘یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کو توڑنے سے بچنا. اب یہ بچنا خوف کے تحت بھی ہو سکتا ہے اور محبت کے تحت بھی. جیسے ایک سعادت مند بیٹا باپ کے خوف سے کسی کام سے رک جاتا ہے کہ باز پرس ہو جائے گی‘ مار پیٹ ہو جائے گی‘ سزا مل جائے گی. یہ رکنا خوف کی وجہ سے ہے‘مگر بعض اوقات بیٹا اپنے باپ کی محبت کی وجہ سے بھی کسی کام سے رک جاتا ہے کہ میرے ایسا کرنے سے ابا کا دل خراب نہ ہو جائے‘ ابا کو اس سے رنج نہ پہنچے‘ میری اس حرکت سے ان کا دل نہ ٹوٹے.اب یہ محبت اورعظمت کے تحت ناراضگی سے بچنا ہے. لہٰذا تقویٰ میں یہ دونوں پہلو ہونے چاہئیں. آج کل انگریزی میں اس کا ترجمہ God consciousness کیا جا رہا ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ اچھا ترجمہ ہے.

ہمارے ہاں بدقسمتی سے تقویٰ کا ترجمہ بھی ڈر کر دیا گیا‘انذار کا ترجمہ بھی ڈرانا کردیا گیا اور خوف کے تو معنی ہی ڈر کے ہیں ‘تو ان مختلف الفاظ کا ایک ہی ترجمہ کرنے سے عیسائیوں کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ قرآن مجید خوف کے جذبے کو زیادہ حرکت میں لاتا ہے اورخوف ایک منفی (negative) جذبہ ہے‘ جبکہ بائبل اور حضرت مسیح علیہ السلام کے وعظ محبت کے جذبے کو اُبھارتے ہیں. حقیقت میں ایسا نہیں ہے‘قرآن مجید میں بھی یہ سب پہلو موجودہیں ‘ اس میں کوئی شک کی بات نہیں‘ لیکن مختلف الفاظ کے ایک جیسے ترجمے کرنے سے ایسا تاثرملتا ہے جیسے مجموعی طور پر (over all) یہاں پر ڈر اور خوف کی بات کی جا رہی ہے.چنانچہ واضح رہنا چاہیے کہ تقویٰ کے معنی ڈرنے کے نہیں‘بچنے کے ہیں. جیسے فرمایا گیا: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَہۡلِیۡکُمۡ نَارًا ’’اے اہل ایمان! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ!‘‘