دوسری وصیت:سنو اور مانو (امیر کی اطاعت کرو)

رسول اللہ  نے دوسری وصیت یہ فرمائی: وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ ’’(میں تمہیں وصیت کرتا ہوں) سمع و طاعت کی یعنی سنو اور مانو‘‘.سمع و طاعت درحقیقت دین کی ایک خاص اصطلاح ہے. قرآن مجید کا جو بھی حکم آیااسے سنو اور اس کو مانو‘مزید یہ کہ اس کے مطابق عمل کرو. یہ نہیں کہ پہلے ہمیں سمجھایا جائے کہ اس میں کیا حکمت اور کیا فائدہ ہے. بلکہ اللہ کو مانتے ہو تو جو حکم آیا اس کو بھی مانو. اس میں کوئی چون و چرا اور کیوں‘کیسے نہیں ہونا چاہیے. اسی طرح رسول اللہ کی طرف سے بھی جوحکم آیا اس کو بھی بلاتردّد مانو. قرآن مجید میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے: اِذۡ قُلۡتُمۡ سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ۫ (المائدۃ:۷’’کہ جب تم نے کہا کہ ہم نے (اللہ کا حکم)سنا اور اسے مانا‘‘.لہٰذا سننے اور ماننے کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ہونا چاہیے. ایک طرزِعمل یہ ہوتا ہے کہ سن تو لیا ہے‘لیکن ابھی غور کر رہے ہیں کہ اچھی بات ہے کہ نہیں‘ صحیح ہے کہ نہیں‘ اس میں مصلحت کیا ہے‘ اس میں تو یہ اندیشے ہیں‘ اس سے بہتر تو یہ رائے ہے ‘وغیرہ. اگر کسی حکم میں اس طرح کا لیت و لعل ہو جائے گا تو پھرڈسپلن نہیں رہے گا.

آپ کو معلوم ہے کہ اوّلاً مسلمانوں کی حیثیت ایک انقلابی جماعت کی سی تھی اور انقلابی جماعت میں جب تک سمع و طاعت اور ڈسپلن نہیں ہو گا‘انقلاب برپا نہیں ہوسکتا. اُس وقت مسلمانوں کی جماعت میں ایسا ڈسپلن تھا جیسے فوج کا ڈسپلن ہوتا ہے. فوج میں پہلا قانون ہی یہ ہے : listen and obey ’’سنو اور مانو!‘‘ اگر کوئی ماتحت فوجی اپنے افسر سے کہے: جناب !آپ جو حکم دے رہے ہیں ‘ پہلے بتایئے کہ اس کی حکمت کیا ہے‘ فائدہ اور مصلحت کیاہے‘ آپ کے سامنے اس کا کیا مقصد ہے؟اگرایسا ہے تو پھریہ فوج نہیں رہی‘ کچھ اورہی ہو گیاہے. فوج میں تو بس listen and obey کا اصول چلتا ہے .ہم نے میٹرک میں ایک بڑی پیاری نظم پڑھی تھی: 

"The Charge of the Light Brigade" 

’’لائٹ بریگیڈ‘‘ بمعنی برق رفتار یا روشنی کی طرح تیز رفتاری کے ساتھ چلنے والا.چھ سو گھڑ سواروں پر مشتمل اس بریگیڈ نے فوجی ڈسپلن کی اعلیٰ ترین مثال قائم کر کے دکھا دی. ان کو اپنے کمانڈر کی طرف سے پیش قدمی کا حکم ملا ‘جبکہ انہیں معلوم تھا کہ : 

Cannon to right of them
Cannon to left of them
Cannon in front of them

یعنی دشمن نے تینوں اطراف دائیں‘ بائیںاور سامنے توپیں نصب کر رکھی ہیں اور اس وقت پیش قدمی یقینی طور پر موت کے منہ میں جانے کے مترادف ہے. لہٰذا سب نے سمجھا: 

Some one had blundered 

کہ کسی نے بہت بڑی غلطی کی ہے جو پیش قدمی کا حکم دیا ہے‘ لیکن

Theirs not to make reply
?Theirs not to reason why
Theirs but to do and die! 

ان کا کام یہ نہیں تھا کہ وہ اس کا جواب مانگتے یا وجہ طلب کرتے‘ بلکہ ان کا کام بہرصورت اس حکم پر عمل کرنا تھا. موت آتی ہے تو آئے‘ چنانچہ: 

Into the valley of death 
Rode the six hundred. 

چھ سو کے چھ سو افراد موت کی وادی میں اتر گئے اور سب ہلاک ہو گئے‘ کیونکہ تین طرف سے توپیں آگ برسا رہی تھیں اور اس کا یہی نتیجہ نکلنا تھا. آپ نے بھی فرمایا کہ میں تمہیں سمع و طاعت کی وصیت کرتا ہوں . 

دورِ نبوی میں مسلمانوں کی جماعت میں سمع و طاعت کا ڈسپلن لاگو تھا اور بعد میں یہی معاملہ خلافت راشدہ میں تھا.ان دونوں ادوار میں ایک فرق بھی تھا‘وہ یہ کہ حضور کے معاملے میں سوال کرنے کا اختیار بھی نہیں تھا‘جبکہ خلافت راشدہ کے دور میں سوال کیا جاسکتا تھا .اس ضمن میں ایک واقعہ بھی مشہور ہے کہ ایک دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے‘ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا: لاَ سَمْعَ وَلَا طَاعَۃ ’’نہ ہم سنیں گے اور نہ مانیں گے‘‘.اب یہ کلمہ بغاوت حضرت سلمان فارسیؓ کے سوا کوئی اور شخص نہیں کہہ سکتا تھا سلمان فارسیؓ کے بارے میں توحضور نے فرمایا کہ سلمان تو ہمارے اہل بیت میں شامل ہے.پھران کی ایک لمبی داستان ہے کہ طلب ِحق کی خاطر کون کون سی وادیوں اور مرحلوں سے گزر کر حضور کے قدموں تک پہنچے ہیں انہوں نے کہہ دیا : لاَ سَمْعَ وَلَا طَاعَۃَ. اس پر حضرت عمرؓ نے برانہیں منایا ‘ بلکہ پوچھا: کیوں؟ کہنے لگے : آپؓ نے جو کرتاپہنا ہوا ہے‘ یہ اُن یمنی چادروں کا بنا ہوا ہے جو مالِ غنیمت میں آئی تھیں‘ اور ہر مسلمان کو ایک ایک چادر ملی تھی‘ جس میں کرتا نہیں بنتا‘جبکہ آپ تو ہم میں طویل القامت ہیں تو آپ کا کُرتا کیسے بن گیا؟گویا الزام عائد کیا گیا کہ آپؓ نے عام مسلمان سے زیادہ حصہ لیا ہے. حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: عبداللہ!تم اس کا جواب دو. انہوں نے کھڑے ہو کر وضاحت کی کہ میرے حصے میں بھی ایک چادر آئی تھی‘ جس سے میرا کرتانہیں بن رہاتھا اور ابا جان کی چادر سے اُن کا کرتا نہیں بن رہا تھاتو میں نے اپنے حصے کی چادران کو دے دی تو اس سے یہ کرتا بن گیا. یہ وضاحت سن کر حضرت سلمانؓ نے کہا: اَلْآنَ نَسْمَعُ وَنُطِیْعُ ’’اب ہم سنیں گے بھی اور مانیں گے بھی‘‘. یعنی یہ مغربی جمہوریت والی بات نہیں ہے کہ اپوزیشن نے ہرحال میں مخالفت (oppose) ہی کرنی ہے‘ ہرحال میں ٹانگیں گھسیٹنی ہی گھسیٹنی ہیں. نہیں‘ جب ایک بات کی وضاحت ہو گئی تو اب وہ معاملہ ختم ہوا.