حبشی غلام کی اطاعت بھی لازم ہے اگر وہ حاکم بن جائے

آگے ایک اہم نازک مسئلہ آ رہا ہے. آپ نے فرمایا: وَاِنْ تَاَمَّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ ’چاہے تم پر کوئی حبشی غلام ہی حکمران بن بیٹھے( تو اس کی اطاعت بھی تم پر لازم ہے)‘‘.یہ اس اعتبار سے ذرا نازک مسئلہہے کہ یہاں لفظ تَاَمَّرَ آیا ہے. اس کو سمجھ لیجیے . ایک ہے باب تفعیل اور ایک ہے باب تفعل‘ ان میں فرق ہے. مثلاً تعلیم (بروزنِ تفعیل) کا معنی ہے کسی کو علم سکھانا‘ اور تعلّم (بروزن تفعُّل) کا معنی ہے خود علم حاصل کرنا. مادہ ایک ہی ہے لیکن باب تبدیل ہونے سے معنی میں نمایاں فرق ہوگیا. اسی طرح اَمَّرَ ‘ یُـؤَمِّرُ تَاْمِیْراً (تفعیل) کا معنی ہے کسی کو امیر بنانا اور تَاَمَّرَ ‘یَتَاَمَّرُ تَاَمُّرًا (تفعّل) کا معنی ہے خود امیربن جانا.زیر مطالعہ حدیث میں لفظ تَاَمَّر آیا ہے‘ اس اعتبار سے معنی یہ ہوگا کہ اگر کوئی حبشی غلام اپنی قوت اور طاقت کے بل بوتے پر خود امیر بن جائے تو بھی اس کی اطاعت لازم ہے.یہ مسئلہ بڑا ٹیڑھا ہے. (۲(۱) سنن الترمذی‘ ابواب الفتن‘ باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ. 

(۲) حضرت عرباض بن ساریہؓ سے مروی زیر مطالعہ روایت حافظ ابن قیمؒ نے 
’’اعلام الموقعین‘‘ (۴؍۱۱۹میں اور حافظ منذریؒ نے ’’الترغیب والترہیب‘‘ (۱؍۶۰میں درج کی ہے اور علامہ البانی ؒ نے ’’صحیح الترغیب والترہیب‘‘ میں اسے صحیح قرار دیا ہے. امام نوویؒ نے اپنی ’’اربعین‘‘ میں اسے ترمذی اور ابوداؤد کے حوالے سے درج کیا ہے .لیکن ترمذی اور ابوداؤد کے علاوہ سنن ابن ماجہ ‘ مسند احمد اور سنن دارمی میں بھی عرباض بن ساریہؓ ‘ کی روایت جن الفاظ میں نقل ہوئی ہے ان میں ’’تأمَّر علیکم‘‘ کے الفاظ شامل نہیں ہیں‘بلکہ ’’اِنْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ‘‘ اور ’’اِنْ کَانَ عَبْدًا حَبَشِیًّا‘‘ جیسے الفاظ آئے ہیں‘ یعنی امیر حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو‘ اس کا حکم سننا اور ماننا ضروری ہے. تاہم امام نوویؒ نے صحیح مسلم کی شرح میں اسی مضمون کی ایک اور حدیث مبارک وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ یَقُوْدُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوْا لَــہٗ وَاَطِیْعُوْا کے ذیل میں لکھا ہے کہ ’’ایک غلام اگر غلبہ حاصل کر کے از خود امیر بن بیٹھے اور امورِ سلطنت کتاب و سنت کے مطابق انجام دے تو اس کی اطاعت لازم ہے. البتہ عام حالات میں جبکہ امیر کا انتخاب مسلمانوں کی آزادانہ رائے سے ہو رہا ہے‘ کسی غلام کو امیر منتخب کرنا درست نہیں ہو گا‘‘. (حاشیہ از مدیر) 

ایک تو ہے اسلام کا آئیڈیل نظام.اس میں تو امارت مسلمانوں کے باہمی مشورے سے ہوگی.اب کوئی نبی نہیں آئے گا‘لہٰذا مسلمانوں میں سے ہی کسی کو اپنا امیربنانا ہے تو اس کے لیے مشورہ ہو گا اورامیر کے انتخاب کے بعد اس کے ہاتھ پر بیعت ہوگی. بعض لوگ بیعت اور الیکشن کو گڈمڈ (confuse) کرتے ہیں. یہ دونوں چیزیں بالکل مختلف ہیں.الیکشن مشورے کے قائم مقام ہے جبکہ بیعت مشورے کے بعد ہے. جیسے ثقیفہ بنی ساعدہ میں پہلے مشورہ ہوا . انصار نے کہا کہ اسلام کو عزت اور غلبہ ہماری مدد سے ہوا ہے‘ لہٰذا خلافت ہمارا حق ہے. لیکن عرب تو قریش کے سوا کسی کی سیادت کو نہ جانتے تھے اور نہ مان سکتے تھے .تو پھر نظم کیسے قائم ہو گا؟جب اس صورتِ حال کی اطلاع ملی تو حضرات ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما فوری طور پر وہاں پہنچے کہ کہیں جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ ہو جائے اور ایک دفعہ اگر بیعت منعقد ہو گئی تو پھر اس کو ختم کرنا ممکن نہیں ہو گا. اس لیے جلدی آئے اہل تشیع ان دونوں (صاحبین) پر الزام لگاتے ہیں کہ ابھی حضور کی تدفین نہیں ہوئی اور یہ لوگ وہاں خلافت کے مشورے کے لیے آ گئے. دوسری طرف حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما جو آپؐ کے قریبی اعزہ اور رشتہ دار تھے‘ وہ تجہیز و تکفین کے معاملے میں لگے ہوئے تھے وہاں پر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ رسول اللہ کی یہ حدیث پیش کی گئی : اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ (۱چنانچہ (۱) المعجم الاوسط للطبرانی :۴/۲۶ و ۶/۲۵۷. السنن الکبریٰ للبیھقی:۸/۱۴۴. راوی:انس بن مالک ص- مشورے کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا گیا اور پھر ان کے ہاتھ پر بیعت ہوئی . اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مشورے سے نامزد کیا تھا اور پھر بیعت ہوئی تھی.