امامت متغلب ّکا معاملہ

یہ تو ہے اسلام کا آئیڈیل نظام کہ مسلمانوں کی مشاورت سے امیر منتخب ہوگا‘ لیکن اگر ایک شخص خود اپنی طاقت سے زبردستی امیر بن جاتا ہے تو آیا اس کی اطاعت بھی لازم ہے یا نہیں؟اصطلاح میں اس کو ’’امامت متغلب‘‘ کہا جاتا ہے‘یعنی خود غلبہ لے لینا‘ طاقت کے بل پر خود قابض ہو جانا امامت متغلب جائز ہے یا نہیں‘اور پھر ایسے امام کی اطاعت لازم ہے یا نہیں؟ فقہاء اور ائمہ حدیث کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ چاہے کوئی زبردستی اپنی طاقت کے بل بوتے پر امیر بن بیٹھے توجب تک وہ اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق حکم دے تو اس کی اطاعت لازم ہے. یہ وہ چیز ہے جس کی بنا پر اسلامی جماعت میں دورِ خلافت راشدہ کے بعد بھی نظم قائم رہا.

خلافت راشدہ کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی قوت کے بل بوتے پر خلیفہ بنے ہیں‘جبکہ لوگوں کے مشورے سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت ہو چکی تھی. حضرت علی رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت جب قریب آیا تو ان سے پوچھا گیاکہ کیا ہم آپ کے بعد حسنؓ کو خلیفہ بنا لیں؟ انہوں نے کہا: نہ میں روکتا ہوں اور نہ میں اس کا حکم دیتا ہوں‘یہ تمہارا معاملہ ہے اور تم اسے باہمی مشورے سے طے کر لو. مشورہ ہوا اور حضرت حسنؓ خلیفہ بن گئے. دوسری طرف امیر شام حضرت امیر معاویہؓ فوج لے کر آ گئے اور خانہ جنگی کا خدشہ پیدا ہو گیا. اس سے پہلے جنگ صفین میں ۷۴ہزاراور جنگ جمل کی ایک رات میں دس ہزار مسلمان شہید ہوئے تھے. اب بھی جنگ کا خدشہ پیدا ہوا تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ مصلحت سے کام لیتے ہوئے خلافت سے دستبردار ہو گئے اور خلافت حضرت معاویہؓ کے حوالے کر دی. اسی وجہ سے آپ کو خلیفہ راشد نہیں کہا جاتا کہ وہ لوگوں کے مشورے سے نہیں‘بلکہ اپنی قوتِ بازو اور طاقت کے بل پر خلیفہ بنے تھے. لیکن یہ صورت بھی جائز ہے‘ حرام نہیں ہے.(اس پر تفصیلی گفتگو آگے ہوگی.)