دین کی بنیاد اوراس کا ستون

اس کے بعد یوں سمجھئے کہ حضور کا دریائے سخاوت مزید جوش میں آیا اور آپ نے حضرت معاذ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا: اَلَا اُخْبِرُکَ بِرَأْسِ الْاَمْرِ وَعَمُوْدِہٖ وَذِرْوَۃِ سَنَامِہٖ؟ ’’(اے معاذ!) کیا میں تمہیں یہ نہ بتائوں کہ دین کی جڑ (بنیاد) کیا ہے اور اس کا عمود (ستون) کیا ہے اور اس کا بلند ترین عمل کون سا ہے؟‘‘عام طور پر اکثر لوگوں کودین کے مختلف اعمال کے بارے میں تومعلوم ہوتا ہے‘ لیکن دین کے مختلف اعمال کے مابین باہمی نسبت کیا ہے ‘کیا چیز مقدم ہے اور کیا ثانوی حیثیت رکھتی ہے‘کس چیز کا کس کے ساتھ منطقی ربط ہے‘ یہ درحقیقت حکمت ِدین کا (۱) صحیح البخاری‘ کتاب بدء الخلق‘ باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ . وصحیح مسلم‘ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا. یہ حدیث بخاری و مسلم اور صحاح ستہ کی دیگر کتب کے متعدد ابواب میں بیان ہوئی ہے. خاص موضوع ہے اوراس کے بارے میں سب کوعلم نہیں ہے زیر مطالعہ روایت میں رسول اللہ نے پورے دین کو ایک درخت سے تشبیہہ دی ہے. ایک ہے اس کی جڑ اور بنیاد‘ ایک ہے اس کا تنااور پھر درخت کی سب سے قیمتی چیز اس کی چوٹی ہے جہاں پھل لگتا ہے. جیسے آم کے درخت کی جڑیں بھی ہیں اور اس کا تنا بھی ہے‘پھراس تنے کے اوپر شاخیں پھیلتی ہیں جن میں پتے اوراصل شے آم لگتے ہیں. اسی طرح گلاب کے پودے کی جڑ میں پھول نہیں لگتے اور نہ ہی اس کے تنے میں لگتے ہیں‘ بلکہ پھول تو اس کے اوپر چوٹی پر لگتے ہیں. 

حضور اکرم نے حضرت معاذ سے فرمایا کہ میں تمہیں دین کی جڑ‘ اس کے عمود اور اس کی چوٹی کے بارے میں بتاؤں؟ حضرت معاذ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں‘ضرور فرمایئے.آپ نے فرمایا: رَأْسُ الْاَمْرِ الْاِسْلَامُ ’’دین کی جڑ اور بنیاد اسلام ہے‘‘. ایک تو ہے اسلام اپنے ارکان کے حوالے سے ‘لیکن یہاں اسلام سے مراد ارکانِ اسلام نہیں ہیں‘بلکہ یہاں اسلام اس معنی میں آیا ہے کہ پوری زندگی میں اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت!اسلام کے لغوی معنی ہیں: سرنڈر کر دینا‘ ہتھیار پھینک دینا .اس لفظ کے اندر اصل میں نقشہ یہ ہے کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں تو ان میں سے ایک نے اپنے ہتھیار پھینک دیے .گویا اُس نے سرنڈر کر دیا. اسی طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے سرنڈر کرنے کا نام اسلام ہے اور یہ درحقیقت دین کی جڑ اور بنیاد ہے.

دین کے ستون کے حوالے سے آپ نے فرمایا: وَعَمُوْدُہُ الصَّلَاۃُ ’’اس کا تنا نماز ہے‘‘. نماز کے بارے میں یہ بھی آیا ہے : اَلصَّلٰوۃُ عِمَادُ الدِّیْنِ ’’نماز دین کا ستون ہے‘‘.عِمَاد اورعَمُود کا مادہ ایک ہی (عمد) ہے . اگر دین کو عمارت سے تشبیہہ دیں تو اس کے معنی ستون کے ہوں گے اور اگر درخت سے تشبیہہ دیں تو اس کے معنی تنا کے ہوں گے.