دین کی پہلی چھت اور اس کی چار اصطلاحات

دین کے ان چار ستون پر اوپر کی تینوں چھتوں کا وزن ہے .پہلی چھت کے بارے میں آپ اچھی طرح نوٹ کرلیں کہ اس کے لیے چار اصطلاحات ہیں.

۱)اسلام: اسلام کے معنی ہیں:سرتسلیم خم کر دینا‘ ہتھیار ڈال دینا (to surrender). اس کے حوالے سے ہم تفصیلی گفتگو کرچکے ہیں.گویا ایک لڑائی ہو رہی تھی‘ اس میں آپ نے ہارتسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے ‘سرتسلیم خم کر دیا.

۲)اطاعت: یہ دوسری اصطلاح ہے.اطاعت یہ ہے کہ اپنی دلی مرضی اور خوشی کے ساتھ اللہ اور رسول  کا کہنا ماننا. ایک ہے مجبوری سے ماننا‘اسلام تو وہ بھی شمار ہو جائے گا اور اس سے بھی جان ومال کو تحفظ حاصل ہوجائے گا‘لیکن یہ اطاعت شمار نہیں ہوگی.جیسے اپنی جان بچانے کے لیے کسی کا اسلام کا اعلان کر دینا. حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بالفعل ایسا واقعہ پیش آیاتھا.ایک جنگ میں حضرت اُسامہؓ کا ایک مشرک سے دوبدومقابلہ ہوا. مشرک نے جب دیکھا کہ میری تو اب بس ہو گئی ہے اور اب میں کچھ نہیں کر سکتا تو اس نے فوراً سے کلمہ پڑھ دیا: اَشْھَدُ اَنْ لاَ اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہ. لیکن حضرت اسامہؓ نے اسے قتل کردیا.رسول اللہ کو جب اس کا پتا چلا تو آپؐ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا.حضرت اسامہؓ نے وضاحت پیش کی کہ حضور! اُس نے تو جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا .اس پر آپ نے فرمایا:کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا؟ اگرچہ اُس نے جان بچانے کے لیے ہی کلمہ ٔ شہادت پڑھا ہو‘لیکن ہمیں حکم یہی ہے کہ کسی کے کلمہ پڑھ لینے کے بعد اس پر تمہاری تلوار نہیں چلنی چاہیے‘ اس لیے کہ کلمہ بہت بڑی ڈھال ہے . لیکن اطاعت کا مفہوم یہ ہے کہ دلی آمادگی کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنا.اطاعت کے بارے میں قرآن مجید میں متعدد بار یہ حکم آیا ہے : اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ لیکن سورۃ النساء میں اللہ اور رسول کے ساتھ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ کو بھی شامل کیا گیا ہے.

۳)تقویٰ: تیسری اصطلاح ہے.یعنی پوری زندگی احتیاط کے ساتھ اور پھونک پھونک کرقدم رکھنا کہ کہیں حدود اللہ پامال نہ ہوجائیں‘کہیں غیر شعوری طور پر بھی اللہ اور رسول کی نافرمانی کا ارتکاب نہ ہوجائے.زیر مطالعہ حدیث میں ہم نے یہ الفاظ پڑھ لیے ہیں: وَحَدَّ حُدُوْدًا فَلَا تَعْتَدُوْھَا کہ اللہ تعالیٰ نے جو حدود مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو. اور سورۃ البقرۃ میں تو آیا ہے : فَلاَ تَقْرَبُوْہَا کہ ان کے قریب بھی نہ جاؤ. اس کا نام تقویٰ ہے. تقویٰ کے حوالے سے ہم یہ آیت پڑھ چکے ہیں: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ (آل عمران:۱۰۳’’اے اہل ایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جتنا کہ اس کے تقویٰ کا حق ہے.‘‘

۴)عبادت: دین کی پہلی چھت کے حوالے سے اب تک تین چیزیں بیان ہوئی ہیں: (۱)اسلام یعنی سرنڈر کرنا‘ (۲) اطاعت یعنی دلی آمادگی سے اللہ اور رسول کا حکم ماننا‘ اور (۳) تقویٰ یعنی پوری احتیاط ملحوظ رکھنا کہ کہیں قدم حدود اللہ سے تجاوز نہ کر جائیں. بلکہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ کچھ فاصلے پر رہیں اور اس کے قریب بھی نہ جائیں. اب ان سب کو جمع کریں تو ایک لفظ بنتا ہے: عبادت ! اللہ کی محبت کے جذبہ سے سرشار ہو کر ہمہ تن‘ ہمہ وقت‘ ہمہ وجوہ اللہ کی بندگی اور اطاعت کرنا عبادت ہے. درحقیقت یہ پہلی چھت کے لیے چار اصطلاحات ہیں اور یہ چاروں بہت قریب قریب ہیں ‘لیکن ان چاروں اصطلاحات کو الگ الگ ذہن میں رکھئے ‘اس لیے کہ قرآن مجید کے مضامین اور اس کی حکمتوں کو سمجھنے اور جاننے کے لیے ان سے واقفیت حاصل کرنا بہت ضروری ہے. 

عبادت کے حوالے سے میں تفصیل سے گفتگو کر چکا ہوں کہ عبادت کے لیے یہ عبادات (یعنی نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ) فرض کر دی گئی ہیں. افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر و بیشتر لوگ صرف ان عبادات کو ہی عبادت سمجھ بیٹھے ہیں.حالانکہ عبادت تو یہ ہے کہ ہمہ تن‘ ہمہ وقت‘ ہمہ وجوہ اللہ کی اطاعت اس کی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر کرنا. کیا آپ ۲۴ گھنٹے نمازپڑھتے ہیں؟ کیا آپ روزانہ روزہ رکھتے ہیں؟ ظاہر بات ہے کہ یہ چاروں تو عبادات ہیں ‘جو شامیانے کے چار بانسوں کی مانند ہیں‘جبکہ عبادت گویا اصل شامیانہ ہے.