دین کی دوسری چھت اور اس کی چار اصطلاحات

جیسے میں نے نقشہ میں آپ کو بتایا کہ دین کی عمارت میں چار ستون ہیں اور ان ستونوں کے اوپر پہلی چھت بھی ہے اورپھر انہی کے اوپر دوسری چھت بھی پڑی ہوئی ہے.جیسے پہلی چھت کے لیے چار اصطلاحات تھیں اسی طرح اس دوسری چھت کے لیے بھی چار الفاظ/اصطلاحات نوٹ کرلیجیے.

۱)تبلیغ: یعنی اللہ کے دین اور اللہ کی کتاب کی تبلیغ. نبی اکرم کو حکم دیا گیا: یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ (المائدۃ:۶۸’’اے رسول( ) پہنچا دیجیے جو کچھ نازل کیا گیاہے آپؐ کی طرف آپؐ کے رب کی جانب سے‘‘.اس میں کوئی کتمان نہیں کرنا ہے اور نہ اس ضمن میں خود سے کوئی فیصلہ کرنا ہے کہ اس بات کو پہنچا دوں اور یہ نہ پہنچاؤں‘ بلکہ تمام کا تمام پہنچانا آپ پر فرض ہے. حضور اکرم نے وہ آیات بھی امت تک پہنچائی ہیں جن میں بظاہر احوال اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر عتاب ہوا ہے. مثلاً: یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ۚ (التحریم:۱’’اے نبی ( ) آپ کیوں حرام ٹھہرا رہے ہیں (اپنے اوپر) وہ شے جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے؟‘‘اسی طرح سورۂ عبس کی ابتدائی آیات کا معاملہ ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی ۙ﴿۱﴾اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی ؕ﴿۲﴾ …. حضوراکرم نے خود فرمایا کہ یہ آیات عبداللہ بن اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کے بارے میں اُتری ہیں حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا صحابی تھے .ایک دن وہ حضوراکرم کے پاس اُس وقت آئے جب قریش کے بڑے بڑے سردار آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اورآپؐ انہیں تبلیغ کر رہے تھے. حضور اکرم اپنی ذاتی منفعت کے لیے تو کچھ نہیں کر رہے تھے ‘بلکہ آپؐ تو مسلمانوں ہی کی بھلائی کے لیے یہ سب کررہے تھے کہ اگر یہ بڑے سردار ایمان لے آئیں تو اس وقت جو غریب مسلمانبیچارے ستائے جا رہے ہیں‘ ان کو کچھ نہ کچھ ریلیف مل جائے گا. جیسے حضرت عمر اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہما اسلام میں داخل ہوئے تو بہت سے مسلمانوں کو بہت کچھ ریلیف ملا تھا. لیکن عبد اللہ بن اُم مکتومؓ کو چونکہ پتا نہیں تھا تو وہ بار بار حضور کو اپنی طرف متوجہ کررہے تھے. اس پر حضور اکرم کو کچھ ناگواری کا احساس ہوا اور آپؐ کے ماتھے پر بل پڑ گئے .اس پر سورۂ عبس کی یہ آیات نازل ہو گئیں: 

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی ۙ﴿۱﴾اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی ؕ﴿۲﴾وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰۤی ۙ﴿۳﴾اَوۡ یَذَّکَّرُ فَتَنۡفَعَہُ الذِّکۡرٰی ؕ﴿۴﴾اَمَّا مَنِ اسۡتَغۡنٰی ۙ﴿۵﴾فَاَنۡتَ لَہٗ تَصَدّٰی ؕ﴿۶﴾وَ مَا عَلَیۡکَ اَلَّا یَزَّکّٰی ؕ﴿۷﴾وَ اَمَّا مَنۡ جَآءَکَ یَسۡعٰی ۙ﴿۸﴾وَ ہُوَ یَخۡشٰی ۙ﴿۹﴾فَاَنۡتَ عَنۡہُ تَلَہّٰی ﴿ۚ۱۰﴾ 

’’ تیوری پر بل پڑ گئے اور انہوں نے رخ موڑ لیا ‘اس لیے کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا. اور (اے نبی ) آپ کو کیا معلوم شاید کہ وہ تزکیہ حاصل کرتا‘یا وہ نصیحت حاصل کرتا اور وہ نصیحت اس کے لیے مفید ہوتی.لیکن وہ جو بے نیازی دکھاتا ہے‘ آپ اس کی فکر میں رہتے ہیں.اور اگر وہ پاکی اختیار نہیں کرتا تو آپ پر کوئی الزام نہیں.اور وہ جوآپؐ کے پاس چل کر آیا ہے‘اور اس کے دل میں خشیت بھی ہے‘اس سے آپؐ استغناء برت رہے ہیں.‘‘

ان آیات کے نزول کے بعد عالم یہ تھا کہ عبداللہ بن اُم مکتومؓ جب بھی آتے تھے تو آپ فرمایا کرتے تھے : مَرْحَبَا بِالَّذِیْ اَعْتَبِیَ اللّٰہُ مِنْہُ ’’مرحبا اس شخص کے لیے جس کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر عتاب فرمایا‘‘. بہرحال یہ ہے تبلیغ اور اللہ کے رسول نے یہ فریضہ مکمل طور پر ادا کیا.

۲)دعوت: دوسری چھت کے ضمن میں یہ دوسری اصطلاح ہے. دعوت اور تبلیغ تقریباً ہم معنی لفظ ہیں لیکن ان میں کچھ فرق بھی ہے .میں ان چیزوں کا ربط آپ کے سامنے ظاہر کر رہا ہوں. تبلیغ میں آپ خود پہنچ کر بات پہنچاتے ہیں جس کو انگریزی میں کہتے ہیں: 

Reach out to others to convey the meesage of Allah 

جبکہ دعوت میں آپ اس بندہ کو اللہ کی طرف کھینچ کر لاتے ہیں. درحقیقت یہ ایک ہی عمل کے دو پہلو ہیں. تبلیغ یعنی بات کا پہنچانا اور دعوت یعنی کسی کو بلانا اور کھینچ کر لانا.

۳)امربالمعروف ونہی عن المنکر: یہ انہی دوباتوں یعنی دعوت وتبلیغ کے ضمن میں دوسری چھت کی تیسری اصطلاح ہے. ’’واضح رہے کہ ’’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘‘ (بھلائی کا حکم دینا اور بدی سے روکنا) ایک ہی اصطلاح ہے. یہ دو نہیں‘بلکہ ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں. چنانچہ قرآن مجید میں دس مرتبہ یہ اسی طریقے سے جڑے ہوئے آئے ہیں. یہاں یہ یادرکھیے کہ امر بالمعروف تو ہر سطح پر ہوگا‘ البتہ نہی عن المنکر صرف وہیں ہو گا جہاں آپ کو اختیار حاصل ہے. آپ کو اپنے گھر میں اختیار حاصل ہے کیونکہ آپ سربراہِ خاندان ہیں. آپ کا بچہ نماز نہیں پڑھ رہا تو آپ اسے مار سکتے ہیں‘لیکن آپ پڑوسی کے بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مار نہیں سکتے. ہاں نیکی کی تلقین ہر وقت کی جا سکتی ہے . زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ کوئی آپ کو جھڑک دے گاکہ کہاں سے آئے تم مجھے ہدایت کرنے اور سمجھانے ؟ چنانچہ امر بالمعروف تو ہمیشہ کرنا ہے‘ لیکن نہی عن المنکر اپنے دائرہ اختیار میں.خاص طور پر بڑے پیمانے پر یہ اُس وقت ہو گا جب اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی اور یہ حکومت کا فرض ہو گا.اس بارے میں فرمایا گیا: اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ (الحج:۴۱’’وہ لوگ کہ اگر انہیں ہم زمین میں تمکن عطا کر دیں تووہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے.‘‘ 

۴)شہادت علی الناس: اب ان تمام الفاظیعنی(۱) تبلیغ ‘(۲) دعوت اور(۳) امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو جمع کریں گے تو ایک لفظ بنے گا:شہادت علی الناس!اور یہ دین کی دوسری چھت کی دوسری اصطلاح ہے. دیکھئے دعوت وتبلیغ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر انفرادی سطح پر بھی کرنا ہے اور اجتماعی سطح پر بھی‘اور اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں پر اللہ کی طرف سے حجت قائم ہو جائے اوروہ قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکیں کہ اے اللہ ہم تک تو تیرا پیغام کسی نے پہنچایا ہی نہیں تو ہم سے مواخذہ کیسا؟ ہم سے محاسبہ کس بات کا؟ لہٰذایہ انبیاء اور رسولوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ لوگوں تک اللہ کے پیغام کو پہنچائیں‘ اس لیے کہ وہ تو بھیجے ہی اس مقصد کے لیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں پر حجت قائم کر دیں.اس بارے میں سورۃ النساء میں فرمایا گیا: رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۶۵﴾ ’’یہ رسول ؑ( بھیجے گئے) بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کر تاکہ نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت ( دلیل) رسولوں کے آنے کے بعد. اور اللہ زبردست ہے‘ حکمت والا ہے.‘‘

ختم نبوت کے بعد اب یہ مقصد بحیثیت مجموعی امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے. اُمت نے چونکہ اس میں کوتاہی کی ہے لہٰذا صدیوں سے اللہ کی سزا کی گرفت میں ہے. میری ایک کتاب ہے:’’ سابقہ اور موجودہ مسلمان اُمتوں کا ماضی ‘حال اور مستقبل‘‘. سابقہ اُمت مسلمہ یہود کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پرکیسے کیسے عذاب آئے اور کیوں آئے ‘حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی تھی.اس کا ذکر سورۃالبقرۃ میں دو دفعہ (آیت ۴۷ اور ۱۲۲)آیاہے : یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۷﴾ ’’اے یعقوب کی اولاد! یاد کرو میرے اُس انعام کو جو میں نے تم پرکیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت عطا کی تمام جہان والوں پر‘‘.لیکن تمہارے کرتوت یہ تھے کہ تم نے میری کتاب کو پس پشت ڈال دیا : وَ لَمَّا جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ نَبَذَ فَرِیۡقٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ ٭ۙ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ کَاَنَّہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾۫ (البقرۃ) ’’اور جب آیا اُن کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول (یعنی محمد ) تصدیق کرنے والا اُس کتاب کی جو ان کے پاس موجودہے تو اہل کتاب میں سے ایک جماعت نے اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا ‘گویا وہ جانتے ہی نہیں.‘‘ 

اب اس کی سزا مختلف مواقع پر ان کو ملی.کبھی آشوریوں کے ہاتھوں ان کا قتل عام ہوا‘کبھی بخت نصر کے ہاتھوں‘کبھی یونانیوں کے ہاتھوں‘کبھی رومیوں کے ہاتھوں. اس کے بعد پچھلی صدی میں جرمنوں کے ہاتھوں ان کا قتل عام ہواہے. یہ سارے عذاب اسی لیے آئے کہ انہوں نے بحیثیت اُمت مسلمہ اپنا فرض صحیح طریقے سے سرانجام نہیں دیا. ان میں کچھ نہ کچھ یقینا نیکوکار بھی ہوں گے. قرآن مجیدتو حضور کے زمانے کے یہودیوں کے بارے میں بھی فرماتا ہے : لَیۡسُوۡا سَوَآءً ؕ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتۡلُوۡنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآءَ الَّیۡلِ وَ ہُمۡ یَسۡجُدُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾ ’’یہ سب کے سب برابر نہیں ہیں.اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو (سیدھے راستے پر) قائم ہیں‘ رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں‘‘.مزید فرمایا کہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر ان کے پاس ڈھیروں سونا رکھوا دو تو وہ اس میں رتی برابر بھی خیانت نہیں کریں گے اور تمہیں جوں کا توں واپس کر دیں گے‘ لیکن ان میں سے ایسے بھی ہیں کہ ان کے پاس ایک دینار بھی رکھو ا دو تو وہ واپس نہیں کریں گے.جب کسی قوم کی اکثریت اس طرح کی ہوجائے تو پھر ان پر اللہ کا عذاب آتا ہے اور اس عذاب کی گرفت میں وہ نیکوکار بھی آجاتے ہیں.

نص قرآنی کے مطابق اس عذاب سے صرف وہ لوگ بچائے جاتے ہیں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہے‘یعنی خود بھی گناہوں سے رکے رہے اور دوسروں کو بھی روکتے رہے.البتہ جو خود تورکے رہے ‘لیکن دوسروں کو نہیں روکا تو وہ بھی عذاب کے اندر گھن کی طرح پس جاتے ہیں. چنانچہ سورۃ الانفال میں ارشاد ہوا: وَ اتَّقُوۡا فِتۡنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمۡ خَآصَّۃً ۚ (آیت ۲۵’’اور ڈرو اُس فتنے سے جو تم میں سے صرف گنہگاروں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا‘‘.یعنی یہ عذاب صرف ان کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا کہ جنہوں نے جرائم یا گناہ کیے‘ بلکہ وہ بے گناہ بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں گے جو خاموش رہے‘ جنہوں نے دعوت و تبلیغ نہیں کی اورجنہوں نے اپنی حد امکان تک لوگوں کو برائی سے نہیں روکا . ظاہر بات ہے وہ بھی مجرم شمار ہوں گے اور وہ بھی اس عذاب کی زد میں آجائیں گے.یہ ہے شہادت علی الناس!