جہاد ایمان کا جزوِ لازم اور رکن ہے!

میں نے آپ کو بتایا تھا کہ بنیاد (foundation) کے دو حصے ہوتے ہیں.بنیاد کا وہ حصہ جو زمین کے اوپر نظر آ رہا ہے (plinth level) وہ کلمہ شہادت ہے‘ جبکہ اس سے نیچے زیر زمین بنیاددلی یقین والا ایمان ہے. یہاں سے جہاد کا پودا پھوٹتا ہے اورپھر مختلف سطحوں پر اس کی شاخیں پھیلتی ہیں. آخر کار وہ اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے .لیکن یہ یاد رکھیے کہ جہاد ارکانِ اسلام میں سے نہیں ہے. بعض لوگ جہاد کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے جوش و جذبے میں اس کو بھی ارکانِ اسلام میں شامل کر دیتے ہیں ‘ حالانکہ ایسا نہیں ہے ‘اس لیے کہ ارکانِ اسلام حدیث جبریل اورحضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی متفق علیہ روایت کی رو سے پانچ ہی ہیں. اب مجھے یا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس میں کسی کا اضافہ کریں. لہٰذا جہاد ارکانِ اسلام میں سے نہیں ہے‘البتہ ارکانِ ایمان میں سے ہے.گویا اسلام کے تو پانچ ارکان ہیں: کلمہ شہادت‘ نماز‘ روزہ‘ حج اور زکوٰۃ‘ جبکہ ایمانِ حقیقی کے دو اضافی رکن ہو گئے: (i)دل میں یقین‘اور (ii)عمل میں جہاد. اس طرح ایمان کے ارکان سات ہو جائیں گے ‘کیونکہ اسلام والے پانچ ارکان تو لازماً شامل ہیں‘لیکن دو اضافی بھی ساتھ شامل ہو گئے.