قصاص میں زندگی ہے!

زیرمطالعہ حدیث میں بیان کی گئی دوسری بات بظاہر بڑی عجیب لگتی ہے.عام طور پر اخلاقی تعلیمات میں یہ تو کہا جاتا ہے کہ کسی پر ظلم نہ کرو‘لیکن یہ دوسرا پہلو نہیں بیان کیا جاتا کہ اللہ یہ بھی چاہتا ہے کہ تم اپنے اوپربھی کسی قسم کا ظلم برداشت نہ کرو. اپنے حق کے لیے پوری جدوجہد کرواور پھر بھی بات نہ بنے تو اپنے حق کے لیے جھگڑو ‘کیونکہ اگر تم ڈھیلے پڑ گئے تو ظالم کی ہمت افزائی ہوجائے گی. یہی وجہ ہے کہ قرآن مجیدمیں فرمایا گیا: 

وَ لَکُمۡ فِی الۡقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ 
(البقرۃ:۱۷۹
’’اے ہوش مندو! تمہارے لیے قصاص میں(یعنی بدلہ لینے میں)زندگی ہے.‘‘

عام طور پر اخلاقی تعلیمات میں کہا جاتا ہے کہ معاف کر دیا کرو. قرآن بھی کہتا ہے : وَ اِنۡ تَعۡفُوۡا وَ تَصۡفَحُوۡا وَ تَغۡفِرُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴﴾ (التغابن) ’’اور اگر تم معاف کر دیا کرو اور چشم پوشی سے کام لو اور بخش دیا کرو تو اللہ بہت بخشنے والا ‘نہایت مہربان ہے‘‘ .اگر تم اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتے ہو تو انسانوں کی زیادتیوں کو بھی معاف کیا کرو. تو یہ ہے اخلاقی سطح پر تعلیم‘ لیکن قانونی سطح پر یہ بھی تعلیم ہے کہ تمہارے لیے بدلہ لینے میں زندگی ہے. 

یہ توازن آپ کو صر ف آسمانی ہدایات میں مل سکتا ہے. عام انسان یا تو اِدھر انتہا کو نکل جائیں گے یا اُدھر انتہا کو نکل جائیں گے. آپ پر کسی نے ظلم کیا ہے ‘ زیادتی کی ہے ‘ آپ کو کسی نے تھپڑ مار دیا ہے. اگر تو آپ میں جوابی تھپڑ رسید کرنے کی ہمت نہیں تو پھر صبر کے سوا آپ کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے‘لہٰذا ’’قہر ٍدرویش برجانِ درویش‘‘ کے مصداق صبر کرو اور اگر آپ میں طاقت ہے تو آپ کے سامنے دو راستے ہیں ‘یا تو آپ معاف کر دیں یا بدلہ لے لیں. معاف کرتے وقت بھی انسان کو دیکھنا چاہیے کہ آیا معاف کرنے میں مصلحت زیادہ ہے یا بدلہ لینے میں.اس حوالے سے ہر کیس کا معاملہ علیحدہ ہو جائے گا . اگر کسی شریف انسان نے اتفاقاً کوئی غلطی کر دی ہے تو معا ف کر دینے میں فائدہ ہے ‘لیکن اگر کسی عادی مجرم نے ایسا کیا ہے‘ مثلاً کسی نے اپنی دھونس جمانے کے لیے جان بوجھ کر زیادتی کی ہے تو اس صورت میں اگر بدلہ نہیں لوگے تو اس کی ہمت افزائی ہو گی. اس نے آج تمہیں تھپڑ مارا ہے توکل کسی اور کو مارے گا . لہٰذا Nip the evil in the bud کے مطابق اس کے تھپڑ کے جواب میں آپ بھی اس کو ایک تھپڑ رسید کریں تاکہ اس کی عقل ٹھکانے آجائے اور کل کلاں وہ کسی اور کو تھپڑ مارنے کی جرأت نہ کرسکے.