مسلمان کی تحقیر کرنے کی ممانعت

ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان پر تیسری ذمہ داری یہ ہے: وَلَا یَحْقِرُہُ ’’اور اسے حقیر نہیں سمجھتا‘‘. اب حقیر سمجھنے کی بہت سی بنیادیں ہوتی ہیں. کوئی غریب ہے اور آپ امیر ہیں تو آپ اس کواس کی غربت کی وجہ سے حقیر سمجھ رہے ہیں.یا آپ عالم ہیں اور وہ بے چارہ ناخواندہ ہے‘ پڑھا ہوا نہیں ہے تو آپ اپنے علم کی وجہ سے اپنے آپ کو اعلیٰ اور اسے کمتر سمجھتے ہیں. حالانکہ ہوسکتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ اور اُس کے رسول کی محبت آپ سے زیادہ ہو‘ تو سوچیے کہ اللہ کے ہاںاس کا کیا مقام ہوگا. آپ کو اگر اپنے علم کے اوپر غرہ ہو گیا ‘ زعم ہو گیا تو آپ کا سب کیا دھرا زیرو ہو جائے گا. اگرآپ میں تکبر آ گیا توسارا علم‘ سارا فضل‘ سارا تقویٰ‘ ساری نیکی زیرو سے ضرب کھا کرزیرو ہو جائے گی. ریاضی کا قاعدہ ہے کہ بڑی سے بڑی رقم بھی صفر سے ضرب کھاتی ہے تووہ صفر ہو جاتی ہے. لہٰذا کبھی بھی اپنی نیکی‘تقویٰ اور علم کی بنا پر کسی مسلمان کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے اور ہمیشہ اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے. آج تو آپ دین پر ہیں اور صحیح راستے پر چل رہے ہیں‘لیکن کل آپ کے ساتھ کیا ہو گا یہ کسی کو معلوم نہیں. کیا پتا کسی گندگی کے گڑھے میں پاؤں پڑ جائے اور پھر شیطان آپ کو اپنے پیچھے لگا کر کہاں سے کہاں پہنچا دے.اور کیا پتا اللہ کل اسے ہدایت دے دے اور سیدھے راستے پر چل کر وہ سرخرو ہوجائے.

ایک حدیث کے حوالے سے ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ ایک آدمی گناہ کرتا رہتا ہے‘ یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے‘ پھراچانک اس میں تبدیلی آتی ہے اور اللہ اسے ایمان کی دولت سے نواز دیتا ہے. ایمان حاصل ہونے کے بعد وہ نیک اعمال کرتا ہے اورپھر اسی حالت میں اس کو موت آ جاتی ہے اور وہ جنت میں چلا جاتا ہے. اس کے برعکس ایک شخص نیکی کرتا رہتا ہے ‘یہاں تک کہ اُس کے اور جنت کے درمیان ایک بالشت بھر کا فاصلہ رہ جاتا ہے‘ پھر کوئی بپتا ایسی پڑتی ہے کہ اس کا ایمان زائل ہو جاتا ہے اور وہ گندگیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے. پھر اسی حالت میں اسے موت آتی ہے اور وہ جہنم میں چلا جاتا ہے. سورۃ الاعراف میںایکصاحب کرامت بزرگ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے : 

وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ الَّذِیۡۤ اٰتَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانۡسَلَخَ مِنۡہَا فَاَتۡبَعَہُ الشَّیۡطٰنُ فَکَانَ مِنَ الۡغٰوِیۡنَ ﴿۱۷۵
’’اور سنائیے انھیں خبر اُس شخص کی جس کو ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا تو وہ ہو گیا گمراہوں میں سے.‘‘

اس واقعے کی تفصیل ہمیں تورات میں بھی ملتی ہے ‘جس کے مطابق یہ شخص بنی اسرائیل میں سے تھا . اس کا نام بلعم بن باعور اء تھااور یہ ایک بہت بڑا عابد ‘زاہد اور عالم تھا. لیکن یہ ایک عورت کی محبت میں گرفتار ہوکر اس مقام سے جو گرا تو پھر اسفل سافلین میں جا پہنچا . اسی طرح کیا پتا جو ہمیں بے عمل نظر آ رہا ہے اس کو اللہ ہدایت دے اور آپ کو آپ کے تکبر اور مسلمان بھائی کو حقیر جاننے کی وجہ سے بھٹکا دے. لہٰذا اپنے لیے اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ استقامت کی دعا کیا کریں کہ اے اللہ! ہدایت توتو نے دے دی ہے‘اب ہمیں استقامت بھی نصیب فرمادے .آمین!