انسان کی اندرونی کیفیت کے تین درجات

زیر مطالعہ روایت بھی اللہ تعالیٰ کی وسعت ِ رحمت کی مظہر ہے جس میں اللہ تعالیٰ خود فرمارہے ہیں کہ اگر کسی نے برائی کا ارادہ کیا لیکن اس پر عمل نہ کیا تو اس کے لیے مکمل نیکی لکھی جائے گی .میں عرض کر چکا ہوں کہ دونوں امکانات ہوسکتے ہیں. یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کسی خارجی مانع کی وجہ سے برائی نہیں کر سکا یا پھر خود اس کے اندر ہی کچھ کشاکش شروع ہو گئی جس کی وجہ سے وہ برائی سے رک گیا.یہ حقیقت ہے کہ خیر و شر کی کشاکش ہمارے اندر برپارہتی ہے.ہمارا نفس امارہ ہمیں نیچے کھینچتا ہے‘ جبکہ روح ملکوتی اوپر کھینچتی ہے. ؏ ’’ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر!‘‘

فرائڈ کے حوالے سے یہ بات میں آپ کو بتاچکا ہوں کہ وہ صرف نفسانی خوابوں کا تجزیہ کرتا ہے کہ خواہشاتِ نفس جب پوری نہیں ہوتیں تو وہ خواب کا روپ دھار لیتی ہیں. اس کی یہ بات ٹھیک ہے‘لیکن اسے پتا ہی نہیں ہے کہ ملکوتی خواب اورسچا خواب بھی کوئی حقیقت ہے . بہرحال فرائڈ کی ایک بات سے میں اس کی ذہانت کا قائل ہوں. اس نے انسان کی اندرونی کیفیت کے تین درجے معین کیے اور میں حیران ہوں کہ یہی تین درجے قرآن بیان کرتا ہے. قرآن کے مطابق سب سے نیچے نفس امارہ ہے‘ اور یہ انسان کے اندر موجود حیوانی جبلتوں (animal instincts) کی سطح ہے. حیوانی جبلت کا تقاضا ہے کہ کھاؤ‘ اس لیے کہ یہ جسم کی ضرورت ہے‘ جبکہ نفس انسانی یہ بھی چاہتا ہے کہ اس میں لذتیں ہوں اور طرح طرح کے ذائقے ہوں‘ تنوع ہو‘ اسراف ہو‘ لیکن انسان کے اندر ایک روح ملکوتی بھی ہے جو اسے اللہ کے قریب لانا چاہتی ہے . اوپر روح ملکوتی ہے اور نیچے نفس امارہ ہے‘ جبکہ بیچ میں قلب ہے. ’’قلب‘‘ لغوی طور پر اس شے کو کہتے ہیں جو بدلتا رہتا ہے. اسی سے انقلاب ہے‘ یعنی نظام کا بدل جانا. مثلاً فرانسیسی انقلاب میں بادشاہی نظام ختم ہوا اور جمہوری نظام آ گیا…بالشویک انقلاب میںسرمایہ دارانہ نظام ختم ہوا اور کمیونزم آ گیا…انقلابِ ایران میں شہنشاہِ ایران کی حکومت ختم ہو گئی اور علماء کی حکومت آ گئی. قلب کا لفظ قرآن میں بھی آیا ہے‘ فرمایا: وَ قَلَّبُوۡا لَکَ الۡاُمُوۡرَ (التوبۃ :۴۸’’اور (اے نبی !یہ منافق ) آپ کے لیے معاملات کو الٹ پلٹ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں‘‘. درحقیقت یہ قلب جسم کا ایسا عضو ہے جس کے لیے آرام ہے ہی نہیں.دماغ بھی آرام چاہتا ہے‘اسے نیند چاہیے ‘البتہ اگر آپ بہت زیادہ سوئیں گے تو دماغ کی چکی چلنی شروع ہو جائے گی اور پھر وہ آپ کو خواب دکھانے شروع کر دے گا‘ جن میں سے اکثر و بیشتر نفسانی خواب ہی ہوتے ہیں جو نفس امارہ سے متعلق ہی ہوتے ہیں . یہ تو دماغ کی بات ہوگئی ‘لیکن قلب کے لیے کوئی آرام نہیں ہے‘ قلب ہروقت یا تو سکڑ رہا ہے یا پھیل رہا ہے اور اس کے لیے آرام کا مطلب موت ہے.

فرائڈ کہتا ہے کہ انسانی شعور کی نچلی سطح پر id یا libido ہے‘ یعنی انسان کے حیوانی تقاضے اور حیوانی جبلتیں.اس کے اوپر ego ہے‘ جس کو ہم قلب کہتے ہیں.یہاں تک تو ٹھیک ہے‘لیکن اس کے اوپر جو روح ہے ‘ اس کو وہ نہیں پہچان سکا. وہ اس بات کو مانتا ہے کہ ego کے اوپر کوئی اور چیز ہے سہی اور وہ اس کو super ego کہتا ہے . پھر وہ اس کو ایسے define کرتا ہے کہ معاشرے میں موجود نیکی اور بدی کے تصورات انسان کو خبردار کرتے رہتے ہیں کہ تم یہ کام نہ کرو‘ورنہ لوگ کیا کہیں گے. لہٰذا معاشرے کے اندر موجود اثر ‘ گویا اس کی ego کے اوپرایک طرح کی مزید رکاوٹ ہے جو اس کو برائی سے روکتا ہے.