روح کا تعلق براہِ راست ذاتِ باری تعالیٰ سے ہے!

علم نفس کے حوالے سے مجھے قرآن و حدیث کے مطالعہ سے جو حاصل ہوا ہے‘ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک نفس امارہ ہے اور ایک روح ہے جو اللہ کی طرف سے ہے. آدم کی تخلیق اور اس کے تسویہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح پھونکی. ازروئے الفاظ قرآنی: فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ ﴿۲۹﴾ (الحجر) ’’پھر جب میںاس کی نوک پلک درست کر لوں اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح میں سے ‘تو گر پڑنا اس کے لیے سجدے میں‘‘.اس روح کا تعلق براہِ راست ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ ہے.لیکن یہ تعلق کیسے ہے اور کیا ہے‘اس کا صحیح ادراک ہمیں نہیں ہے . میں تو کہا کرتا ہوں کہ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ جان (life) کس چیز کا نام ہے اور یہ کہاں ہوتی ہے.آج بھی ڈاکٹروں کو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہی کہ مریض دل کے بند ہونے سے مر گیا یا دماغ کے ڈیڈ ہونے سے. چنانچہ ہمیں نہیں معلوم کہ اصل میں یہ جان ہے کہاں اور یہ کس عضو سے وابستہ ہے‘ دل سے یا دماغ سے. جب ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے تو روح کے بارے میں ہم کیا سمجھیں گے. روح تو جان سے کہیں زیادہ لطیف تر شے ہے‘جبکہ زندگی تو حیوانی مظہر (phenomenon) ہے. یہ زندگی تو کتے میں ہے‘ بلے میں ہے‘ بیل میں ہے‘ بکرے میں ہے ‘ حتیٰ کہ گھاس کے تنکے میں بھی ہے. اگر وہ اپنی جڑ کے ساتھ جڑا ہوا ہے تو اس میں بھی جان ہے جسے نباتاتی زندگی کہتے ہیں. روح کے بارے میں ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎

اتصالے بے تکیف بے قیاس
ہست رب الناس را با جانِ ناس!

روح ایک اتصال ہے‘لیکن اس اتصال کی کیفیت کو ہم نہیں جان سکتے اور اسے کسی نوع کے اتصال پر قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا. بہرحال یہ اتصال ہے انسانوں کے رب کا انسانوں کی جان کے ساتھ!

ہمیں معلوم ہے کہ یہ انگلیاں متصل ہیں‘جیسے حضور نے اپنی دو انگلیوں کو جوڑ کر فرمایا: بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ (۱یعنی میری بعثت اور قیامت اس طرح جڑے ہوئے ہیں جیسے یہ انگلیاں جڑی ہوئی ہیں. میرے بعد قیامت ہے‘ اور اب نہ کوئی نبی آئے گا نہ کوئی رسول آئے گا. گویا قیامت کی سب سے بڑی نشانی حضور کی بعثت ہے. بہرحال روح اتصال ہے لوگوں کے رب کا انسانوں کی جان کے ساتھ . یہاں جان سے مراد یہ حیوانی زندگی اور بائیولوجیکل لائف نہیں ہے بلکہ اس سے مرادیہ روح ہے. بدقسمتی سے ہمارے ہاں الفاظ نہیں ہیں اور ہم روح کو بھی جان کہہ بیٹھتے ہیں اور(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الرقاق‘ باب قول النبی بعثت انا والساعۃ کھاتین. جان کو روح سمجھتے ہیں ‘حالانکہ جان بالکل علیحدہ شے ہے جوتمام حیوانات اورتمام نباتات میں ہے.اللہ تعالیٰ کی کروڑہا مخلوقات زمین میںہیں‘ پانی میں ہیں‘ ہواؤں میں ہیں اور وہ سب جاندار ہیں. انسان میں بھی جان ہے‘ لیکن اس کی شان یہ ہے کہ اس کی تکمیل اور اس کے تسویہ کے بعد اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی روح میں سے روح پھونک دی تواب یہ روح انسان کو اوپر کھینچتی ہے‘جبکہ نفس امارہ نیچے کھینچتا ہے اور قلب بیچ میں ہے.اگر نفس امارہ غالب ہو جائے تو وہ قلب کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے. قلب چونکہ آئینہ کی مانند ہے لہٰذا اب نفس کی ساری ظلمانیت قلب میں منعکس ہو کر پورے وجود کے اندر طاری ہوجائے گی اور اگر قلب کا رخ روح کی طرف ہو گیا تو روح کی نورانیت قلب میں منعکس ہو کر پورے وجود میں سرایت کر جائے گی.