زیر مطالعہ حدیث کے بارے میں ابن عربی کی رائے

زیر مطالعہ حدیث کے حوالے سے میں نے ابتدا میں کہا تھا کہ ان مضامین پر صوفیاء غوروفکر کرتے ہیں اورایسی احادیث صوفیاء ہی کا میدان ہیں.صوفیاء میں سے ایک بہت بڑی شخصیت ابن عربی ہے. ان کی طرف بہت سے عقائد اور نظریات منسوب ہیں‘ پتا نہیں ان کی طرف ان کی نسبت صحیح بھی ہے یا غلط‘ اس لیے کہ جب آسمانی کتابوں میں تحریف ہو گئی ‘ احادیث میں تحریف ہو گئی‘ جھوٹی حدیثیں گھڑکرحضور کی طرف منسوب کی گئیں توکوئی بعید نہیں ہے کہ ابن عربی کی کتابوں میں بھی کچھ لوگوں نے اپنے نظریات داخل کر دیے ہوں.بہرحال وہ ایک الگ مسئلہ ہے‘لیکن اس حدیث کے بارے میں وہ بڑی عجیب اور بہت گہرائی والی بات کہتے ہیں .ان کی کتاب ہے ’’ فصوص الحکم ‘‘ اور اس میں انہوں نے ایک ایک نبی ؑکے حوالے سے اپنے مکاشفات بیان کیے ہیں. حضرت لوط علیہ السلام کے حوالے سے جو کچھ اپنی باتیں بیان کر رہے ہیں تو عجیب بات کہہ رہے ہیں. اس حدیث کے پہلے حصے : وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْئٍ اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَـرَضْتُہٗ عَلَـیْہِ کے ضمن میں کہتے ہیں کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرا بندہ میرے کان بن جاتا ہے جن سے میں سنتا ہوں‘ میرا بندہ میری آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے میں دیکھتا ہوں‘میرا بندہ میرا ہاتھ بن جاتا ہے جس سے میں پکڑتا ہوں‘میرا بندہ میری ٹانگیں بن جاتا ہے جس سے میں چلتا ہوں. بات وہیں آتی ہے کہ انتہائی درجے کا قرب ؏ ’’مٹا دیا میرے ساقی نے عالم من و تو!‘‘یہ تقرب بالفرائض کا نتیجہ ہے . دوسری طرف نوافل کے ذریعے سے یہ ہو گا اور یہ پہلے سے اونچی منزل ہے کہ میں اپنے بندے کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے‘میں اپنے بندے کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے‘میں اپنے بندے کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے ‘ میں اپنے بندے کے پاؤںبن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے

میں عرض کر چکا ہوں کہ یہ حدیث کراماتِ اولیاء کے لیے سند کا درجہ رکھتی ہے. البتہ ہمیں حضور کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں مکاشفات اور کرامات کا وہ نقشہ نہیں ملتا جو آپ کو صوفیاء اور اولیاء اللہ کی حکایات میں ملتا ہے.اس لیے کہ صحابہ کرامؓ تو اصل میں تقرب بالفرائض میں لگے ہوئے تھے . انہوں نے دین غالب کیا ہے‘جانیں دی ہیں اور وہ بلندترین محبوبیت پر ہیں.ہاں جب دین غالب ہو گیا‘ خلافت قائم ہوگئی تب اس سے آگے بڑھ کر لوگوں نے نوافل کے ذریعے سے تپسیائیں اور ریاضتیں کی ہیں.اصل بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ قربِ الٰہی کے دونوں ذرائع میں سے پہلے کے مقابلے میں دوسرا اونچا ہے‘لیکن پہلامحبوب تر ہے. 

یہ ہیں وہ مضامین جو میں نے اپنے دو کتابچوں میں بیان کیے:(۱) قربِ الٰہی کے دو مراتب‘اور(۲) مروّجہ تصوف یا سلوکِ محمدی ؟یعنی احسانِ اسلام. ان میں‘میں نے بیان کیا ہے کہ مروّجہ تصوف کیا ہے اور اس میں ٹیڑھ کیوں اور کیسے آئی ہے‘ اور اب سلوکِ محمدیؐ کا احیاء ہمارے اوپر لازم ہے.

اللہ تعالیٰ ہم سب کوایمان کے ظاہری وباطنی ثمرات سے مالا مال فرمائے اور ہمیں احسانِ اسلام اور سلوکِ محمدیؐ کی توفیق عطا فرمائے.

آمین یا رب العالمین!! 
اَقُوْلُ قَوْلِیْ ھٰذَا وَاَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ لِیْ وَلَکُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِیْنَ والمُسْلِمَاتoo