تقدیم

نبی اکرم سے ہمارے تعلق کی بنیادیں نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلہِ الْـکَرِیْمِ … امَّا بَعْدُ:

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ . بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِی الْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ :
فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾٪ (الاعراف) صدق اللہ العظیم 

ربیع الاوّل کے مہینے میں چونکہ نبی اکرم کی ولادت باسعادت ہوئی تھی‘ لہذا اس مہینے میں خاص طور پر سیرت کی مجالس اور جلسے منعقد ہوتے ہیں جن میں عموماً آنحضور کی سیرتِ مطہرہ پر تقاریر ہوتی ہیں‘ آپ کی خدمت میں سلام پڑھے جاتے ہیں اور نذرانۂ عقیدت کے طور پر نعتیں بھی پیش کی جاتی ہیں. اظہارِ محبت و عقیدت کے یہ طور طریقے اختیار کر کے ہم مسلمانوں کو عام طور پر یہ مغالطہ لاحق ہو جاتا ہے کہ ہم نے بحیثیت اُمتی اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور نبی اکرم کے جو حقوق ہم پر عائد ہوتے ہیں وہ ہم نے ادا کر دیے. یہ جھوٹا اطمینان (pseudo satisfaction) عام طور پر ہمیں اس طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا کہ ہم یہ بات معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ ازروئے قرآن حکیم نبی اکرم سے ہمارے تعلق کی حقیقی اساسات اور صحیح بنیادیں کیا ہیں؟ حالانکہ سیرت کی مجالس کا اصل حاصل یہ ہونا چاہیے کہ ہم یہ سوچیں اور طے کریں کہ نبی اکرم سے ہمارے تعلق کی صحیح نوعیت کیا ہے اور ہم سے خدا کے ہاں آنحضور کے بارے میں کس بات کا محاسبہ ہو گا؟ پھر اس علم کی روشنی میں حضور کے ساتھ اپنے تعلق کو صحیح بنیادوں پر استوار کریں اور اس ضمن میں جہاں جہاں کمی اور جس جس پہلو سے کوتاہی نظر آئے اس کا ازالہ کرنے کی پوری پوری کوشش کریں. اگر ہم یہ ارادہ لے کر سیرت کی کسی مجلس میں شریک ہوں اور ایسا کوئی عزم لے کر وہاں سے اٹھیں تو یہ یقینا فائدے کی بات ہے اور آخرت کے اعتبار سے نفع بخش ہے. حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نسبت کے تقاضوں کو واضح کرنے کے لیے میں اس موضوع پر قدرے تفصیل سے کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں کہ ازروئے قرآن مجید نبی اکرم سے ہمارے تعلق کی صحیح بنیادیں کیا ہیں؟ اس کے لیے میں نے سورۃ الاعراف کی آیت ۱۵۷ کا آخری جزو منتخب کیا ہے:

فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾٪
’’پس جو لوگ ایمان لائے ان (نبی اکرم )پراور جنہوں نے انؐ ‘کی توقیر و تعظیم کی‘ اور جنہوں نے انؐ ‘کی مدد اور حمایت کی (یعنی انؐ کے مشن میں انؐ کے دست و بازو بنے‘ اور ان کے مقاصد کی تکمیل میں اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو کھپایا) اور جنہوں نے اس نور کا اتباع کیا جو انؐ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے‘ تو یہی ہیں وہ لوگ جو فلاح پانے والے ہیں.‘‘

جس آیتِ کریمہ کا آخری جزو اِس وقت ہمارے پیش نظر ہے وہ پوری آیت اگر سامنے ہو تو معلوم ہو گا کہ اس میں اصل تخاطب اہلِ کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے ہے اور ان کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ یہی وہ ’’الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیّ‘‘ ہیں جن کے بارے میں پیشین گوئیاں تمہاری کتابوں تورات اور انجیل میں موجود ہیں اور جن کی آمد کی خوش خبری انبیاءِ سابقین دیتے چلے آرہے تھے. ہمارے یہ رسول( ) تمہارے پاس آ گئے ہیں‘ یہ تم کو نیکی کا حکم دیتے ہیں‘ برائیوں سے روکتے ہیں‘ تمہارے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دے رہے ہیں‘ اورتم نے شریعت کے نام سے اپنے اوپر جو بیجا وزن اور بوجھ لاد رکھے ہیں اور رسوم و قیود کی جو بیڑیاں پہن رکھی ہیں‘ ان سے تم کو نجات دلا رہے ہیں… اس کے بعد اس آیت میں وہ الفاظ آئے ہیں جو اس وقت ہمارے زیرمطالعہ ہیں:
فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾٪
آیت کریمہ کے اس حصے پر غور کرنے سے نبی اکرم  کے ساتھ تعلق کی چار بنیادیں ہمارے سامنے آتی ہیں:

* پہلی یہ کہ حضور  پر ایمان لایا جائے‘ آپؐ کی تصدیق کی جائے.
* دوسری یہ کہ حضور کی توقیر و تعظیم کی جائے.
*تیسری یہ کہ حضور کی نصرت و حمایت کی جائے.
*چوتھی یہ کہ حضور پر جو نورِ ہدایت یعنی قرآن مجید نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی جائے اور اپنی زندگی کے ہر عمل کے لیے اس مینارئہ نور سے ہدایت و رہنمائی حاصل کی جائے.

اب میں چاہوں گا کہ ان چاروں بنیادوں کے متعلق علیحدہ علیحدہ کچھ وضاحتیں پیش کر دی جائیں‘ جو اگرچہ تفصیل کی متقاضی ہیں ‘لیکن میں کوشش کروں گا کہ اختصار کے ساتھ وہ باتیں بیان کر دی جائیں جو ہمارے لیے غور و فکر کی راہیں کھول سکیں.