اطاعت

نبی اکرم پر ایمان اور آپؐ کی توقیر و تعظیم کا پہلا لازمی نتیجہ آپؐ کی مکمل اطاعت ہے. حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَـبَعًا لِـمَا جِئْتُ بِہٖ (۱)
’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشِ نفس اس (ہدایت) کے تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں.‘‘

یہ حدیث مشکوٰۃ المصابیح میں 
’’شرح السُّنۃ‘‘ کے حوالے سے نقل کی گئی ہے. اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرنے کے بعد جب تک ان تمام احکامِ شریعت‘ حدود و قیود اور اوامر و نواہی کو دلی آمادگی کے ساتھ تسلیم نہیں کیا جاتا جو رسول اللہ نے قرآن و سنت کے ذریعے سے پیش فرمائے ہیں اور جب تک اپنے نفس کی خواہشات کو کچلتے ہوئے قرآن و سنت پر عمل کا جذبہ بیدار نہیں ہوتا تب تک ایمان کا تقاضا پورا نہیں ہوتا. پس معلوم ہوا کہ رسول اللہ کی کامل اطاعت اور قرآن و سنت کے احکام پر سرِتسلیم خم کرنا ایمان بالرسالت کی شرطِ لازم ہے. یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں اللہ کی اطاعت کا حکم ملے گا وہاں اللہ کے رسول کی اطاعت کا حکم بھی ساتھ ہی موجود ہو گا. مثلاً سورۂ آل عمران (آیت ۳۲) میں ارشاد ہوا: قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ ۚاسی طرح سورۃ التغابن (آیت ۱۲) میں فرمایا گیا: وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ۚ یعنی ’’اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی.‘‘

جب محمد کو اللہ کا رسول اور اس کا نمائندہ مان لیا ہے تو اب تمہارے لیے اس کے سواکوئی چارۂ کار نہیں کہ تمہیں انؐ ‘ کا ہر حکم ماننا پڑے گا اور ہر ارشاد کے آگے سرِتسلیم خم کرنا ہو گا. (۱) رواہ فی شرح السُّنّۃ‘ وقال النووی فی اربعینہ : ھذا حدیث حسن صحیح ‘ رویناہ فی کتاب الحجۃ باسناد صحیح. اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ جس رسول کو بھی بھیجتا ہے اس حکم کے ساتھ بھیجتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے‘ جیسا کہ سورۃ النساء (آیت ۶۴) میں فرمایا: وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ؕ ’’اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے.‘‘ اسی سورۂ مبارکہ میں آگے فرمایا: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ (آیت ۸۰’’جس شخص نے رسول کی اطاعت کی تواس نے اللہ کی اطاعت کی.‘‘ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ حکم دینے کے لیے ہمارے پاس خود نہیں آتا‘ اس نے اپنے احکام ہم تک پہنچانے کے لیے انبیاء و رسل کو واسطہ بنایا ہے‘ لہذا اب خدا کی اطاعت کا ذریعہ بھی رسولؐ کی اطاعت ہے. اسی بات کو رسول اللہ نے اس طرح فرمایا کہ:

مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ (۱)
’’جس نے میری اطاعت کی تواس نے اللہ کی اطاعت کی‘ اور جس نے میری نافرمانی کی تواس نے اللہ کی نافرمانی کی.‘‘
ن
بی اکرم کی اطاعت کے لزوم کے لیے سورۃ النساء کی آیت ۶۵ بھی پیش نظر رہنی چاہیے. فرمایا :

فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۶۵
’’پس نہیں‘ آپ کے ربّ کی قسم! یہ لوگ مؤمن نہیں ہوں گے جب تک اپنے نزاعات میں آپ ہی کوحَکم نہ مانیں‘ پھر آپ جو فیصلہ کریں اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے پوری خوش دلی کے ساتھ قبول کر لیں.‘‘

یہ آیتِ مبارکہ حضور کے واجب الاطاعت ہونے کے لیے نصِّ قطعی ہے. رسول محض مان لینے کے لیے نہیں بھیجا جاتا ‘بلکہ وہ اس لیے مبعوث کیا جاتا ہے کہ اس کی کامل (۱) صحیح البخاری‘ کتاب الجھاد‘ باب قول اللّٰہ تعالیٰ : اطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم…. وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ… عن ابی ھریرۃ ؓ اطاعت کی جائے‘ اس کے تمام فیصلے تسلیم کیے جائیں‘ اس کے جملہ احکام کی تعمیل کی جائے‘ اس کی سنت کی پیروی کی جائے اور اس کے نقش قدم کو راہنما بنایا جائے. حضور کو صرف مرکزِ عقیدت سمجھ لینا ہرگز کافی نہیں ‘بلکہ ایمان اور توقیر و تعظیم کے لازمی عملی نتیجے کے طور پر آپؐ کو مرکزِ اطاعت تسلیم کرنا ضروری ہے. اس اطاعتِ کُلی کے بغیر ایمان کا اقرار ایک زبانی دعویٰ تو قرار پائے گا‘ لیکن یہ حقیقی ایمان کے اعتبارسے خدا کے ہاں معتبر نہیں ہو گا.