تقدیم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

’’ختم نبوت کے دو مفہوم اور تکمیل رسالت کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد کا زیر نظر خطاب ۲۳/جون۲۰۰۲ء کو لاہور کے الحمرا ہال نمبر1میں ہوا. سامعین کی کثرت ِ تعداد کے باعث یہ وسیع و عریض شاندار ہال اپنی تمامتر وسعت کے باوجود تنگ دامانی پر شکوہ سنج نظرآ رہا تھا. بانی تنظیم کا یہ مفصل خطاب قریباً دو گھنٹوں پر محیط تھا. (مرتب)

خطبہ ٔمسنونہ ‘ قرآنی آیات کی تلاوت اور ادعیہ ٔماثورہ کے بعد فرمایا:

معزز حاضرین اور محترم خواتین! آپ کے علم میں ہے کہ آج ہماری گفتگو کا عنوان اور موضوع نہایت اہم بھی ہے اور کسی قدر طوالت طلب بھی. آج کی اس نشست کے لیے جو ہینڈ بل شائع ہوا ہے اس میں میں نے ذیلی عنوانات بھی معین کر دیے ہیں تاکہ آپ کے سامنے بھی یہ رہے کہ آج کن کن موضوعات پر کن کن عنوانات کے تحت گفتگو ہونی ہے. وہ ذیلی عنوانات مندرجہ ذیل ہیں:

۱) ختم نبوت کے دو مفہوم
۲) ختم نبوت کے قانونی تقاضے
۳) تکمیل نبوت کے دو مظاہر
۴) ختم نبوت کے خلاف غلام احمد قادیانی کی دلیل اور اس کی تردید
۵) تکمیل رسالت کے دو مظاہر
۶) معراجِ انسانیت کا مظہر اَتم
۷) تکمیل رسالت کا منطقی تقاضا‘ جو ابھی تشنہ :ٔ تکمیل ہے‘ اور اس ضمن میں اُمت کی ذمہ داری اور اس اعتبار سے پاکستان اس وقت فیصلہ کن دوراہے پر.

اور آخری عنوان ہو گا ’’پس چہ باید کرد؟‘‘ یعنی ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ عنوانات سے آپ کو اندازہ ہوا ہو گا کہ بات کافی طوالت طلب ہے. میں نے ان موضوعات پر علیحدہ علیحدہ گفتگوئیں مختلف مواقع پر کئی بار کی ہیں‘ اپنے خطاباتِ جمعہ اور خطاباتِ عام میں بھی ان موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے‘ لیکن ایک جامع (compact) انداز میں اس پورے موضوع کو سمو لینے کی آج جو ہمت اور کوشش کر رہا ہوں اس کے لیے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر رہا ہوں کہ اس کی ہمت اور توفیق سے میں ان تمام موضوعات کو آج ایک حیاتیاتی وحدت (organic whole) میں سمو کر آپ کے سامنے پیش کر سکوں. اور یہ اسی طریقے سے ممکن ہو گا کہ نہ تو بہت زیادہ تفاصیل میں جایا جائے اور نہ ہی خطابت کا انداز اختیار کیا جائے بلکہ سائنٹیفک انداز میں جیسے یہ عنوانات مرتب ہو گئے ہیں اسی انداز میں ان کی وضاحت کی جائے.