۲) ختم نبوت کے قانونی تقاضے

ختم نبوت کا یہ پہلو کہ جس شخص نے بھی حضور کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا ہے یا کرے گا‘ وہ کذاب ‘ دجال‘ جھوٹا‘ کافر‘ مرتداور واجب القتل ہے‘ یہ اس کا قانونی تقاضا ہے. چنانچہ عالم اسلام میں اس سے پہلے جب بھی کسی نے ایسا دعویٰ کیا تو جب تک مسلمانوں کی حکومتیں تھیں‘ ایسے افراد کو قتل کر دیا گیا. آپ کو معلوم ہے کہ حضور کے فوراً بعد مسیلمہ کذاب اور جو دوسرے بڑے بڑے مدعیانِ نبوت اٹھ کھڑے ہوئے تھے‘ ان کے خلاف جہاد کیا گیا اور انہیں تہ تیغ کیا گیا. ایران میں علی محمد باب اٹھا تو وہاں چونکہ مسلمانوں کی حکومت تھی لہذا اُسے قتل کر دیا گیا. پھر اُس کے مرید بہاء اللہ نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا اور خدا کا ظہور (Manifestation of God) ہونے کا بھی. بہاء اللہ کی موت اگرچہ طبعی ہوئی لیکن سرکاری طور پر ایران سے بہائیت کا تقریباً خاتمہ کردیا گیا. اب بھی کوئی بہائی ایران میں نہیں رہ سکتا‘ سب وہاں سے بھاگ چکے ہیں‘ کوئی وہاں آئے گا تو قتل کر دیا جائے گا. لیکن بدقسمتی سے غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کے وقت ہندوستان میں انگریز کی حکومت تھی‘ لہذا ہر شخص کو کھلی چھوٹ تھی. اکبر الٰہ آبادیؒ نے بڑے خوبصورت الفاظ میں وہ نقشہ کھینچاہے: 

گورنمنٹ کی خیر یارو مناؤ گلے میں جو آئیں‘ وہ تانیں اڑاؤ
کہاں ایسی آزادیاں تھیں میسر ’’انا الحق‘‘ کہو اور پھانسی نہ پاؤ!

اگراسلامی حکومت ہوتی یا مسلمان حکومت ہی ہوتی تومرزا کو یہ جرأت نہ ہوتی. مسلمان حکومتوں کے دوران جس نے ’’انا الحق‘‘ کہا (منصور) وہ سولی چڑھا دیا گیااور جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا وہ قتل کر دیے گئے ‘لیکن یہاں انگریز کی حکومت تھی‘ جس میں کھلی چھوٹ تھی کہ چاہو تو خدائی کا دعویٰ کر دو‘ نبوت کا دعویٰ کر دو‘ رسالت کا دعویٰ کر دو‘ کوئی پوچھنے والا نہیں‘ کوئی پکڑنے والا نہیں‘ کسی دار و گیر کا کوئی اندیشہ ہی نہیں. اسی زمانے میں غلام احمد قادیانی نے ایک دعوتی خط امیرکابل کو لکھا کہ وہ اس کی نبوّت پر ایمان لائیں. جب وہ خط وہاں پہنچا تو امیر کابل نے اسی خط پر دو الفاظ لکھ کر خط واپس کر دیا : ’’ایں جا بیا!‘‘ یعنی ذرا یہاں آؤ! یہاں آ کر تم نبوت کا دعویٰ کرو تو پتا چل جائے کہ کس بھاؤ بکتی ہے. تم انگریز کی چھتری تلے بیٹھے ہوئے دعوے کر رہے ہو اور انگریز تمہاری پشت پناہی کر رہا ہے. تم نے جہاد کو ختم کر دیا‘ حرمت ِقتال کا فتویٰ دے دیا. انگریز کو اور کیا چاہیے؟ Glad Stone جبکہ برطانیہ کا وزیر اعظم تھا اُس نے اپنی پارلیمنٹ میں قرآن کو لہرا کر کہا تھا کہ جب تک یہ کتاب موجود ہے دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا‘ یہ تو جہاد اور قتال کی بات کرتی ہے. تو انگریز کو اور کیا چاہیے تھا کہ اگر کوئی اس قتال کو منسوخ کر دے اور مسلمانوں میں سے جذبہ ٔجہاد و قتال فی سبیل اللہ کو نکال دے تو اس سے بڑی اور کیا خدمت ہو گی! امیر کابل کے دولفظی جواب میں یہ پیغام مضمر تھا کہ اگر تمہیں یہ دعوت دینی ہے تو ذرا یہاں آ کر مجھے دعوت دو تاکہ تمہارے چودہ طبق روشن ہوں اور تمہیں معلوم ہو کہ اس دعویٰ کرنے کا مطلب کیا ہے!

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم پر اللہ کا بڑا کرم ہوا تھا کہ اس ملک میں ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت قرار پانے کا فیصلہ ہوا. واقعہ یہ ہے کہ وہ بہت ہی مبارک فیصلہ تھا. اس کے لیے جو تحریک اٹھی وہ بھی بہت ہی عمدہ تھی‘ بہت پرامن تھی‘ بہت منظم تھی. مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اس کے قائد تھے. کوئی سیاسی لیڈر اس میں نمایاں نہیں تھا‘ خالص دینی تحریک تھی. پھر اُس وقت ہمارے ہاں حکمران ذوالفقار علی بھٹو تھا جو خالص سیکولر ذہن کا آدمی تھا‘ اور قادیانیوں نے ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں اس کی حمایت کی تھی. قادیانی سمجھتے تھے کہ وہ تو ہمارا اپنا آدمی ہے ‘لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں بہترین طریقے سے‘ جس پر اعتراض کیا ہی نہیں جا سکتا‘ پارلیمنٹ کے ذریعے سے فیصلہ کرایا. کوئی آرڈی نینس ‘ کوئی حکم یا فرمان جاری نہیں ہوا تھا. پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی بنائی گئی اور قادیانیوں اور لاہوریوں کو اپنا موقف کھل کر پیش کرنے کا موقع دیا گیا. ان دونوں گروہوں کے سرکردہ لوگوں نے اس کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر بیانات دیے اور وضاحت سے اپنا موقف بیان کیا .اُس وقت ان کا خلیفہ مرزا طاہر احمد کا غالباً بڑا بھائی 
مرزا ناصر احمد تھا‘ اس نے کہا کہ غلام احمد قادیانی کو ہم ڈنکے کی چوٹ پر نبی مانتے ہیں. لہذا اس کے بعد پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا کہ یہ غیر مسلم ہیں. 

یہ ایک صحیح فیصلہ تھا‘ لیکن یہ فیصلہ ادھورا تھا. اس لیے کہ اس فیصلے سے قادیانیت کے فتنے کو کوئی گزند نہیں پہنچا ہے. غیر مسلم قرار دیے جانے کے فیصلے کے باوجود وہ فتنہ جوں کا توں پنپ رہا ہے‘ جوں کا توں پھیل رہا ہے اور اپنے سرطان کی جڑیں ہمارے معاشرے میں پھیلا رہا ہے. ویسے تو عالمی سطح پر انہیں بڑی سرپرستی حاصل ہو گئی ہے‘ پوری مغربی دنیا ان کی سرپرستی کر رہی ہے‘ لیکن اندرونِ ملک بھی اس فتنے کا قلع قمع اگر ہو سکتا تھا تو صرف اُس وقت جبکہ اس فیصلے کا جو قانونی اور منطقی تقاضا ہے‘ وہ بھی پورا کیا جاتا‘ اور وہ یہ کہ مرتد کی سزا قتل نافذ کی جاتی. اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مدعیانِ نبوت سے قتال کیا گیا‘ اور اسلامی تاریخ میں جتنے بھی لوگوں نے نبوت کے دعوے کیے انہیں ہمیشہ قتل کیا گیا. لہذا مرتدین کی سزا قتل جب تک نافذ نہیں ہو گی ‘ اس فتنے کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا‘ بلکہ وہ تو اس فیصلے کے بعد اپنے آپ کو مظلوم سمجھتے ہیں اور دنیا کے سامنے مظلوم کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں . آپ جتنے چاہیں آرڈی نینس نافذ کر لیں لیکن وہ سارے اسلامی شعائر استعمال کرتے ہیں. ان کے ہاں جمعہ کی نماز ہوتی ہے. یہ ٹھیک ہے کہ وہ مسجد کی شکل نہیں بنا سکتے‘ ماڈل ٹاؤن میں ایک بڑی کوٹھی کے اندر اُن کا جمعہ ہوتا ہے ‘ان کے عید کے اجتماعات ہوتے ہیں.وہ سارے شعائر اسلامی کو استعمال کر رہے ہیں اور الٹا مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے‘ جیسے دنیا میں یہودیوں نے 
Holocaust کی مظلومیت کا لبادہ اپنے اوپر اوڑھا ہوا ہے کہ ہم جو چاہیں نوعِ انسانی پر ظلم کر لیں یہ ہمارا حق ہے‘ اس لیے کہ ہم نے Holocaust کی صورت میں بہت بڑا ظلم سہا تھا. جرمنوں نے ہمارے ساٹھ لاکھ آدمی ختم کر دیے تھے‘ تو ہم اگر آٹھ‘ دس لاکھ فلسطینی اور دوسرے مسلمانوں کو قتل کر دیں گے تو کون سی بڑی بات ہے؟ اسی طرح قادیانیوں نے مظلومیت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے. ہونا یہ چاہیے تھا کہ جس روز بھی یہ فیصلہ ہوا‘ ساتھ ہی واضح کر دیا جاتا کہ آج کی اس تاریخ سے پہلے پہلے جو قادیانی ہیں وہ تو اقلیت قرار پائیں گے‘ لیکن اس فیصلے کے نفاذ کے بعد جو شخص بھی قادیانیت اختیار کرے گا اس پر قتل مرتد کی حد جاری کی جائے گی. جب تک یہ نہیں ہو گا اس فتنے کا استیصال تو دور کی بات ہے‘ اس کو کوئی گزند بھی نہیں پہنچ سکتا.