۳) تکمیل نبوت کے دو مظاہر

محمد رسول اللہ پر نبوت کامل ہوئی اور آپ پر رسالت کامل ہوئی‘ ان دونوں باتوں کو اب میں علیحدہ علیحدہ بیان کر رہا ہوں‘ ذرا اس کو سمجھ لیجئے. دراصل نبوت عام ہے اور رسالت خاص ہے. ہر رسول لازماً نبی بھی ہے ‘مگر ایسا نہیں کہ ہر نبی لازماً رسول بھی ہو. نبی اور رسول میں فرق کے بارے میں علماء کی آراء مختلف ہیں کہ اس فرق کی بنیاد کیا ہے‘ یہ میرا اس وقت کا موضوع نہیں ہے‘ لیکن جو شخص نبی بھی ہے اور رسول بھی اس کی شخصیت میں جو دونوں چیزیں جمع ہو گئیں ان کی باہمی نسبت کیا ہے؟ دیکھئے نبوت اللہ سے لینے والا پہلو ہے. یعنی اللہ سے receive کرنا‘ وحی حاصل کرنا‘ وحی کو وصول کرنا‘ یہ نبوت ہے. جبکہ رسالت ہے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دینا‘ عوام تک ابلاغ اور تبلیغ کا حق ادا کر دینا. تو ایک پہلو نبوت ہے‘ دوسرا پہلو رسالت ہے. نبوت وہ کھڑکی ہے جہاں سے وحی آ رہی ہے اور اس کو اللہ کا نبی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) وصول کر رہا ہے .اب اس کا کام بحیثیت رسول اس وحی کو لوگوں تک پہنچانا ہے. چنانچہ فرمایا گیا : یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ ’’اے رسول! پہنچا دیجیے جو کچھ بھی نازل کیا گیا ہے آپؐ پر آپؐ کے ربّ کی طرف سے‘‘ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ؕ (المائدۃ:۶۷’’اور اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو پھر آپ نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا.‘‘

نبوت کی تکمیل کے دو مظاہر ہیں اور اس کے لیے میرے نزدیک قرآن مجید کی جو متعلقہ 
(relevent) آیت ہے وہ الفاظ قرآن میں تین مرتبہ آئے ہیں‘ سورۃ التوبۃ میں‘ سورۃ الفتح میں اور سورۃ الصف میں :ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ’’وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسولؐ :کو الہدیٰ (قرآن حکیم) اور دین حق دے کر ‘تاکہ اسے کل جنس ِدین پر غالب کر دے‘‘. یہاں قرآن حکیم کے لیے ’’الہدیٰ‘‘ کا لفظ آیا ہے‘ یعنی .The Total Guidance, The Final Guidance اور ’’الہدیٰ‘‘ اور ’’دین الحق‘‘ کے درمیان حرفِ عطف ’’و‘‘ آیا ہے. یعنی یہ دو چیزیں الہدیٰ اور دین حق دے کر بھیجا. کس لیے بھیجا؟ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ تاکہ وہ غالب کر دے اسے تمام ادیان پر‘ تمام نظاموں پر‘ پورے کے پورے جنس دین پر. اس کے بعد دو جگہ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ کے الفاظ آئے ہیں. یعنی ’’خواہ مشرکوں کو کتنا ہی ناپسند ہو‘‘. اور ایک جگہ آیا: وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا ’’اور اللہ کافی ہے بطورِ گواہ (یا بطورِ مددگار).‘‘ 

حضور کو جو دو چیزیں دی گئیں‘ الہدیٰ (قرآن حکیم) اور دین حق‘ نوٹ کیجئے کہ یہ دونوں چیزیں ابتدا سے چلی آ رہی ہیں. حضرت آدم علیہ السلام کو جب زمین پر اترنے کا حکم دیا گیا تو ساتھ ہی فرما دیا گیا : 
فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی فَمَنۡ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۸﴾ (البقرۃ) ’’پھر جو بھی تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت آئے تو جو لوگ اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہو گا‘‘. تو ہدایت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ شروع ہو گیا‘ لیکن جیسے جیسے بحیثیت مجموعی نوعِ انسانی کے شعور نے ترقی کی‘ ذہنی اور فکری سطح بلند ہوئی ویسے ہی اس ہدایت کے اندر بھی ارتقا ہوتا چلا گیا. ظاہر بات ہے کوئی بچہ اگر پرائمری کا طالب علم ہے اور آپ اس کے لیے پی ایچ ڈی ٹیچر رکھ دیجئے تو کیا وہ اسے پی ایچ ڈی کی تعلیم دے گا؟ یا ایم اے کا نصاب پڑھائے گا؟ نہیں . اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ ابھی عہد طفولیت میں ہے اور اس کے لیے ایک خاص حد سے آگے بات کا سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے.تو نوعِ انسانی جب تک عہد طفولیت میں تھی ہدایت بلکہ ہدایات آتی رہیں کہ یہ کرو‘ یہ نہ کرو. نوٹ کیجئے‘ میں یہاں ’’ہدایت‘‘ کی جگہ ’’ہدایات‘‘ کا لفظ استعمال کر رہا ہوں. اس لیے کہ تورات ’’احکامِ عشرہ‘‘ (Ten Commandments)پر مشتمل تھی کہ یہ dos ہیں اور یہ donts ہیں‘ یہ تمہیں کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا ہے. جب تک نوعِ انسانی شعور کے اعتبار سے ‘ اپنے فلسفیانہ فکر کے اعتبار سے‘ اپنے ذہن اور شعور کی ارتقائی منازل کے اعتبار سے پختہ کار (mature) نہیں ہو گئی تو اس عبوری دَور (interim period) کے لیے ہدایات آتی رہیں کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو‘ لیکن جب نوعِ انسانی شعور کے اعتبار سے بلوغ کو پہنچ گئی تو اسے ہدایات کے بجائے ہدایتِ کاملہ عطا کر دی گئی.

تاریخ اور فلسفہ کے ماہرین خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ نوعِ انسانی کا فلسفیانہ شعور 
(Philosophical Consciousness) بارہ سو سال میں ترقی کی منازل طے کرتا ہوا اپنے بلوغ کی منزل کو پہنچا ہے. یہ دَور ۶۰۰ قبل مسیح سے شروع ہو کر ۶۰۰ بعد مسیح پر ختم ہو گیا. سارے کے سارے فلسفے انہی بارہ سو سالوں میں پیدا ہوئے. سقراط‘ افلاطون اور ارسطو بھی اسی دَور میں پیدا ہوئے اور گوتم بدھ‘ مہاویر‘ کنفیوشس اور تاؤ نے بھی اسی دَور میں جنم لیا .اس بارہ سو سالہ دَور میں انسان کا ذہنی‘ خاص طو رپر فلسفیانہ شعور اپنی ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے پختگی ( maturity) کی آخری حد کو پہنچ چکا تھا.یادش بخیر پروفیسر یوسف سلیم چشتی ؒ کا ذکر کر رہا ہوں‘ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے‘ جب میں کرشن نگر میں پریکٹس کرتا تھا تو وہ شام کو میرے پاس آ کر بیٹھ جایا کرتے تھے اور واقعہ یہ ہے کہ پھلجھڑیاں ہوتی تھیں جو اُن کے منہ سے نکلتی تھیں‘ جو گویا فلسفیانہ اور تاریخی معلومات اور مذہبی مسائل کا ایک خزانہ تھا. ایک مرتبہ انہوں نے کہا عجیب بات ہے ۶۰۰قبل مسیح سے ۶۰۰ بعد مسیح تک جتنے مذاہب اور جتنے فلسفے پیدا ہونے تھے ہو چکے‘ اس کے بعد کوئی نیا مذہب یا نیا فلسفہ دنیا میں نہیں آیا. یہ تو پرانی شراب ہے جو نئے لیبلوں کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے. اس پر میرا ذہن فوراً منتقل ہوااور میں نے کہا :چشتی صاحب! اس کا تو پھر براہِ راست تعلق ختم نبوت کے ساتھ ہے! کہنے لگے: کیوں؟ میں نے کہا : جب انسان جو کچھ از خود سوچ سکتا تھا سوچ چکا تو پھر اسے ہدایت ِکاملہ سے نواز دیا گیا‘ اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ۶۰۰ عیسوی تک انسان کا فلسفیانہ شعور اپنی پختگی اور بلوغ کو پہنچ گیا تھا تو ۶۱۰ ء میں حضرت محمد پر وحی کا آغاز ہوا: اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ ۚ﴿۲﴾اِقۡرَاۡ وَ رَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ ۙ﴿۳﴾الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ ۙ﴿۴﴾عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ ؕ﴿۵﴾ (العلق) اور شاید سیرت النبی کا یہ پہلو بہت کم لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ہے. 

اس 
’’اقرا ٔ ‘‘ کی وحی کے آنے سے متصلاً قبل (مدت کا ہمارے پاس تعین نہیں ہے کہ کتنے مہینے یا کتنا لمبا عرصہ لگا ہے) حضور غار ِحرا میں جو مراقبہ کیا کرتے تھے وہ کس چیز پر مشتمل ہوتا تھا؟ حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہاکھانے پینے کا کچھ سامان کر دیتیں اور آپؐ غارِ حرا میں چلے جاتے اور وہاں کئی کئی روز دن رات قیام فرماتے. اس دوران آپ کیا کرتے تھے؟ حدیث میں الفاظ آتے ہیں : یَتَحَنَّثُ فِیْہِ ’’وہاں آپ عبادت کیا کرتے تھے‘‘. لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سی عبادت؟ آپؐ اگر یہودیوں کے ہاں پیدا ہوتے تو یہودیوں والی عبادت کرتے اور عیسائیوں کے ہاں پیدا ہوتے تو عیسائیوں والی عبادت کرتے‘ لیکن آپؐ :تو عرب کے اندر مکہ میں مشرکانہ ماحول میں پیدا ہوئے اور ظاہر بات ہے کہ مشرکین والی عبادت کرنے کا تو سوال ہی نہیں. آپؐ : سلیم الفطرت انسان تھے اور آپؐ نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہیں کیا. تو آپؐ :کون سی عبادت کرتے تھے؟ شارحین حدیث نے اس کا حل نکالا ہے : کان صفۃ تعبدہ فی غار حراء التفکر والاعتبار . یعنی غارِ حرا میں حضور کی جو عبادت تھی وہ غور و فکر اور سوچ بچار پر مشتمل تھی.میرا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ کو پوری انسانی فلسفیانہ سوچ کے مراحل طے کرائے ہیں اور اس کے بعد وحی ٔنبوت کا آغاز ہوا ہے: اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾ یہ سارا مرحلہ اسی لیے تھا کہ حضور اپنی سوچ اورغور وفکر سے‘ اپنی سلامتی ٔ:طبع‘ اپنی سلامتی ٔ:فطرت اور عقل سلیم کی رہنمائی میں غور و فکر کریں‘ تدبر کریں. اور اس کے نتیجے میں پھر آپؐ اس مقام پر پہنچے کہ وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾ (الضّحٰی) یعنی اے نبی !ہم نے پایا آپ کو کہ آپ ہدایت کی تلاش میں سرگرداں ہیں‘ تو ہم نے آپؐ :کو ہدایت ِکاملہ سے سرفراز فرما دیا. 

اب یہاں ایک اہم نکتہ نوٹ کیجئے. یہ ایک بہت اہم حقیقت ہے جو نگاہوں کے سامنے نہ ہو تو اس کی کوئی حیثیت نہیں اور نگاہوں کے سامنے آ جائے تو بڑی اہمیت کی حامل ہے. کیا تورات اللہ کی کتاب نہیں تھی؟ اس میں تحریف کیوں ہو گئی؟ اگر اللہ نے 
ضمانت لی ہوتی کہ اس میں تحریف نہیں ہو سکتی تو کیا تحریف ہو سکتی تھی؟ کیا انجیل اللہ کی کتاب نہیں تھی؟ یقینا تھی. اس میں تحریف کیوں ہو گئی؟ اس لیے کہ اللہ نے اس کی حفاظت کا ذمہ نہیں لیا. اور اگر اللہ تعالیٰ قرآن کی حفاظت کا ذمہ نہ لیتا توکیا ہم اسے تحریف کے بغیر چھوڑ دیتے؟ علامہ اقبال نے کہا تھا ؎ 

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!

قرآن کے ترجموں میں بھی تحریفیں ہوئی ہیں اور تفسیروں میں بھی ہوئی ہیں‘ ہاں ایک متن قرآن ہے جس میں تحریف نہیں ہو سکتی ‘اس لیے کہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے: اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹﴾ (الحجر) ’’ہم نے ہی اس ’’الذکر‘‘ کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں‘‘. لیکن سوال یہ ہے کہ ’’اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ‘‘ کے الفاظ کا مصداق تورات بھی ٹھہرتی ہے‘ انجیل بھی اور زبور بھی. اللہ ہی نے سابقہ آسمانی کتب بھی نازل کی تھیں. خاص طور پر سورۃ المائدۃ کے ساتویں رکوع کے الفاظ ملاحظہ ہوں : اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىۃَ فِیۡہَا ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ۚ ’’ہم نے اتاری تھی تورات‘ اس میں ہدایت بھی تھی‘ نور بھی تھا‘‘. پھر انجیل کے بارے میں بھی فرمایا: فِیۡہِ ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ’’اس میں ہدایت بھی تھی‘ نور بھی تھا‘‘. غور طلب بات یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اللہ نے ان کی حفاظت کا ذمہ نہیں لیا اور قرآن کی حفاظت کا ذمہ لے لیا؟ بلکہ میں ذرا لطیف انداز میں اس بات کو آپ کے ذہن کی گہرائیوں تک لے جانے کے لیے عرض کروں گا.

میں مثال دیا کرتاہوں کہ ان کتابوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اللہ سے شکوہ کریں کہ اے اللہ! ہم بھی تیری کتابیں تھیں ‘ قرآن بھی تیری کتاب تھی‘ تو ہمارے ساتھ یہ سوتیلی بیٹیوں والا سلوک کیوں ہوا کہ آپ نے قرآن کو تو تحفظ دیا‘ ہمیں نہیں دیا. اس کی وجہ سمجھ لیجئے‘ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں ‘ سابقہ کتب سماویہ کے نزول کے وقت ابھی ہدایت اپنے ارتقائی مراحل طے کر رہی تھی‘ ابھی اسے اپنے نقطہ ٔ:عروج اور نقطہ ٔ:کمال تک پہنچنا تھا. چنانچہ اس درمیانی عرصے کے لیے ‘عبوری دَور کے لیے جو ہدایات آ رہی تھیں ان کو مستقل طو رپر محفوظ کر دینے کی چنداں حاجت نہ تھی. جب وہ کامل اور مکمل ہدایت آ گئی اور ہدایت کی تکمیل ہو گئی تو اب یہ ہدایت ’’ھُدًی‘‘ نہیں رہی ’’الہُدٰی‘‘ (The Guidance) ہو گئی. اب اس کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا.