تقدیم

لمان خواتین کے دینی فرائض نحمدہٗ ونصلی علی رسولہ الکریم… اما بعد:
اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم. بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
اِنَّ الۡمُسۡلِمِیۡنَ وَ الۡمُسۡلِمٰتِ وَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الۡخٰشِعِیۡنَ وَ الۡخٰشِعٰتِ وَ الۡمُتَصَدِّقِیۡنَ وَ الۡمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیۡنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الۡحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمۡ وَ الۡحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیۡنَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۳۵﴾ 
(الاحزاب) 
صدق اللّٰہ العظیم 

دینی فرائض کے جامع تصور کی اہمیت یہ ہے کہ اگر انسان کو یہ معلوم نہ ہو کہ میرا رب مجھ سے کیا چاہتا ہے اور میرے دین کا مجھ سے کیا مطالبہ ہے تووہ ان دینی فرائض کی ادائیگی کے قابل نہ ہو سکے گا جو اس پر عائد ہوتے ہیں. اسی طرح اگر فرائض دینی کے بارے میں ہمارا تصور ناقص یا نامکمل ہو‘ یعنی بعض فرائض تو معلوم ہوں اور انہیں ہم ادا بھی کر رہے ہوں‘ لیکن بعض فرائض کا ہمیں علم ہی نہ ہو تو ظاہر ہے کہ وہ ہم ادا نہیں کر سکیں گے. اس طرح اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ اگرچہ اپنی جگہ ہم یہ سمجھ رہے ہوں کہ ہم نے تو اپنے تمام فرائض ادا کیے ہیں‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہاں ہمیں بتایا جائے کہ تمہاری ذمہ داریاں صرف وہی نہیں تھیں کہ جو تم نے پوری کی ہیں بلکہ مزید بھی تھیں‘ اور ان کے ضمن میں چونکہ ہمیں علم ہی حاصل نہیں تھا‘ لہذا ان سے متعلق ہماری کارگزاری صفر ثابت ہو اور ہم اپنے تمام تر خلوص اورمحنت کے باوجود ناکام قرار پائیں.

اس مسئلے کا ایک دوسرا رُخ بھی قابل توجہ ہے‘ جو خواتین کی ذمہ داریوں کے ضمن میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے. اور وہ یہ کہ ایک دوسرا امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے ذمے خواہ مخواہ ایسی ذمہ داریاں لے لیں جو ہمارے دین نے ہم پر عائد نہ کی ہوں. یہ بات بھی اتنی ہی خطرناک‘ مضر اور نقصان دہ ہے جتنی کہ پہلی بات. کیونکہ انسان کا جذبۂ عمل بسااوقات حد سے تجاوز کر جاتا ہے تو وہ غلط رخ اختیار کر لیتا ہے. اس کی بہت اہم مثالیں موجود ہیں. مثلاً نیکی کا جذبہ ہی دنیا میں رہبانیت جیسے خلافِ فطرت نظام کو وجود میں لانے کا سبب بنا‘ جس نے بالآخر ایک برائی کی شکل اختیار کر لی اور بہت سے منکرات کو جنم دیا اور اس کے نتائج بہت ہی منفی اور خوفناک ہوئے. 

خود رسول اللہ ا کی حیات ِ طیبہ کا یہ واقعہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ تین صحابۂ کرام( رضوان اللہ علیہم اجمعین) جن پر عبادت گزاری‘ زہد اور تقویٰ کا بہت زیادہ غلبہ ہو گیا تھا‘ انہوں نے ازواجِ مطہراتؓ سے آنحضرت اکی نفلی عبادات کے متعلق پوچھا کہ آپؐ رات کو کتنی دیر تک نماز پڑھتے ہیں اور مہینے میں کتنے نفلی روزے رکھتے ہیں؟ ازواجِ مطہراتؓ نے انہیں آنحضور اکے نفلی اعمال کی جو کیفیت بتائی وہ انہیں اپنے تصور اور گمان کے مطابق بہت کم نظر آئی.تاہم انہوں نے یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دی کہ کہاں ہم اور کہاں رسول اللہ  ! آپؐ تو معصوم ہیں‘ آپؐ سے تو کسی گناہ کا صدور ہو ہی نہیں سکتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کی مغفرت کا وعدہ ہو چکا‘ لہذا آپؐ کے لیے تو اتنی عبادت کفایت کرے گی‘ لیکن ہمارے لیے یہ کافی نہیں ہے. چنانچہ ان میں سے ایک صحابی ؓنے کہا کہ میں تو ساری رات نماز پڑھا کروں گا اور اپنی پیٹھ بستر سے نہیں لگاؤں گا. دوسرے نے طے کیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور کسی دن بھی ناغہ نہیں کروں گا.

تیسرے نے کہا کہ میں گھر گھر ہستی کا کھکھیڑ مول نہیں لوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا. ان کی یہ باتیں رسول اللہ تک پہنچیں تو آپؐ نے انہیں طلب فرما کر بڑی ناراضی کا اظہار فرمایا. آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تم وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسی باتیں کہی ہیں؟ اللہ کی قسم‘ میں تم میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ اس کا تقویٰ اختیار کرنے والا ہوں‘ لیکن میں کبھی (نفلی) روزہ رکھتا ہوں اور کبھی نہیں رکھتا‘ اور میں رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں‘ اور میں عورتوں سے شادیاں بھی کرتا ہوں. پس(جان لو کہ) جسے میری سنت پسند نہیں‘ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں.‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور اسے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے. 

حدیث کے آخری الفاظ: فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ ’’پس جسے میری سنت پسند نہیں اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں‘‘ بہت جامع الفاظ ہیں‘ اور ان کی روشنی میں ہمیں زندگی کے ہر موڑ اور ہر گوشے میں یہ دیکھنا چاہیے کہ نبی اکرم  کا طرزِ عمل کیا تھا. خواتین کی دینی ذمہ داریوں کے ضمن میں ہمیں صحابیات رضی اللہ عنھن خصوصاً ازواج ِ مطہرات ؓ کی زندگیوں اور ان کے طرزِ عمل کو پیش نظر رکھنا ہو گا. اس لیے کہ خواتین کے لیے آنحضور  کا جو اُسوۂ مبارکہ ہے وہ ہم تک ازواج ِ مطہرات ؓ ہی کے ذریعے سے پہنچا ہے اور آپؐ نے عام طور پر صحابیات ؓ کو جو بھی ہدایات دیں وہ امت کی خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں.

انسان جب اپنے ذمے خواہ مخواہ اپنی ذمہ داری سے بڑھ کر ذمہ داری لے لیتا ہے تو اس کے جو مضر اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں‘ اس کے لیے میں موجودہ دور سے ایک مثال پیش کر رہا ہوں. آج پوری دنیا میں مختلف جماعتوں اور تحریکوں کے ذریعے اسلامی انقلاب اور اقامت ِ دین کے لیے ایک جدوجہد اور سعی و کوشش ہو رہی ہے. ایسی تحریکوں کے فکر میں بعض اوقات ایک بنیادی غلطی یہ پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اللہ کے دین کو غالب کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھ لیتے ہیں. حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اللہ کے دین کو غالب کر دینا ہماری ذمہ داری نہیں ہے‘ بلکہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوشش اور امکان بھر سعی وجہد کریں اور اس راستے میں اپنے تمام وسائل و ذرائع ‘ صلاحیتیں اور استعدادات کو صرف کر دیں.

لیکن اگر ہم یہ سمجھ لیں گے کہ ہمیں یہ کام بہرطور کر کے رہنا ہے تو اس سے ہمارے طرزِ عمل میں یہ کجی پیدا ہو سکتی ہے کہ اگر صحیح راستے سے کام نہیں ہو پا رہا تو ہم کسی غلط راستے کو اختیار کر لیں. چنانچہ ذمہ داری کا یہ غلط تصور بہت سی تحریکوں کے غلط رخ پر پڑ جانے کا سبب بن گیا ہے. لہذا جہاں ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ایک مسلمان کی دینی ذمہ داریاں کیا ہیں اور ہمیں کوشش کرنی ہے کہ ان میں سے کوئی ذمہ داری ہمارے علم اور تصور سے خارج نہ رہ جائے‘ وہیں ہماری یہ کوشش بھی ہونی چاہیے کہ ہم خواہ مخواہ ایسی ذمہ داریاں مول نہ لے لیں جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد نہ کی ہوں.

’’مسلمان خواتین کے دینی فرائض‘‘ سے متعلق مجھ سے بارہا سوالات کیے گئے ہیں. حال ہی میں چند ایسے خطوط بھی موصول ہوئے ہیں جن میں اس موضوع سے متعلق بڑے تفصیلی سوالات کیے گئے ہیں. میں سمجھتا ہوں کہ ان سوالات کے اس قدر شدومد سے پیدا ہونے کا سبب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ایک مخصوص دینی جماعت کے حلقہ خواتین کی سرگرمیاں لوگوں کے سامنے ہیں اور بہت سی خواتین یہ جاننا چاہتی ہیں کہ یہ سرگرمیاں کس حد تک دین کے مطابق اور اس کے مزاج سے ہم آہنگ ہیں. اور ان میں کہیں دین کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں سے تجاوز تو نہیں ہو رہا؟ میں کوشش کروں گا کہ آج کی گفتگو میں ان تمام سوالات کے جوابات بھی آ جائیں. اس نشست میں میں اس موضوع سے متعلق اپنے غور وفکر کا حاصل پیش کررہا ہوں. اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو بھی صحیح‘ معتدل‘ متوازن اور کتاب و سنت سے موافق ترین اور قریب ترین راستہ ہو‘ وہ اس کی جانب میری رہنمائی فرمائے اور مجھے اسے بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے!

اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کے ضمن میں ایک مسلمان کے پیش نظر ہمیشہ یہ اصول رہنا چاہیے کہ اللہ نے اس پر کون کون سی ذمہ داریاں عائد کی ہیں. جب انسان اپنی اصل ذمہ داری سے بڑ ھ کر کوئی ذمہ داری اپنے سر لے لے تو ایک خطرہ یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں وہ اس انجام سے دوچار نہ ہو جائے جس کا ذکر سورۃ النساء میں نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی کے الفاظ میں آیا ہے. یعنی اس نے جو راستہ خود ہی اختیار کر لیا‘ پھر اللہ تعالیٰ اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے اور پھر اللہ کی تائید اور نصرت شامل حال نہیں رہتی.

چنانچہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اللہ کی طرف سے ہم پر کیا فرائض اور ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں‘ حقوق اللہ کے ضمن میں کن کن حقوق کی ادائیگی ہمارے ذمہ ہے‘ اورہمارے نفس کے وہ حقوق کون سے ہیں جو اللہ نے معین کر دیے ہیں اور وہ ہمیں ادا کرنا ہیں. اللہ نے اس کے لیے جو چیزیں حلال فرمائی ہیں‘ انہی پر ہمیں اکتفا کرنا ہے. اگر ہم اپنے طبعی یا جبلی تقاضوں کی پیروی کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ ہم حلال سے آگے بڑھ کر حرام میں منہ مار لیں. اسی طرح انسانوں میں سے بھی جس کا جو حق اللہ نے معین کر دیا ہے‘ وہ ہمیں ادا کرنا ہے. اگر یہ اصول پیش نظر رہے تو راستہ سیدھا‘ صاف اور محفوظ رہے گا‘ لیکن اگر ہم نے اس میں اپنی پسند‘ ذوق‘ جذبے‘ خیالات اور تصورات کو اپنا امام بنا لیا تو پھر ہم خدانخواستہ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی کا مصداق بن سکتے ہیں‘ اور پھر اس میں شدید اندیشہ ہے کہ آیت کے اگلے الفاظ وَ نُصۡلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿۱۱۵﴾٪ (النساء) جیسے ہولناک انجام سے دوچار ہو جائیں. اللہ تعالیٰ ہمیں اس انجام بد سے بچائے!