الحمد للّٰہ وکفی والصلوۃ والسلام علی عبادہ الذین اصطفی … امَّا بَعد:
فاعوذ باللّٰہ من الشَّیطٰن الرَّجیم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

فَلَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ جَاہِدۡہُمۡ بِہٖ جِہَادًا کَبِیۡرًا ﴿۵۲﴾ صدق اللّٰہ العظیم

خطبۂ مسنونہ ‘ تلاوتِ آیات اور ادعیۂ ماثورہ کے بعد :

جس آیت ِمبارکہ کی میں نے تلاوت کی ہے‘ اس میں دو چیزیں نہایت اہم ہیں. ایک لفظ ’’جہاد‘‘ جو اِس آیت ِمبارکہ میں دو مرتبہ آیا ہے‘ ایک فعل امر کے طور پر 
’’جَاہِدۡ‘‘ اور دوسرے مفعول مطلق کے طور پر ’’جِہَادًا کَبِیۡرًا‘‘ یعنی نہ صرف جہاد بلکہ شدید جہاد‘ بہت بڑا جہاد. یہاں دوسرا اہم لفظ ’’بِہٖ‘‘ آیا ہے. اس آیت میں حکم دیا جا رہا ہے جناب محمد رسول اللہ  کو وَ جَاہِدۡہُمۡ بِہٖ جِہَادًا کَبِیۡرًا ’’ آپ ان سے جہاد کیجئے اس (قرآن) کے ذریعے سے بہت بڑا جہاد‘‘.
یہاں 
’’بِہٖ‘‘ کا جو چھوٹا سا ٹکڑا آیا ہے‘ میں معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ اکثر و بیشتر ہمارے اہلِ علم حضرات بھی اس کی اہمیت پر غور و فکر کیے بغیر سرسری طور پر گزر جاتے ہیں. میرا مشاہدہ ہے کہ جہاں بھی قرآن کے لیے ’’بِہٖ‘‘ بطور ضمیر مجرور آیا ہے‘ ہمارے اہل ِعلم‘ الا ماشاء اللہ‘ اس کا حق ادا نہیں کرتے. 

اس 
’’بِہٖ‘‘ کی اہمیت کے اظہار کے لیے دو مثالیں پیش کرتا ہوں.
پہلی مثال سورۂ بنی اسرائیل سے ہے جہاں فرمایا: 
وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ (آیت۷۹’’اور (اے نبی !) کچھ رات جاگتے رہیے اس (قرآن) کے سات ھ یہ بڑھوتری ہے آپ کے لیے‘‘.میرا اندازہ ہے کہ تہجد کی فضیلت‘ اس کی اہمیت اور اس کا مقام و مرتبہ تو ہمارے یہاں معروف اور مشہور ہے‘ کسی کو اس کی توفیق ملی ہو یا نہ ملی ہو‘ لیکن اس کی عظمت اور برکات سے ہر وہ مسلمان بخوبی واقف ہو گا جس کا تھوڑا بہت بھی دینی مزاج ہے. لیکن یہاں بھی ’’بِہٖ ‘‘ پر اتنی توجہ نہیں ہوتی جتنی ہونی چاہیے. تہجد میں اہم ترین شے قیام‘ وہ بھی طویل قیام ‘اور اس میں ترتیل کے ساتھ تلاوتِ قرآن ہے:

یٰۤاَیُّہَا الۡمُزَّمِّلُ ۙ﴿۱﴾قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا ۙ﴿۲﴾نِّصۡفَہٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡہُ قَلِیۡلًا ۙ﴿۳﴾اَوۡ زِدۡ عَلَیۡہِ وَ رَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِیۡلًا ؕ﴿۴﴾ (المزمل)

’’اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے! رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو‘ مگر کم‘ آدھی رات‘ یا اس سے کم کر لو‘ یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو‘ اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو.‘‘
لیکن ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ اس کا اہتمام کرتے ہیں عموماً وہ عام نوافل کی طرح آٹھ رکعتیں پڑھ لیتے ہیں‘ پھر بیٹھ کر مختلف اور ادو وظائف میں مشغول ہو جاتے ہیں اور زیادہ وقت اس میں صرف کرتے ہیں (الا ماشاء اللہ). یہ بھی بہت غنیمت ہے‘ لیکن اس کی برکات سے کماحقہ ٗ استفادہ تب ہو گا جب اِس میں طویل قیام ہو اور اس میں ترتیل کے ساتھ قرآنِ مجید کی تلاوت ہو. 

دوسری مثال سورۂ مریم کی ہے جہاں فرمایا:
فَاِنَّمَا یَسَّرۡنٰہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الۡمُتَّقِیۡنَ وَ تُنۡذِرَ بِہٖ قَوۡمًا لُّدًّا ﴿۹۷

’’پس یقینا (اے نبی !) اس کلام کو ہم نے تمہاری زبان میں آسان کر کے نازل کیا ہے‘ تاکہ تم اس (قرآن) کے ذریعے پرہیزگاروں کو خوشخبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کواس کے ذریعے سے خبردار کرو.‘‘

یہاں بھی غور فرمائیے کہ تبشیر و انذار کے لیے قرآن مجید ہی کو ذریعہ قرار دیا گیا ہے.لیکن ہوتا کیا ہے! یہ کہ ہمارے یہاں وعظوں اور خطبوں میں اکثر و بیشتر یہ کام اولیاء اللہ کے تذکروں یا مولانا رومؒ کی مثنوی سے لیا جاتا ہے. قرآن کی طرف بہت ہی کم توجہ دی جاتی ہے. بعینہٖ یہی معاملہ زیر نظر آیت ِکریمہ کا ہے: 
وَ جَاہِدۡہُمۡ بِہٖ جِہَادًا کَبِیۡرًا معلوم ہوا کہ یہاں جس جہاد کا حکم دیا جا رہا ہے اس شد و مد کے ساتھ‘ اس اہتمام کے ساتھ‘ اس تاکید و زور (emphasis) کے ساتھ‘ تو اس کے لیے ایک ذریعہ‘ ایک آلہ‘ ایک ہتھیار ہے جو جناب محمد رسول اللہ  کو عطا ہوا ہے. اس کے لیے بھی ایک تلوار ہے جو آپ کے دست ِمبارک میں تھمائی گئی ہے اور وہ ہے قرآن حکیم. لہٰذا ارشاد ہوا:’’اور (اے نبی !) ان (مشرکین و کفار) کے ساتھ جہاد کیجیے اس (قرآن) کے ذریعے سے بہت بڑا جہاد‘‘ .