متقدم

اسلامی جمعیت طلبہ علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور کی دعوت پر محترم ڈاکٹر صاحب نے یونیورسٹی کیمپس میں کالج کے ہاسٹل کی مسجد میں ۱۴ نومبر ۸۷ء کو یہ خطاب ارشاد فرمایا تھا جسے شیخ جمیل الرحمن صاحب نے ٹیپ کی ریل سے صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا.

الحمد للہ و کفی والصّلاۃُ والسلام علٰی عبادہ الذین اصطفیٰ خصوصاً علیٰ افضلہم و خاتم النّبیین محمدن الامین و علٰی آلہ و صحبہ اجمعین. اما بعد 
فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللّٰہ الرحمٰن الرَّحیم
لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَیِّنٰتِ وَ اَنۡزَلۡنَا مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡمِیۡزَانَ لِیَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ ۚ وَ اَنۡزَلۡنَا الۡحَدِیۡدَ فِیۡہِ بَاۡسٌ شَدِیۡدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ وَ رُسُلَہٗ بِالۡغَیۡبِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿٪۲۵
و قال تبارک و تعالیٰ :
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰۦ وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ؕ 
و قال اللّٰہ عزوجل:
قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۱﴾ … صَدَقَ اللّٰہُ مَوْلَانَا الْعَظِیْمُ 

ان آیات کی تلاوت کے بعد ڈاکٹر صاحب نے درودِ ابراہیمی پڑھا اور ارشاد فرمایا: عزیز طلبہ! مجھے ابھی یہ بتایا گیا ہے کہ اس وقت کی میری گفتگو کا موضوع ’’ حبِّ رسولؐ اور اس کے تقاضے‘‘ رکھا گیا ہے. اس سے پہلے یہ بات میرے علم میں نہیں آئی تھی‘ بلکہ مجھے عمومی انداز میں کہا گیا تھا کہ مجھے سیرتِ رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰ ۃ و السلام کے موضوع پر گفتگو کرنی ہو گی بہرحال ان دونوں چیزوں کے مابین کوئی زیادہ فرق اور بُعد نہیں ہے‘ ان کو آسانی سے باہم جوڑا جا سکتا ہے. یہ لازم و ملزوم ہیں.

لیکن میری آج کی گفتگو زیادہ تر جس تناظر میں ہو گی وہ سورۃ الحدید کی وہ آیت ِ مبارکہ ہے جس پر میں ابھی قرآن اکیڈمی میں مفصل درس دے کر آ رہا ہوں. میں نے آج کے اس اجتماع میں حاضری سے اسی بنیاد پر معذرت کی تھی کہ ہفتہ کو بعد نمازِ مغرب قرآن اکیڈمی میں میرا درس ہوتا ہے. ہم وہاں گزشتہ آٹھ ہفتوں سے سورۃ الحدید کا سلسلہ وار مطالعہ کر رہے ہیں اور آج کی نشست میں اس سورۂ مبارکہ کی پچیسویں آیت زیر درس تھی. جس کی میں نے آغاز میں تلاوت کی ہے.

آپ میں سے بہت سے حضرات کی نگاہوں سے شاید آج اخبارات میں وہ اشتہار بھی گزرا ہو جس میں اس درس سے متعلق مَیں نے تین سوالات معین کئے تھے . پہلا یہ کہ ’’ اسلام صرف تبلیغی مذہب ہے یا انقلابی دین؟‘‘ دوسرے یہ کہ ’’ اسلامی انقلاب کا اصل ہدف کیا ہے؟‘‘ اور تیسرا یہ کہ ’’ کیا اسلامی انقلاب کے لئے طاقت کا استعمال جائز ہے؟‘‘ … انہی تین سوالات کے حوالے سے مَیں اس وقت سیرت النبی علیٰ صاحبہا و الصلوٰۃ والسلام کے ضمن میں کچھ عرض کروں گا. باقی جہاں تک آپ کے مقرر کردہ موضوع کا تعلق ہے‘ اس سے اس کا بالکل واضح تعلق یہ ہے کہ حب ِ رسولؐ کا اصل تقاضا ہے اتباعِ رسول اللہ  … اپنی اس بات کی تاکید و تائید کے لئے میں نے آغاز میں سورۂ آل عمران کی آیت ۳۱ بھی تلاوت کی تھی جس سے ہمارے دین میں اتباع رسول کی جو اہمیت ہے وہ نہایت وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے آ جاتی ہے. ارشاد ہوتا ہے :

قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۱﴾ 
’’ اے نبی ( ! اہل ایمان سے) کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہوتو میرا اتباع کرو (میری راہ پر چلو) تا کہ اللہ تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہوں کو بخش دے ‘اور اللہ ہے ہی بخشنے والا‘ رحم فرمانے والا‘‘.