رسولوں کو بھیجنے کا مقصد

قرآن مجید میں رسولوں کی بعثت کا بنیادی مقصد سورۃ الحدید کی آیت نمبر ۲۵ میں بیان فرمایا گیا ہے. میں قرآن اکیڈمی کی جامع القرآن میں آج ہی عشاء سے قبل اسی ایک آیت پر مفصل درس دے کر یہاں حاضر ہوا ہوں. فرمایا: لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَیِّنٰتِ ’’ بلاشبہ‘ بالتحقیق ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو بیّنات کے ساتھ‘‘. یعنی واضح تعلیمات اور واضح نشانیاں دے کر. وَ اَنۡزَلۡنَا مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡمِیۡزَانَ ’’ اور ہم نے ان رسولوں کے ساتھ کتاب بھی نازل فرمائی اور میزان بھی‘‘. یہ سب کس لئے کیا! رسول کیوں بھیجے! کتاب اور میزان کس لئے نازل فرمائی! اس مقصد کو آیت کے اگلے حصّہ میں معین فرمایا گیا. لِیَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ ۚ ’’ تا کہ لوگ عدل و انصاف پر قائم ہوں‘‘. گویا رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجنے اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان یعنی شریعت نازل فرمانے کی غایت اور مقصد کو یہاں بیان فرمایا دیا گیا تاکہ لوگ عدل و قسط پر قائم ہوں . ظلم کا خاتمہ ہو جائے ‘جبر کا خاتمہ ہو جائے ‘استبداد کا خاتمہ ہو جائے اور استحصال کا قلع قمع ہو جائے. لیکن یہ نظامِ عدل کون سا ہو گا! ایک عدل کا نظام وہ ہے جو انسان اپنے ذہن سے بناتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کوئی System of Social Justice وجود میں آجائے. چنانچہ نظامِ عدل اجتماعی کا ایک تصور وہ ہے جو کمیونسٹوں کے ہاں ملتا ہے. ایک تصور مغربی ممالک کا ہے.

کوشش سب کی یہ ہے کہ ہم کسی حقیقی نظامِ عدلِ اجتماعی تک پہنچ جائیں .لیکن انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے جتنے تصورات ہیں ان میں کسی نہ کسی پہلو سے کوئی نقص یا خامی رہ جاتی ہے. حقیقی نظامِ عدلِ اجتماعی صرف وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کے ذریعے سے نوعِ انسانی کو عطا فرماتا ہے جسے ہم دین و شریعت کے نام سے موسوم کرتے ہیں. اللہ کے آخری نبی اور رسول محمد  پر اس شریعت کی تکمیل ہو گئی ہے. یہ نظام جس نے ہر ایک کے فرائض اور حقوق کا صحیح صحیح تعین کر دیا ہے. جس نے طے کر دیا ہے کہ کس کو کیا دیا جائے گا اور کس سے کیا وصول کیا جائے گا. جس نے معاشرے کے تمام طبقات کے حقوق و فرائض کا تعین نہایت متوازن اور فطری انداز میں کیا ہے اور جس نے ہر شعبۂ زندگی کا احاطہ کیا ہے‘ جس میں معاشرت بھی ہے اور سیاست بھی‘ تجارت بھی ہے اور معیشت بھی. جان لیجئے کہ اس نظامِ عدل و قسط کو قائم کرنا انبیاء کی بعثت کا ایک اہم مقصد رہاہے. اور یہ ہے وہ بات جو سورۃ الحدید کی آیت۲۵ میں بیان ہوئی ہے. 

اب ذرا اس پہلو پر غور کیجئے کہ اس نظامِ عدل و قسط کے قیام میں رکاوٹ کون بنے گا! ظاہر بات ہے کہ جو مظلوم ہیں وہ تو چاہیں گے کہ ظلم کا خاتمہ ہو‘ جو مستضعفین ہیں‘ جنہیں دبا لیا گیا ہے‘ جن کے حقوق غصب کئے گئے ہیں وہ تو چاہیں گے کہ ظالمانہ نظام ختم ہو جائے اور عادلانہ نظام قائم ہو. لیکن جو ظالم ہیں‘ جنہوں نے ناجائز طور پر اپنی حکومتوں کے قلادے لوگوں کی گردنوں پر رکھے ہوئے ہیں‘ جنہوں نے دولت کی تقسیم کا ایک غیر منصفانہ نظام قائم کیا ہوا ہے جس کے باعث ان کے پاس دولت کے انبار جمع ہو رہے ہیں چاہے دوسروں کو دو وقت کی روٹی بھی نہ مل رہی ہو‘ کیا وہ کبھی پسند کریں گے کہ استحصالی و ظالمانہ نظام ختم ہو جائے اور عدل و قسط کا نظام قائم ہو! شریعت ِ خداوندی و میزانِ عدل نصب ہو جائے. ان کی عظیم اکثریت یہ تبدیلی بالکل پسند نہیں کرے گی. لیکن ان طبقات میں بھی کچھ سلیم الطبع لوگ ہوتے ہیں جو بیدار ہو جاتے ہیں‘ ان کو احساس ہو جاتا ہے کہ واقعی یہ نظام غلط ہے‘ باطل ہے.

چنانچہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ کے نتیجہ میں خود آل فرعون میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے تھے. ایک مؤمن آل فرعون کا ذکر موجود ہے. سورۃ المؤمن میں ان کی پوری تقریر نقل کی گئی ہے جس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے : وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤۡمِنٌ ٭ۖ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَکۡتُمُ اِیۡمَانَہٗۤ (آیت ۲۸یہ صاحب جو آلِ فرعون کے اہم سرداروں میں سے تھے‘ فرعون کے دربار میں ان کا اونچا مقام تھا‘ ایمان لے آئے تھے! یہ اس لئے ہوا کہ ان کی انسانیت بیدار تھی. معلوم ہوا کہ ظالم اور استحصالی طبقات میں بھی کچھ سلیم الفطرت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب حق کی دعوت ان کے سامنے آتی ہے تو اسے قبول کر لیتے ہیں. لیکن ان کی تعداد ہمیشہ آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے اور عظیم اکثریت انہی لوگوں کی ہوتی ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ حالات جوں کے توں (status quo) رہیں‘ تا کہ ان کے مفادات اور منفعتوں پر کوئی آنچ نہ آئے. جاگیرداری نظام ہے تو جاگیردار کبھی پسند نہیں کرے گا کہ وہ نظام ختم ہو جائے. سرمایہ دارانہ نظام ہے تو سرمایہ دار کبھی نہیں چاہے گا کہ وہ نظام ختم ہو جائے. ہندو معاشرے میں برہمن کبھی پسند نہیں کرے گا کہ ذات پات کی اونچ نیچ ختم ہو جائے . برہمن کو جو اونچا مقام ملا ہوا ہے کیا وہ چاہے گا کہ شودر کو اس کے برابر بنا دیا جائے! لہذا چاہے سماجی ظلم ہو‘ چاہے معاشی ظلم ہو اور چاہے سیاسی ظلم ہو‘ ظالم طبقات کی عظیم اکثریت اپنے اس ظالمانہ نظام کی مدافعت اور محافظت (protection) کے لئے میدان میں آجاتی ہے. 

یہی وجہ ہے کہ سورۃ الحدید کی اس آیتِ مبارکہ کے اگلے ٹکڑے میں فرما دیا گیا: 
وَ اَنۡزَلۡنَا الۡحَدِیۡدَ فِیۡہِ بَاۡسٌ شَدِیۡدٌ ایسے لوگوں کی سرکوبی اور علاج کے لئے ہم نے لوہا بھی اتارا ہے. لوہے میں جنگ کی صلاحیت ہے ‘اس سے اسلحہ بنتا ہے. لوگوں کے لئے اس لوہے میں دیگر تمدنی فائدے بھی ہیں . لیکن اس آیت کی رو سے لوہے کا اصل مقصد یہ ہے کہ میزانِ خداوندی کے نصب کرنے کے مشن میں جو لوگ بھی رسولوں کے اعوان و انصار بنیں اور نظامِ عدل و قسط کے قیام کے لئے تن من دھن لگانے کے لئے تیار ہو جائیں‘ وہ حسب ِ ضرورت اور حسب ِ موقع اس لوہے کی طاقت کو استعمال کریں اور ان لوگوں کی سرکوبی کریں جو اِس راہ میں مزاحم ہوں. چنانچہ اسی آیت مبارکہ کے اگلے حصّہ میں اس کو اللہ تعالیٰ ایمان کی کسوٹی اور اپنی اور اپنے رسولوں کی نصرت قرار دیتا ہے. ارشاد ہوتا ہے: وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ وَ رُسُلَہٗ بِالۡغَیۡبِ ؕ یعنی اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون ہیں اس کے وفادار بندے جوغیب میں رہتے ہوئے اللہ کے دین کی اقامت کے لئے اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں .یہ آیت ِ مبارکہ ختم ہوتی ہے ان الفاظ مبارکہ پر اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿٪۲۵﴾ ’’ بے شک اللہ قوی ہے‘ زور آور ہے‘ زبردست اور غالب ہے‘‘. یعنی لوہے کی طاقت کو ہاتھ میں لے کر اللہ کی راہ میں محنت کرنے اور اللہ کی نازل کردہ میزانِ شریعت کو نصب کرنے کی تعلیم و ہدایت اس لئے نہیں دی جا رہی کہ معاذ اللہ وہ تمہاری مدد کا محتاج ہے‘ اس القوی العزیز کو تمہاری مدد کی کیا حاجت! البتہ تمہاری وفاداری اور ایمان کا امتحان مقصود ہے. سورۃ الحدید کی یہ آیت قرآن مجید کی بڑی انقلابی آیت ہے اور اس میں عمومی اسلوب و انداز میں ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر رسولوں کی بعثت کا مقصد‘ ان کو کتاب و میزان دینے کی غایت اور لوہے کے نزول کا سبب بیان ہوا ہے.