نبی اکرم ﷺ کا مقصدِ بعثت : غلبہ دین

یہی بات اور یہی مضمون ‘ معین طور پر جناب محمد رسول اللہ  کی بعثت کے امتیازی مقصد کے ذکر میں قرآن حکیم میں تین جگہ یعنی سورۃ التوبہ‘ سورۃ الفتح اور سورۃ الصف میں فرمایا گیا. فرمایا: ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ ’’ وہی (اللہ ) ہے جس نے بھیجا اپنے رسولؐ کو‘‘ (اب یہاں واحد کا صیغہ آیا رسول جبکہ سورۃ الحدید میں آیا تھا لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا وہاں رُسل جمع کا صیغہ تھا) کیا دے کر بھیجا! بالہدی .پہلی چیز جو حضور  دے کر بھیجے گئے وہ ہے الہدیٰ یعنی قرآن حکیم‘ ابدی ہدایت نامہ ؎ 

نوعِ انساں را پیامِ آخریں حاملِ اُو رحمۃلّلعالمین 

آپ کو یاد آگیا ہو گا کہ ٹیلی ویژن پر کبھی میرا ایک پروگرام چلتا تھا‘ میں نے اس کا نام خود ’’ الہدیٰ‘‘ تجویز کیا تھا اور وہ اسی آیت سے ماخوذ تھا .لیکن حضور  کو صرف الہدیٰ نہیں دیا گیا بلکہ ایک اور چیز بھی عطا کی گئی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ ’’ اور حق کا دین یا سچا دین‘‘ بھی دیا گیا. یہ ہے وہ نظام‘ جو عدل و قسط پر مبنی ہے. اللہ کی طرف سے نوعِ انسانی کے لئے آخری اور مکمل شریعت! رسول اللہ کو کیوں بھیجا گیا! حضور  کو دین حق کس لئے دیا گیا! اس امتیازی مقصد کی تعیین ہے جو اِس آیت سے واضح ہوئی. آپ غور کیجئے کہ حضور  نے دعوت بھی دی‘ تبلیغ بھی فرمائی‘ تربیت بھی دی‘ تزکیہ بھی کیا. یہ سب کچھ کیا. لیکن اس تمام جدوجہد (struggle) کا مقصد (goal) کیا ہے! وہ ہے لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ؕ ٖ ’’ تاکہ اس دینِ حق کو اور اس نظامِ عدل و قسط کو پورے نظامِ اطاعت پر غالب کر دیں‘‘ زندگی کا کوئی گوشہ اس سے باہر نہ رہ جائے. معاشرت ہو‘ معیشت ہو‘ سیاست ہو‘ حکومت ہو‘ قانون ہو‘ دیوانی قانون ہو چاہے فوجداری ہو‘ عبادات ہوں ‘معاملات ہوں‘ صلح و جنگ ہو. ہر شے دینِ حق کے تابع ہو جائے. اسی مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول کو مبعوث فرمایا. صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

اب آپ غور کیجئے کہ یہ ہے مقصدِ بعثت تمام رسولوں کا کہ نظامِ عدل و قسط قائم ہو‘ ظلم‘ ناانصافی‘ جبرواستبداد اور استحصال کا خاتمہ ہو جائے. اور اس نظامِ عدل و قسط کے قیام کے لئے جو اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے نازل فرمایا‘ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والے اپنے سر دھڑ کی بازی لگا دیں.یہی مقصد ِ بعثت جناب محمد رسول اللہ  کا ہے جو قرآن حکیم میں تین مقامات پر بیان ہوا ہے. اب جبکہ حضور کی بعثت خصوصی کا مقصد معین ہو گیا تو اللہ اور اس کے آخری نبی و رسول  پر ایمان لانے اور حضور سے محبت کا دعویٰ کرنے کے کچھ نتائج اور تقاضے ہیں جو سامنے آتے ہیں. میں اب انہیں ترتیب وار آپ حضرات کے سامنے پیش کرتا ہوں.

حضور کی محبت اور حضور  کے اتباع کا پہلا نتیجہ یہ نکلنا چاہئے کہ ہماری زندگی کا مقصد وہی ہو جائے جو آپؐ کی بعثت کا مقصد ہے. باقی تمام چیزیں اس کے تابع ہو جائیں. اگر مقصد یہ نہیں ہے پھر تو نقشہ ہی جدا ہو گیا. ہم نے زندگی کے بعض گوشوں میں حضور کی پیروی کر لی‘ مثلاً حضور کے لباس کی‘ وضع قطع کی‘ آپؐ کے روزانہ کے معمولات کی پیروی کر لی تو اپنی جگہ ہر چیز مبارک ہے‘ حضور کے نقشِ قدم کی جس طور اور جس انداز سے بھی پیروی کی جائے گی وہ نہایت مبارک ہے‘ لیکن بحیثیت مجموعی حضور نے اپنی زندگی کی جدوجہد کا جو رخ معین فرمایا وہ اگر ہم نے اختیار کیا نہیں تو ان چھوٹی چھوٹی چیزوں میں ابتاع نتیجہ خیز نہیں ہو گا. جیسے کہ سورۃ البقرۃ کے سترہویں رکوع میں فرمایا گیا: 
وَ لِکُلٍّ وِّجۡہَۃٌ ہُوَ مُوَلِّیۡہَا (آیت ۱۴۸’’ہر شخص کے سامنے کوئی ہدف ہے‘ کوئی مقصد ہے‘ جس کی طرف وہ بڑھ رہا ہے‘‘. آپ حضرات نے Struggle for existance کے نظریہ کا مطالعہ کیا ہو گا. آپ لوگ تو میڈیکل کے طلبہ ہیں‘ ظاہر بات ہے کہ آپ نے ڈارون کا فلسفہ پڑھا ہو گا اور آپ اس کے نظریہ Survival of the fittest سے واقف ہوں گے. اس جہادِ زندگانی میں ہر شخص زور لگا رہا ہے‘ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے اور ہر ایک کا کوئی نہ کوئی ہدف ہے. تو پہلی چیز جو حضور کی محبت کے تقاضا کے طور پر سامنے آئے گی وہ یہ ہے کہ ہمارا ہدف بھی وہی ہو جائے جو حضور کا تھا. اس وقت اس ہدف کے لفظ سے بے اختیار میرا ذہن علامہ اقبال مرحوم کے اس مصرع کی طرف منتقل ہوا کہ ؏ آہ وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف. تیر انداز پہلے تو اپنا ایک نشانہ مقرر کرتا ہے کہ میں نے تیر مارنا کہاں ہے ! پھر اس کی قوت روبعمل آتی ہے.

وہ جتنے زور کے ساتھ کمان کو کھینچ سکے گا اسی زور سے وہ تیر اپنے ہدف کی طرف جائے گا. علامہ نے اس مصرع میں دو چیزیں جمع کر دیں کسی تیرانداز کی جدوجہد کے ضائع اور بے نتیجہ ہونے میں دو عوامل (factors) شامل ہوتے ہیں. پہلا یہ کہ ہدف (Goal) معین نہیں. دوسرا یہ کہ کمان کو نیم دلانہ اور پوری قوت سے کھینچا نہیں گیا ہے. اس پر پورا زور نہیں لگایا گیا ہے. نتیجہ ظاہر ہے کہ کوئی تیر اِدھر کو چلا گیا کوئی اُدھر کو چلا گیا. ضروری ہو گا کہ ہدف بھی صحیح معین ہو اور پھر پوری قوت کے ساتھ تیر چلا کر اس ٹارگٹ کو Hit کرنے کی کوشش کی جائے. یہ دونوں چیزیں نہیں ہو ںگی تو تیر بے کار جائے گا.

بہرحال میں جو بات عرض کر رہا تھا وہ یہ ہے کہ حبّ ِ رسول کا پہلا تقاضا ہے اتباعِ رسول. اس اتباعِ رسولؐ کی پہلی منزل کیا ہو گی؟ یہ کہ ہر مسلمان شعوری طور پر اپنی زندگی کا ہدف معین کر لے کہ میری زندگی کا مقصد‘ میری زندگی کا ہدف‘ میری بھاگ دوڑ کی منزل مقصود وہی ہے جو جناب محمد رسول اللہ  کی تھی او ر وہ ہے اللہ کے دین کا غلبہ. اسے ملک نصر اللہ عزیز مرحوم نے ایک بڑے سادے انداز میں شعر کا جامہ پہنایا ہے ؎ 

مری زندگی کا مقصد ترے دیں کی سرفرازی میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی

میں نماز پڑھتا ہوں تا کہ اللہ یاد: رہے. روزہ رکھتا ہوں تا کہ نفس کے مُنہ زور گھوڑے کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت مجھ میں برقرار رہے. زکوٰۃ ادا کرتا ہوں تا کہ مال کی محبت دل میں ڈیرا لگا کر نہ بیٹھ رہے. لیکن ان تمام اعمال کو ایک وحدت میں پرونے والا مقصد کیا ہے! وہ ہے اللہ کے دین کی سرفرازی‘ اللہ کے دین کی سربلندی. جس شخص کی زندگی کا ہدف یہ نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہیں سے اس کی زندگی کا کانٹا بدل گیا. اب اس کا رخ کچھ اور ہو گیا. اب بعض اجزاء میں وہ حضور  کے نقش قدم کی پیروی کر بھی رہا ہے تو جب پٹڑی بدل گئی اور بحیثیت مجموعی حضور کا اتباع مقصود و مطلوب نہ رہا تو اب اس جزوی پیروی کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی. البتہ بحیثیت مجموعی اگر رخ وہی اختیار کر لیا تو اب ہر معاملہ میں حضور  کی پیروی نور علیٰ نور کے درجہ میں آجائے گی.