مراحلِ انقلاب

میں نے نبی کریم  کے منہجِ انقلاب کو سمجھنے کے لئے سیرتِ مطہرہ کا جب مطالعہ کیا تو انقلاب کے مختلف مراحل کا ایک واضح خاکہ میرے سامنے آ گیا اور اس خاکے کی روشنی میں سیرت کے تمام واقعات مجھے انتہائی مربوط و بامعنی معلوم ہوئے. میرے مطالعے کا حاصل یہ ہے کہ انقلابی جدوجہد کے چھ مراحل ہیں. پہلا مرحلہ ہے دعوت و تبلیغ کا. یعنی انقلابی نظریئے کی نشر و اشاعت! اسلام کا انقلابی نظریہ ہے نظریۂ توحید. جان لیجئے کہ یہ نظریہ نہایت انقلابی ہے اور اس کی زد بہت دُور دُور تک پڑتی ہے. سماجی اور معاشرتی میدان میں توحید کا تقاضا یہ ہے کہ تمام انسان برابر ہیں. سب کا خالق ایک اللہ ہے. پیدائشی اعتبار سے کوئی اونچا اور کوئی نیچا نہیں ہے. ذات پات اور حسب و نسب کی بنیاد پر تمام تقسیموں کی مکمل نفی ہو جاتی ہے. اسی توحید کی ایک فرع (Corollary) یہ ہے کہ حاکم صرف اللہ ہے. اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ . حاکمیت مطلقہ صرف اللہ کے لئے ہے. انسان کا کام صرف یہ ہے کہ اللہ کی حاکمیت کے نظام کو قائم کرے .ہاں اللہ کی عطا کردہ شریعت کے دائرے کے اندر اندر قانون سازی کی جا سکتی ہے. سیاست کے میدان میں اس سے بڑا انقلابی نظریہ اور کوئی نہیں ہو سکتا ؎ 

سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے حکمراں ہے اک وہی باقی بتانِ آزری

اسی طرح معاشیات کے میدان میں توحید کا تقاضا کیا ہے! لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اُن کا مالک صرف اللہ ہے‘‘. ملکیت انسان کے لئے ہے ہی نہیں. انسان کے پاس جو کچھ ہے بطورِ امانت ہے. اصل مالک تو اللہ ہے ؎ 

ایں امانت چند روز ہ نزدماست درحقیقت مالکِ ہر شے خدا ست

ملکیت میں تصرف کا حق لامحدود ہوتا ہے. آپ کا مال ہے آپ جو چاہیں کریں‘ میری ملکیت ہے میں جو چاہوں کروں‘ میری بکری ہے جب چاہوں ذبح کروں مجھے کلی اختیار حاصل ہے. لیکن امانت میں آپ ایسا نہیں کر سکتے. امانت میں مالک کی مرضی کے مطابق تصرف ہو گا. مالک کی مرضی کے خلاف اگر تصرف کیا جائے گا تو وہ خیانت شمار ہو گا. نظریۂ توحید کے تین تقاضے آپ کے سامنے آ گئے. معاشرتی سطح پر انسانی مساوات‘ سیاسی سطح پر اللہ کی حاکمیت اور انسان کے لئے خلافت کا تصور اور معاشی سطح پر ملکیت کی بجائے امانت کا تصور!

انقلابی جدوجہد کے دوسرے مرحلے کا عنوان ہے تنظیم. یعنی وہ لوگ جو شعوری طور پر توحید کی اس انقلابی دعوت کو قبول کر لیں‘ انہیں منظم کیا جائے. جماعتی شکل میں 
organize کیا جائے‘ اس لئے کہ محض نظریہ کی دعوت و تبلیغ سے انقلاب نہیں آ سکتا جب تک اس کی پشت پر فدائین اور سرفروشوں کی جماعت نہ ہو. اشتراکی انقلاب کو دیکھ لیجئے. جب تک اشتراکی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش نہیں کرتے‘ جب تک وہ جیلوں کو نہیں بھر دیتے‘ جب تک وہ پھانسی کے پھندوں کو چوم کر اپنے گلوں میں نہیں ڈالتے‘ کیا کمیونسٹ انقلاب کہیں آ سکتا ہے! اسی طریقے سے اسلامی انقلاب کے لئے ایک جماعت چاہئے‘ جان نثاروں کی جماعت جو پورے طور پر منظم ہو. جس کے لئے ہماری دین کی اصطلاح ہے سمع و طاعت (Listen and Obey) سنو اور اطاعت کرو. گویا ڈسپلن اس نوع کا ہونا چاہئے جیسے فوج میں ہوتا ہے. ڈھیلے ڈھالے نظم کے ساتھ انقلاب نہیں لایا جا سکتا.

تیسرا مرحلہ کیا ہے! تربیت اور تزکیہ‘ یعنی جس اللہ کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہو‘ اس کے احکام کو پہلے اپنے اوپر نافذ کرو. جس رسول  کے اتباع میں انقلاب برپا کرنے چلے ہو‘ پہلے اس رسولؐکی ہر اَداکو اپنی سیرت میں جذب کرو. جب تک یہ نہیں ہو گا کوئی کوشش بارآور نہیں ہو گی. فرض کیجئے کہ ایک شخص بہت فعال ہے‘ تنظیمی اور جماعتی کاموں میں لگا رہتا ہے‘ بہت بھاگ دوڑ کرتا ہے ‘لیکن اس سے دین کے احکام پر عمل میں کسل مندی‘ تساہل اور بے رغبتی کا اظہار ہوتا ہے‘ تو ایسے سپاہیوں سے گاڑی نہیں چلے گی. ایسے لوگ کسی امتحان کے مرحلہ میں خالی کارتوس ثابت ہوں گے. لہذا تیسرا نہایت اہم مرحلہ 
ہے تربیت اور تزکیہ کا .صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور نبی کریم  کی تربیت کا شاہکار تھے‘ ہمارے لئے اصل آئیڈیل وہ ہیں. اور واقعہ یہ ہے کہ جو تربیت حضور نے فرمائی تھی صحابہ کرام ؓ کی اس کی کوئی اور نظیر تاریخ میں نہیں ملتی. یہ وہ بات ہے جس کی گواہی دشمنوں کی طرف سے ملی .حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جب سپاہِ اسلام ایرانیوں کے خلاف صف آرا تھیں تو رستم سپہ سالارِ افواجِ ایران نے مسلمان فوجوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے کچھ جاسوس بھیجے. وہ بھیس بدل کر مسلمانوں کے کیمپ میں کچھ دن تک حالات کا مشاہدہ کرتے رہے. واپس جا کر انہوں نے رستم کو رپورٹ پیش کی کہ ہُمْ رُہْبَانٌ بِالَّیْلِ وَفُرْسَانٌ بِالنَّہَارِ ’’ یہ عجیب لوگ ہیں ‘ رات کو راہب نظر آتے ہیں اور دن میں شہ سوار ہیں‘‘. دنیا نے یہ دونوں چیزیں علیحدہ علیحدہ تو دیکھی تھیں. عیسائی راہب بڑی تعداد میں موجود تھے. آپ نے بحیرہ راہب کا واقعہ سنا ہو گا جس نے حضور  کو آپؐ کے بچپن میں پہچان لیا تھا. حضور  کے زمانہ تک عیسائیوں میں بڑے مخلص راہب موجود تھے. انہی میں وہ راہب بھی تھا جس نے حضرت سلمان فارسیؓ کو حضور کا پتہ دیا کہ جاؤ میرا علم بتاتا ہے کہ کھجوروں کی سر زمین میں نبی آخر الزمان کے ظہور کا وقت آ گیا ہے‘ جاؤ قسمت آزمائی کرو . اندازہ لگائیے کہ وہ کتنا بڑا عالم و راہب ہو گا. لیکن جو راہب ہوتے تھے وہ دن کے وقت بھی راہب ہوتے تھے رات کے وقت بھی. ان کے ہاتھ میں تلوار تو نظر نہیں آتی. اسی طرح قیصر و کسریٰ کی افواج بھی موجود تھیں لیکن جو دن کا فوجی ہے وہ رات کا بھی فوجی ہے. جہاں رات کو فوج کا پڑاؤ ہو جاتا تھا وہاں آس پاس کی کسی عورت کی عصمت کا محفوظ رہ جانا ایک معجزہ ہوتا تھا. گل چھرے اڑائے جا رہے ہیں‘ شراب کے دَور چل رہے ہیں‘ دل کھول کر عیاشی ہو رہی ہے.

اب نبی اکرم  کی تربیت و تزکیہ کا کمال دیکھئے کہ دو متضاد چیزوں کو جمع کر دیا. صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت و کردار پر اس سے زیادہ جامع تبصرہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ’’ ہُمْ رُہْبَانٌ بِالَّیْلِ وَفُرْسَانٌ بِالنَّہَارِ‘‘ کہ رات کو یہ راہب نظر آتے ہیں‘ اللہ کے حضور سر بسجود ہیں ‘ قیام کی حالت میں قرآن کی تلاوت ہو رہی ہے اور سجدہ گاہیں آنسوؤں سے تر ہیں‘ لیکن دن کے وقت یہی لوگ بہترین شہ سوار ہیں. اور نہایت دلیری سے لڑتے ہیں. تو جان لیجئے کہ کسی انقلابی جدوجہد کے یہ تین ابتدائی مراحل ہیں. دعوت‘ تنظیم اور تربیت و تزکیہ .ان تینوں کا حاصل یہ ہے کہ ایک انقلابی جماعت وجود میں آئے جو ایک طاقت اور قو ّت بن جائے. اس قو ّت و طاقت کا کام کیا ہے! جب تک کہ یہ طاقت بڑھ رہی ہے‘ grow کر رہی ہے‘ اپنے آپس کے روابط و تعلق کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرے. اپنی تنظیم کو مضبوط سے مضبوط تر کرے‘ اپنی دعوت کے ذریعے سے اپنے حلقۂ اثر اور base کو وسیع کرنے کی جدوجہد کرے‘ جب تک اتنی طاقت نہیں ہو جاتی کہ وہ باطل سے ٹکرا سکے اس وقت تک صبر محض پر عامل رہے. کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ ’’ ہاتھ بندھے رکھو!‘‘ چاہے تمہارے ٹکڑے اڑا دیئے جائیں‘ تم ہاتھ مت اٹھاؤ. میں اس کا اجمالی تذکرہ پہلے کر چکا ہوں. انقلابی جدوجہد میں اس صبر محض (Passive Resistance) کی بہت اہمیت ہوتی ہے ‘اس لئے کہ اگر ابتدائی مراحل میں انقلابی جماعت تشدد پر اتر آئے ‘ Violent ہو جائے تو اس معاشرے میں موجود باطل نظام کو اِس بات کا اَخلاقی جواز حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اس مختصر سی انقلابی طاقت کو کچل ڈالے. اس کے برعکس اگروہ انقلابی جماعت صبر محض کی پالیسی کو اختیار کرے اور ظالموں کی جانب سے تشدد کو جھیل جائے تو اس معاشرے کی رائے عامہ اس جماعت کے حق میں ہموار ہوتی چلی جائے گی.

قدرتی طور پر رائے عامہ کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ آخر اِن لوگوں کو کیوں ایذائیں دی جا رہی ہیں‘ ان کا جرم کیا ہے! کیا انہوں نے چوری کی ہے ‘یا ڈاکہ ڈالا ہے! کیا کسی کی ناموس و آبرو پر ہاتھ ڈالا ہے! کیا کسی غیر اَخلاقی حرکت کا ارتکاب کیا ہے!! ان لوگوں کا بس ایک جرم ہے کہ اللہ کو مانتے ہیں اور محمد  کے دامن سے وابستہ ہیں. یہی وجہ ہے کہ مَکّہ میں حکم یہی تھا کہ ہاتھ باندھے رکھو. مدافعت میں بھی ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں تھی. چنانچہ کفار کی طرف سے مسلمانوں پر بدترین تشدد ہوا جسے مسلمانوں نے کمالِ صبر سے برداشت کیا. لیکن ظاہر ہے کہ مَکّہ کے تمام لوگ تو سنگ دل نہیں تھے . وہاں کی خاموش اکثریت تو دیکھ رہی تھی کہ مسلمانوں کو ناحق ستایا جا رہا ہے اور یہی مسلمانوں کی اخلاقی فتح تھی جو بعد میں غزوۂ بدر میں اس طرح ظاہر ہوئی کہ تین سو تیرہ بے سروسامان لشکر کے سامنے ایک ہزار کا مسلح لشکر ٹھہر نہ سکا اور مسلمانوں نے کفار کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا. تو یہ صبرِ محض اس انقلابی تحریک کا نہایت اہم مرحلہ ہے. جب ہم ان مراحل کو ترتیب وار شمار کرتے ہیں تو صبرِ محض چوتھا مرحلہ قرار پاتا ہے ورنہ حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ مرحلہ دعوت کے پہلے دن سے شروع ہو جاتا ہے اور ابتدائی تینوں مراحل یعنی دعوت‘ تنظیم اور تربیت کے شانہ بشانہ چلتا ہے.

واقعہ یہ ہے کہ تعذیب و تشدد پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا اور اپنے مؤقف پر ڈٹے اور جمے رہنا انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور یہ صبر محض اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اتنی طاقت نہ ہو جائے کہ اس نظام کے ساتھ باضابطہ تصادم مول لے سکے. اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ ٹکراؤ کے بغیر انقلاب نہیں آتا. ٹھنڈے ٹھنڈے وعظ اور نصیحت سے انقلاب کبھی نہیں آیا. لیکن پختہ ہوئے بغیر اور مناسب تیاری کے بغیر ٹکراؤ ہو گیا تو تمام جہدوجہد اکارت جائے گی. تقریر کے آغاز میں مَیں نے آپ کو بتایا تھا کہ کوئی وجہ ہے کہ بارہ برس تک مشرکین کی طرف سے مَکّہ میں شدید ترین تشدد
(persecution) ہو رہا ہے‘ انتہائی ایذا رسانی کا سلسلہ جاری ہے لیکن حضور  کی طرف سے جوابی کارروائی کی اجازت نہیں ہے. ہر نوع کے جورو ستم کو برداشت کرو‘ اگر اللہ ہمت دے تو ان کی گالیوں کے جواب میں دعائیں دو. اس طرح اہل ایمان کا امتحان بھی ہو رہا تھا‘ تربیت بھی ہو رہی تھی.

لیکن جب طاقت اتنی فراہم ہو جائے کہ وہ انقلابی جماعت یہ محسوس کرے کہ اب ہم برملا اور کھلم کھلا باطل کو چھیڑ سکتے ہیں‘ اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں ‘تو انقلاب کا پانچواں مرحلہ شروع ہو جائے گا جس کا عنوان ہے اقدام یعنی 
Active Resistance یعنی اب اُس نظام کی کسی دکھتی رگ کو چھیڑا جائے گا. میں اس وقت اس معاملے کو بہت اختصار کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں. اس میں قدرے تفصیل کی ضرورت ہے. جاننے کا شوق اگر دل میں پیدا ہو جائے تو میری کتاب ’’ منہجِ انقلاب نبوی‘‘ کا مطالعہ کیجئے جس کا میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں. ہمارے دَور میں اگر کوئی ایسی اسلامی انقلابی جماعت وجود میں آجائے تو یہ فیصلہ کرنا کہ اب کافی طاقت فراہم ہو گئی ہے اور اقدام کا مرحلہ آ گیا ہے ‘اس کا انحصار امیر کے اجتہاد اور assessment پر ہو گا. نبی اکرم  کے لئے تو یہ فیصلہ اللہ کی طرف سے تھا. ہجرت ہو رہی ہے ‘ساتھ ہی آیت نازل ہو گئی! اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُۨ ﴿ۙ۳۹﴾ اجازت دی جا رہی ہے ان لوگوں کو جن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ گئے تھے کہ آج ان کے ہاتھ کھول دیئے گئے ‘اب وہ بھی retaliate کر سکتے ہیں‘ بدلہ لے سکتے ہیں. یہ فیصلہ کس کی طرف سے آیا! اللہ کی طرف سے ‘ وحی کے ذریعے سے.

اب وحی تو نہیں آئے گی. اب یہ فیصلہ اجتہاد سے ہو گا. اب فہم و ادراک کی پوری قو ّتیں کام میں لا کر فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ ہم باطل نظام کے ساتھ ٹکر لے سکتے ہیں! اگر مشورے کے بعد امیر جماعت کی یہ رائے بن گئی کہ ہمارے پاس معتدبہ تعداد میں ایسے کارکن موجود ہیں جو منظم ہیں‘ سمع و طاعت کے خوگر ہیں‘ ان کا تعلق مع اللہ مضبوط ہے‘ ان کی اسلامی نہج پر تربیت ہو چکی ہے ‘تزکیۂ نفس کی وادی سے وہ گزر چکے ہیں‘ اللہ کی راہ میں جان دینے کو وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں‘ وہ سینوں پر گولیاں کھانے کو تیار ہیں‘ پیٹھ نہیں دکھائیں گے‘ اگر لاٹھیوں کی بارش ہو گی تو وہ بھاگیں گے نہیں‘ جیلوں میں بھرا جائے گا تو وہ جیلوں کو بھر دیں گے ‘کوئی معافی مانگ کر نہیں نکلے گا. جب اندازہ ہو کہ ہمارے پاس اتنی طاقت ہے تو پھر چیلنج کیا جائے گا اور آگے بڑھ کر اقدام کیا جائے گا.

سیرت النبی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ و السلام میں یہ اقدام ہمیں اس شکل میں ملتا ہے کہ حضورؐ نے مدینہ تشریف لے جا کر ٹھنڈی چھاؤں میں آرام نہیں فرمایا. مستشرقین اور مغربی مؤرخین کی ہرزہ سرائی دیکھئے کہ وہ ہجرت کا ترجمہ کرتے ہیں 
Flight to Madina فلائٹ کا ترجمہ ہو گا فرار. معاذ اللہ ثم معاذ اللہ. فرار ہوتا ہے کسی مصیبت سے بچنے کے لئے بھاگ کر کہیں پناہ لینا .محمد رسول اللہ  نے مدینہ جا کر معاذ اللہ پناہ نہیں لی تھی. ہجرت دراصل عنوان ہے اس کا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ اور ان کے اعوان و انصارؓ کے لئے ایک Base فراہم کر دی تھی کہ جہاں سے اسلامی انقلاب کی تحریک کوLaunch کرنا ہے اور اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہے. حضورؐ نے مدینہ تشریف لا کر صرف چھ مہینے داخلی استحکام پر صرف فرمائے ہیں. اس عرصہ میں حضورؐ نے تین کام کئے ہیں. پہلا کام مسجد نبوی کی تعمیر. یہ مرکز بن گیا. دوسرا کام مہاجرینؓ اور انصارؓ کی مواخات اور تیسرا کام آپؐ نے یہ کیا کہ یہود کے تین قبیلوں سے معاہدے کر لئے. ان کو معاہدوں میں جکڑ لیا. طے پا گیا کہ وہ اپنے مذہب پر قائم رہیں گے. ان کے تمام شہری حقوق محفوظ رہیں گے‘ لیکن اگر کبھی کسی طرف سے مدینہ پر حملہ ہوا تو وہ مسلمانوں کا ساتھ دیں گے یا بالکل غیر جانب دار رہیں گے.

ان ابتدائی چھ مہینوں کے بعد راست اقدام کا مرحلہ شروع ہوتا ہے. آپؐ نے چھاپہ مار دستے بھیجنے شروع کر دیئے. قریش کی شہ رگ 
(Life Line) پر ہاتھ ڈالا اور ان کے تجارتی قافلوں کو مخدوش بنا دیا. ان مہموں کے متعلق میں اجمالاً میں گفتگو کر چکا ہوں.درحقیقت اس اقدام کا نتیجہ تھا کہ قریش کا ایک ہزار کا لشکر پوری طرح کیل کانٹے سے لیس ہو کر حملہ آور ہوا تھا سانپ بل سے باہر نکل آیا تھا اور اس طرح انقلاب محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ و السلام کا چھٹا اور آخری مرحلہ یعنی مسلح تصادم (Armed Conflict) کا آغاز ہو گیا. اب تلواریں اور نیزے ہیں‘ مقابلہ ہے. تلوار تلوار سے ٹکرا رہی ہے. یہ چھٹا اور آخری مرحلہ (Final phase) چھ سال کے عرصہ پر محیط ہے. اس دوران میں ہر طرح کی اونچ نیچ آئی. بدر میں ستر کافر مارے گئے‘ چودہ مسلمان شہید ہوئے. اُحد میں ستر صحابہ ؓ شہید ہو گئے. نشیب و فراز آئے ہیں. یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیَقۡتُلُوۡنَ وَ یُقۡتَلُوۡنَ ۟ (التوبہ ۱۱۱’’ وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں. قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں‘‘.

اللہ کی طرف سے یہ ضمانت نہیں تھی کہ اے اہل ایمان! میری راہ میں جنگ کرو‘ تم میں سے کسی کو کوئی آنچ نہیں آئے گی. یہ گارنٹی تو کہیں نہیں دی گئی تھی. تم کو تو اپنی جانیں دے کر اپنی صداقت کا ثبوت دینا ہے. عام اہل ایمان کو کہاں گارنٹی ملتی‘ حضورؐ کے لئے بھی گارنٹی نہیں تھی. طائف میں جب حضورؐ پر پتھراؤ ہوا ہے تو آپؐ کا جسد اطہر لہو لہان ہوا کہ نہیں ہوا!! اُحد میں جب حضور  کے چہرۂ مبارک پر تلوار کا وار پڑا ہے تو آپؐ کے دندان مبارک شہید ہوئے کہ نہیں ہوئے! خون کا فوارہ چھوٹا !کہ نہیں چھوٹا اور حضور  کے رخسارِ مبارک پر خود کی دو کڑیاں گھسیں کہ نہیں گھسیں! یہ سب کچھ ہوا. ہاں ان تمام آزمائشوں سے گزرنے کے بعد‘ اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں لگا دینے کے بعد وہ مرحلہ بھی آتا ہے کہ اللہ کی غیبی تائید و نصرت آ کر رہتی ہے. یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ کامیابی قدم چومے گی. وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾ (آل عمران) ’’ اور تم ہی سر بلند رہو گےاگر تم مؤمن ہوئے.‘‘