تقدیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

سلطنت ِخداداد پاکستان میں نظامِ خلافت کے قیام کے لیے ’’تحریک ِخلافت پاکستان‘‘ کا آغاز راقم الحروف نے ستمبر۱۹۹۱ء کو کراچی پریس کلب میں اپنی ایک پریس کانفرنس سے کیا تھا. وہاں جو تحریری بیان بھی تقسیم کیا گیا تھا وہ اس کے بعد ’’پاکستان میں نظام خلافت: کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟‘‘ کے عنوان سے لاکھوں کی تعداد میں طبع ہو کر تقسیم ہو چکا ہے. 

عربی زبان کے منطقی مقولے یعنی ’’الفضل للمُتقدِّم‘‘ اور نبی اکرم  کے فرمان مبارک: ’’من لم یشکر النّاس لا یشکر اللّٰہ‘‘ کے مطابق لازم ہے کہ قیامِ نظامِ اسلامی کے لیے اپنی تیس سالہ جدوجہد کے ہدف کے لیے اس عنوان کے اختیار کرنے میں مجھے جن حلقوں سے رہنمائی ملی ان کا حق ِشکر ادا کیا جائے. 

پاکستان میں اگرچہ اس سے قبل بھی بعض حضرات خلافت کے عنوان سے کام کر رہے تھے‘ اور ایک موقع پر اس کا ایک اجتماعی نظم بھی قائم ہوا تھا جس کے ایک اجلاس میں راقم کو بھی شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی تھی‘ لیکن افسوس کہ میرے گمان کے مطابق ان حضرات کے سامنے نہ کوئی واضح تصورات تھے نہ معین لائحہ عمل. 

میں نے سب سے پہلے جو تأثرلیاوہ ’’حزب التحریر‘‘ سے تھا ‘جو اَوّلاً تو فلسطینی اور اردنی عربوں کی تحریک تھی‘ لیکن انگلستان اور امریکہ میں ان کے زیر اثر پاک وہندکے بھی بہت سے مخلص اور جوش و جذبے سے سرشار نوجوان متحرک ہو گئے تھے. اس جماعت نے خاصا لٹریچر بھی خلافت کے متعلق اپنے تصورات و نظریات پر مشتمل شائع کیا‘ لیکن میں جہاں ان کے جذبۂ عمل سے تو بہت متأثر ہوا وہاں ان کے بہت سے نظریات سے اتفاق نہ کر سکا. تاہم یہ بات میری سمجھ میں آ گئی کہ ہمیں اپنے احیاءِ 
اسلام کے جہاد کے دنیوی ’’ہدف‘‘ کے طور پر ’’خلافت‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنی چاہیے. (’’حزب التحریر‘‘ کی مشہورِ زمانہ ’’خلافت کانفرنس‘‘ جو اوائل اگست ۱۹۹۴ء میں ویمبلے ایرینا‘ لندن میں ہوئی تھی‘ اس میں ان کی دعوت پر راقم نے بھی شرکت کی تھی اور عالمی میڈیا نے بھی میری تقریر کو بہت اہمیت دی تھی. چنانچہ اسی کے نتیجے میں مجھے دوبئی ائیر پورٹ سے واپس کر دیا گیا تھا.) 

اسی دوران میں کراچی میں ایک صاحب راؤ امید علی خان مجھ سے ملنے آئے. وہ پاکستان ائیرفورس کے وِنگ کمانڈر رہے تھے‘ لیکن ۱۹۷۱ء میں پاکستان کی ذلت آمیز ہزیمت سے بددل ہونے کے باعث قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے کر امریکہ منتقل ہو گئے تھے. وہاں ان کے بیان کے مطابق کچھ لوگوں نے اپنے اوپر یہ رضاکارانہ ذمہ داری عائد کر لی تھی کہ وہ یہودیوں کے عزائم اور منصوبوں سے آگاہی حاصل کرتے رہیں اور پھر ان کے سدباب کے ضمن میں مشورے عالم اسلام کی حکومتوں اور اہم اشخاص کو دیتے رہیں. انہوں نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہودیوں کی سازش کا واحد توڑ یہ ہے کہ عالم اسلام میں بالعموم اور ارضِ پاکستان میں بالخصوص قیامِ خلافت کی تحریک چلائی جائے. میں نے انہیں بتایا کہ میں از خود بھی اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں. لہذا ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا جائے. چنانچہ اس کے لیے متذکرہ بالابیان بالاتفاق مرتب ہوا. لیکن میری اقامت گاہ سے واپس گھر پہنچتے ہی انہوں نے فون کر دیا کہ وہ پریس کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے. اس پر میں نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنے طو رپر ہی پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور تحریک کے آغاز کا اعلان کر دیا. تاہم ان کا تذکرہ بھی یہاں اس شعر کے مصداق کر دیا گیا ہے کہ ؎ 

تم تو غم دے کے بھول جاتے ہو 
مجھ کو احساں کا پاس رہتا ہے!

____________ میں بارہا عرض کر چکا ہوں کہ اگرچہ مجھے احیائے اسلام کا ایک مبہم جذبہ تو اوّلاً علامہ اقبال کی ملی شاعری سے ملا تھا‘ لیکن اس خاکے میں تحریک اور اس کے لوازم و خدوخال کا رنگ مولانا مودودی کی تحریروں کے ذریعے بھرا گیا. مولانا مرحوم نے جماعت اسلامی کی تأسیس کے موقع پر اپنے ’’نصب العین‘‘ کی تعبیر ’’حکومت ِالٰہیہ‘‘ کی اسی اصطلاح سے کی تھی ‘جس کا استعمال اوّلاً مولانا ابوالکلام آزاد اور پھر ان کے بعد خیری برادران اور علامہ مشرقی نے کیا تھا لیکن بعد ازاں جب جماعت اسلامی میں مولانا امین احسن اصلاحی کی شمولیت کے بعد ان کے قرآنی فکر کا دھارا بھی مولانا مودودی کے افکار کے دھارے میں شامل ہو گیا تو اُس وقت اس کی تعبیر کے لیے خالص قرآنی اصطلاحات یعنی ’’شہادت علی الناس‘‘… ’’فریضہ ٔاقامت ِدین‘‘ اور ’’غلبہ ٔدین حق‘‘ کا استعمال عام ہو گیا. 

چنانچہ جب خود میں نے ۱۹۵۷ء میں جماعت اسلامی سے علیحدہ ہونے کے بعد ۱۹۶۵ء میں اپنی ذاتی مساعی کا آغاز کیا تو ان ہی اصطلاحات کو نہ صرف اپنا یا بلکہ اپنی بساط بھر مزید مدلل اور مبرہن بھی کیا. مزید برآں ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے فرضِ عین ہونے پر قرآن و سنت سے بھرپور استدلال قائم کیا اور اس کے مراحل و لوازم کے پورے نقشے کو بھی سیرت النبی سے اخذ کر کے دکھا دیا تاہم یہ احساس ضرور رہا کہ ان ثقیل اصطلاحات سے پڑھا لکھا طبقہ تو قدرے قلیل محنت سے مانوس ہو بھی سکتا ہے‘ لیکن عوام الناس کے ذہن و قلب تک ان کے ذریعے رسائی ممکن نہیں ہے. میں اسی حیص بیص میں تھا کہ متذکرہ بالا حلقوں کے ذریعے ’’خلافت‘‘ کی اصطلاح کی جانب ذہن منتقل ہوا. اور اس کے ساتھ اس حقیقت کی جانب بھی توجہ ہوئی کہ ’’خلافت راشدہ‘‘ کی تابناک یاد پوری نوع انسانی کے اجتماعی تحت الشعور میں ایک حسین خواب کی مانند ثبت ہے‘ لہذا اس کے ذریعے عوام و خواص دونوں کے قلوب و اذہان تک بآسانی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے. چنانچہ میں نے اس کے لیے ’’تحریک ِخلافت پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک ادارہ باقاعدہ رجسٹر کرا کے اس کے تحت کام شروع کر دیا!

اس کے بعد سے اب تک جو محنت میں خود اور میری جماعت یعنی ’’تنظیم اسلامی‘‘ اس ضمن میں کر سکی ہے‘ اس کا اصل حاصل تو یہ ہے کہ اب بحمد ِاللہ پاکستان کے دینی شعور کے حامل جملہ حلقوں میں یہ تحریک متعارف ہو چکی ہے‘ اور سب جانتے ہیں کہ جیسے تحریک ِپاکستان کے لیے جدوجہد کرنے والی جماعت کا نام ’’مسلم لیگ‘‘ تھا ایسے ہی تحریک ِخلافت پاکستان‘‘ کے لیے عملی کوشش کرنے والی جماعت کا نام ’’تنظیم اسلامی‘‘ ہے! اور اب ’’خلافت‘‘ کے عنوان سے پاکستان اور بیرونِ پاکستان ایک ہی ادارہ جانا اور پہچانا ہے اور وہ ہے ’’تحریک خلافت پاکستان!‘‘ جس کے داعی کی حیثیت اس خاکسار کو حاصل ہے!! 

یہ نتیجہ ظاہر ہے کہ تنظیم اسلامی کے جملہ رفقاء و کارکنان اور تحریک ِخلافت کے تمام ارکان و معاونین کے ایثارِ مال اور بذلِ نفس ہی سے برآمد ہو اہے. تاہم اس میں میری ’’ذاتی مساعی‘‘ دو اہم صورتوں میں سامنے آئیں‘ جو اپنی پیرانہ سالی اور معذوری کے درجہ تک پہنچ جانے والی علالت کے پیش نظر اللہ کے خصوصی فضل و کرم اور تائید و توفیق ہی کی مظہر قرار دی جا سکتی ہیں: 

ایک پورے پاکستان کا مفصل دورہ جس کے دوران لاہور‘ فیصل آباد‘ سرگودھا‘ میانوالی‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ بنوں‘ پشاور‘ راولپنڈی‘ گجرات‘ گوجرانوالہ‘ سیالکوٹ‘ رحیم یار خان‘ کوئٹہ اور کراچی میں کھلے میدان میں عوامی جلسے منعقد کیے گئے‘ جن میں میں نے دو دو اور اڑھائی اڑھائی گھنٹے کی تقاریر کھڑے ہو کر پورے جوشِ خطابت کے ساتھ کیں (جس کے نتیجے میں میرے گھٹنے جو پہلے ہی متأثر تھے‘ بالکل جواب دے گئے!ـ تاہم میں اپنے اس ’’ایثارِ جسم و جان‘‘ کو اپنے لیے موجب ِسعادت یقین کرتا ہوں!! چنانچہ بعدمیں میں ایک جانب مردان‘ دیر‘ ایبٹ آباد اور ہری پور میں‘دوسری جانب جہلم و پنڈی گھیپ اور مظفر آباد و دھیر کوٹ میں‘ اورتیسری جانب ساہیوال‘ ملتان‘ خانیوال‘ بورے والہ اور حیدرآباد سندھ میں ان جلسوں سے خطاب کرسی پر بیٹھ کر ہی کر سکا)اور دوسری‘ پاکستان کے بڑے بڑے ثقافتی مراکز میں ہالوں اور آڈیٹوریموں 
کی مسقف چار دیواری میں محصور پُرسکون ماحول میں ’’خطباتِ خلافت‘‘ کی صورت میں خالص علمی اور عقلی استدلال کے ساتھ نظامِ خلافت سے متعلق ان جملہ مسائل و مشکلات کے حل کی کوشش جو بالعموم نہ صرف مخالفین بلکہ موافقین کے ذہنوں میں بھی پائے جاتے ہیں.

ان بالعموم چار اور کہیں کہیں تین روزہ خطبات کا آغاز کراچی کے خالق دینا ہال سے ہوا تھا‘ جہاں اس صدی کے اوائل میں ’’تحریک ِخلافت‘‘ کے قائدین کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی سماعت ہوئی تھی. گویا اس کاروان کے از سر نو سفر کا آغاز اسی مقام سے ہوا‘ جہاں پر اس کی پیش رفت کو روک دیا گیا تھا اور اختتام لاہور میں ہوا‘ جہاں ۱۹۴۰ء میں ’’قرار دادِ پاکستان‘‘ منظور کی گئی تھی.

کراچی اور لاہور کے علاوہ یہ خطبات راولپنڈی‘ پشاور‘ کوئٹہ اور ملتان میں بھی دیے گئے تھے‘ تاہم پیش نظر کتاب کی ترتیب میں متن کے لیے ان کے آخری 
version یعنی جناح ہال لاہور کے خطبات کو ٹیپ سے اُتار کر اور غیر ضروری مکررات کو حذف کر کے مرتب کیا گیا ہے. 

ذاتی طور پر مجھے ان پر نظر ثانی کی مہلت حاصل نہیں ہو سکی ہے‘ لہذا انہیں اصلاً اہل علم اور اصحابِ دانش کی خدمت میں ’’عرضداشت بغرضِ استصواب‘‘ سمجھنا چاہیے. میں ان تمام بزرگوں اور عزیزوں کا حد درجہ ممنونِ احسان ہوں گا جو ان کے ضمن میں میرے فکر کی کجی یا آراء کی غلطی کوو اضح کریں ‘اور اللہ کو گواہ بنا کر وعدہ کرتا ہوں کہ ان کے تبصروں اور تجویزوں پر پوری توجہ کے ساتھ غور کروں گا. 

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میری اس سعی کو شرفِ قبول عطا فرمائے‘ اور اس سلطنت ِخداداد پاکستان میں ’’خلافت علیٰ منہاجِ النبوت‘‘ کے نظام کے قیام کو جو نبی اکرم  کی ’’رحمۃٌ للعالمینی‘‘ کا سب سے بڑا مظہر ہے‘ دنیا بھر میں قائم و نافذ کرنے کے لیے نقطہ ٔآغاز بنانے کی جدوجہد کی تمہید بنا دے. 
وما ذٰلک علی اللّٰہ بعزیز!! 
لاہور. ۲اکتوبر ۱۹۹۶؁ خاکسار اسرار احمد عفی عنہ
داعی ٔ تحریک خلافت پاکستان