فسق اور کفر کی حقیقت

آیہ ٔمبارکہ کا اختتام اس طرح ہو رہا ہے: وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ’’اور جو اس کے بعد بھی کفر کریں وہ تو نہایت ہی سرکش لوگ ہیں.‘‘ اس آیت میں ’’فاسق‘‘ بعینہٖ اسی معنی میں آیا ہے جس معنی میں ابلیس کو سورۂ کہف کی آیت۵۰ میں فاسق کہا گیا ہے: کَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہٖ ’ ’وہ جنات میں سے تھا تو اس نے اپنے رب کے حکم کے خلاف ’’فسق‘‘ (سرکشی) اختیار کیا.‘‘ گویایہاں فسق سرکشی اوربغاوت کے معنوں میں آیا ہے. 

اور یہ جو ارشا دفرمایا کہ ’’اس کے بعد بھی جس نے کفر کیا‘‘ تو اس آیت میں کفر کا مفہوم بھی سمجھ لینا ضروری ہے. کفر دراصل دو معانی کے لیے استعمال ہوتاہے. ایک تو کفر اصطلاحی ہے جس کا مطلب اسلام کا انکار‘ توحید کا انکار‘ رسالت کا انکار یا ضروریات دین میں سے کسی کا انکار کرنا ہے. جب کہ دوسرا کفر وہ ہے جو شکر کے مقابلے میں آتا ہے‘ جیسے کہ قرآن حکیم میں آتا ہے: 

لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَ لَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿۷﴾ (ابراہیم)

’’اگر تم میری نعمتوں کا شکر (اور قدر دانی) کرو گے تو میری طرف سے ان میں اور اضافہ ہو گا‘ اور اگر کفر (کفرانِ نعمت) کرو گے تو پھر (یاد رکھو) میرا عذاب بڑا سخت ہے.‘‘

اسی طرح سورۂ لقمان میں بھی کفر‘ شکر کے مقابلے میں آیا ہے. چنانچہ فرمایا گیا :

وَ مَنۡ یَّشۡکُرۡ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۱۲
’’جس نے شکر کی روش اختیار کی تو اس نے اپنا ہی بھلا کیا ‘اور جس نے کفرانِ نعمت کا وطیرہ اختیار کیا تو (اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ غنی (حمد و شکر سے بے نیاز) ہے‘ حمید (تمام اچھی صفات سے خود متصف )ہے.‘‘

لیکن سورۃ النور کی جس آیت پر گفتگو ہو رہی ہے اس میں کفر کے یہ دونوں ہی معانی مراد ہیں. چنانچہ یہ معنی بھی مراد ہیں کہ: 

۱ ) ’’جب اسلام کا غلبہ ہو جائے گا اور اس کے بعد بھی کچھ لوگ اگر کفر پر اَڑے رہیں گے تو گویا وہ شیطنت کا مجسمہ ہیں‘‘. کیونکہ غلبۂ کفر کی حالت میں تو کوئی عذر ہو سکتا ہے کہ آدمی مجبور ہے‘ حالات کے دباؤ کا شکار ہے. ایسی حالت میں ظاہر ہے کہ دین کا دامن فقط اصحابِ ہمت ہی تھام کر رکھیں گے. یہی لوگ نظام باطل سے ٹکرانے کی ہمت کر سکیں گے. لیکن دین کے غلبے کے بعد تو اکثریت کے لیے دین پر چلنا آسان ہو جائے گا. چنانچہ اس غلبے کے بعد بھی جو کفر پر اڑا رہے گویا اس میں سرے سے کوئی خیر ہے ہی نہیں. 
۲) اس کا دوسرا مفہوم بھی ہے جو ہم سے زیادہ متعلق ہے ‘اور وہ یہ ہے کہ ہماری (یعنی اللہ تعالیٰ کی) طرف سے اتنے پختہ وعدوں کے بعد بھی اگر تم کمر ہمت نہیں باندھتے تو گویا ہمارے وعدوں کی بڑی ہی ناقدری کر رہے ہو. 

البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس آیت ِمقدسہ میں جو بھی وعدے ہیں‘ وہ مشروط ہیں. چنانچہ ان کے ساتھ ایمان اور عمل صالح کی شرط لگی ہوئی ہے‘ گویا نام کے مسلمانوں سے اللہ کا وعدہ نہیں ہے. ایمان اور عمل صالح کا وعدہ تم پورا کرو گے اور ان کا حق ادا کرو گے تو خلافت عطا کرنے کا وعدہ ہم پورا کریں گے. 
(۳)