خطبہ ثالث

عہد ِحاضر میں 
نظام ِخلافت کا 

معاشی و معاشرتی ڈھانچہ اس حد درجہ اہم موضوع پر گفتگو سے پہلے چند تمہیدی باتیں واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں. آج سے پہلے جب کبھی اقتصادیات کے موضوع پر بات ہوتی تھی تو سوشلزم یا کمیونزم کے اقتصادی نظام اور مغربی سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام کے مابین ایک تقابل ہمارے سامنے آتا تھا‘کیونکہ دنیا میں بالفعل یہی دو نظام موجود تھے. جہاں تک تعلق ہے اسلام کا‘ وہ ذہنوں اور کتابوں میں تو موجود ہے‘ مگر بالفعل کسی خطہ ٔزمین پر اس کا وجود نہیں ہے. گویا وہی بات کہ’’مسلمانی در کتاب و مسلماناں درگور‘‘(اسلام کا وجود ’’کتاب‘‘ میں ہے اور مسلمان قبر میں).

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ دنیا کے دو اقتصادی نظاموں میں سے ایک کی تو گویا موت واقع ہو چکی ہے. چنانچہ اس کا حریف مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام اس وقت بڑے سرور اور نشے کی کیفیت میں ہے. ان کا کہنا یہ ہے کہ کمیونزم اور سوشلزم کے اقتصادی نظام کی ناکامی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارا نظام صحیح ہے. مغرب میں اپنی اس فتح پر جشن منایا جا رہا ہے.

اصولاً یہ بات عرض کر دوں کہ کمیونزم کا اقتصادی نظام اگرچہ ایک غیر فطری انتہا پسندی کو چھونے لگا تھا‘ لیکن اصلاً وہ مغرب کی سرمایہ د ارانہ معیشت کا فطری و منطقی ردِّعمل تھا. اس وقت دنیا میں پھر وہی مغربی سرمایہ دارانہ نظام چھایا ہوا ہے. چنانچہ اگر اسلام کا عادلانہ اقتصادی نظام دنیا میں نافذ نہ ہوا تو ردِّ عمل دوبارہ کسی اور شدید تر شکل میں ظاہر ہو جائے گا.مغربی سرمایہ دارانہ نظام میں یقینا کوئی فساد تھا کہ رد عمل کمیونزم کی صورت میں ظاہر ہو گیا.