بہرحال جنگ شروع ہوئی اور پہلے ہی ہلے میں اللہ کی مدد و نصرت آئی اور بالکل بدر کا سا نقشہ سامنے آ گیا. کہاں وہ تین ہزار کا لشکر او رکہاں یہ سات سو افراد! قریش کے ساتھ دو سو گھوڑوں کا رسالہ تھا. عرب کے اس دور کے حالات کے اعتبار سے یہ بہت بڑی بات تھی. واضح رہے کہ میدانِ بدر میں ان کے پاس سو گھوڑے جبکہ اہل ایمان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے، ایک حضرت مقداد بن الاسودؓ اور ایک حضرت زبیر بن العوامؓ کے پاس تھا. اسی طرح قریش کے ساتھ سو اونٹ تھے جبکہ نبی اکرم کے لشکر کے ساتھ ستر تھے. اس کے متعلق حفیظ جالندھری نے شاہنامۂ اسلام کی ایک نظم ’’بدر کی فریاد‘‘ میں بڑے پیارے انداز میں نقشہ کھینچا ہے:

یہ ستر اُونٹ دو گھوڑے یہاں سیراب ہو جاتے
مجاہد بھی وضو کرتے، نہاتے غسل فرماتے