زندگی مختصر ہے

زندگی مختصر ہے، جیسا کے ہر کوئی جانتا ہے۔ کیا زندگی واقعی مختصر ہے، یا ہم اس کے محدود یا رونا رو رہے ہیں؟ کیا اگر ہم دس گنا زیادہ جیتے تو کیا پھر بھی ہم شکایات نہ کرتے؟

چونکہ اس کا کوئی جواب نہیں، میں نے اس پر سوچنا چھوڑ دیا۔ پھر میرے بچے پیدا ہوئے۔ جن سے مجھے اس بات کو جواب ملا زندگی بےشک مختصر ہے۔

بچوں کے پیدائش سے مجھے اپنے بغیر حساب کے وقت کو بانٹنا پڑا۔ آپ اپنے ۲ سال کے بچے کے ساتھ صرف ۵۲ جمعہ کے دن گزارتے ہیں۔ اگر عید جادو کی طرح ۳ سے ۱۰ سال کی عمر تک ہوتی تو آپ اپنے بچوں کے ساتھ ۸ گنا زیادہ وقت بیتاتے۔ یہ کہنا ناممکن ہے کہ وقت جیسی چیز بہت زیادہ ہے یا کم، ۸ کچھ زیادہ نہیں ہے۔ اگر آپک کے پاس ۸ بادام ہوتے، یا الماری میں ۸ کتابیں جن کو آپ چن سکتے تو یہ تعداد محدود لگتی، چاہے آپ کی زندگی کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہوتی۔

ٹھیک، تو زندگی مختصر ہے۔ کیا اس کو جاننے سے کچھ فرق پڑتا ہے؟

میرے لیے ہاں۔ اس منطق کے لیے "کہ زندگی اس خاص کام لیے بہت مختصر ہے" بہت طاقتور ہے۔ یہ صرف بات نہیں کہ زندگی کسی کام کے لیے بہت مختصر ہے۔ یہ پریشانکن کے مترادف ہے۔ اگر آپ یہ سوچیں زندگی کسی کام کے لیے بہت مختصر ہے، تو آپ اس کام کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

جب میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں "زندگی بہت مختصر ہے" تو میں زہن میں ایک لفظ آتا ہے "لغویات کے لیے"۔ یہ جواب "لغویات" شاید دہرانا ہے، فقرے کو کہ زندگی بہت مختصر ہے۔ اگرچہ لغویات کا کردار کچھ خانص ہے۔ اس میں کچھ جعلی پن ہے۔ یہ جنک فوڈ کی طرح کا تجربہ ہے۔

اگر آپ اپنے آپ سے سوال کریں آپ اپنا وقت کن لغویات میں گزارتے ہیں تو آپ کو اس کا باخوبی اندازہ ہو جائے گا۔ غیر ضروری ملاقاتیں، فضول جھگڑے، بیوروکیسی، دیکھاؤا، دوسرے لوگوں کے غلطیوں سے نمٹنا، ٹریفک جام، غیر فائدے مند اوقات کسی لت میں گزارنا۔

یہ چیزیں آپ کی زندگی میں دو طرح سے آتی ہیں: یا یہ آپ پر مسلط کر دی جاتی ہیں، یا آپ کے ساتھ چال کھیلی جاتی ہے۔ کسی حد تک اس بکواس سے آپکو اپنی زندگی میں قبول کرنا پڑتا ہے صورتحال کی بنا پر۔ آپکو آمدن کمانی ہے، اور آمدن کے لیے آپکو عموممی کام کرنے ہیں۔  بےشک، طلب اور رسد کا اصول اس کو ممکن بناتا ہے۔ جتنا منافع بخش کوئی کام ہو اتنے سستے لوگ اُس کام کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کم لغویات آپ پر مسلط کی جائیں۔ ہمیشہ سے کچھ ایسے لوگوں کی تعداد رہی ہے جو اپنے مقام کو چھوڑ کر کسی ایسے جگہ منتقل ہو جاتے ہیں جہاں مواقع تو کم ہوں لیکن زندگی زیادہ کارآمد ہو۔ یہ زیادہ عموممی ہو سکتا ہے۔

یہ آپ کر سکتے ہیں بغیر اپنے مقام کو چھوڑے۔ جتنا وقت آپ فضول کاموں میں گزاریں یہ آجر سے آجر تک میں فرق ہو سکتا ہے۔ بہت سے بڑے (اور بہت سے چھوٹے) ادارے اس میں گہڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اگر آپ شعوری طور پر فضولیات سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہیں، نام و اکرام اور پیسے کی لالچ نہ کرتے ہوئے تو آپ کو بہت سے بہتر آج مل جائیں گے جو آپکا وقت ضائع نہ کریں گے۔

اگر آپ فری لانسر ہیں یا چھوٹی سی کمپنی کے مالک ہیں تو آپ گاھک کے درجے تک کر سکتے ہیں۔ اگر آپ زہریلے گاہکوں کو نکال دیں یہ اُن سے دوری برتیں، تو آپ اپنی زندگی میں لغویات میں کمی کر سکتے ہیں اپنی کمائی کو کم کئے بغیر۔

جبکہ کسی حد تک فضولیات آپ پر زبردستی مسلط کی جاتی ہیں، وہ فضولیات جو آپکی زندگی میں گھس جاتی ہیں کسی چال سے وہ آپ کے سواء کسی اور غلطی نہیں ہے۔ جو چیزیں آپکی زندگی میں چال کی طرح آ جائیں وہ آپ کو بیوقوف بنانے میں بہت موثر ہوتی ہیں۔ ایک مثال جو بہت سے لوگوں کو معلوم ہے وہ ہے آن لائن بحث میں پڑنا۔ جب کوئی آپ کی بات سے اتفاق نہیں کرتا، وہ ایک طرح سے آپ پر حملہ کرتا ہے۔ کبھی کبھار بہت بڑھ چڑھ کر۔ آپ کی جبلت میں ہے کہ آپ اس کا دفاع کریں۔ لیکن بہت سی جبلی عادات کی طرح یہ آج کے دور کی عکاسی نہیں کرتا۔ متضاد یہ لگتا ہے، یہ بہتر ہو گا اگر ہم زیادہ تر وقت اس میں ضائع نہ کریں۔ ورنہ یہ لوگ آپکی زندگی چھین رہے ہیں۔

آن لائن بحث کرنا اتفاق سے نشے کی طرح ہے۔ اس سے زیادہ خطرناک چیزیں بھی ہے جیسا کے ان کے متعلق میں نے پہلے بھی لکھا تھا۔ ٹیکنولوجی کی ترقی کا ایک حاصل ہمیں حد سے زیادہ چیزوں سے لت لگانا ہے۔ جس کا مطلب ہمیں شعوری طور پر اپنے آپکو قابل کرنا ہے کہ ہم اس لت میں نہ پڑیں، اپنے آپ سے باہر ہو کر اور سوچیں "کیا میں اپنا وقت اس طرح گزارنا چاہتا ہوں؟"

فضولیات کے برعکس اُن چیزوں کی تلاش جن کا فائدہ ہو۔ لیکن مختلف چیزیں، مختلف لوگوں کی سوچ سے مطابقت رکھتی ہیں۔ اُن کو کس چیز کی ضرورت ہے۔ کچھ لوگوں کو شروع سے اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کے وہ ریاضی سے محبت کرتے ہیں، جانوروں کی دیکھ بھال کرنے سے، اور وہ سیکھنا جس سے کچھ فائدہ ہو۔ لیکن زیادہ تر لوگ اپنی زندگی کا آغاز کش مش جیسے کرتے ہیں، اور رفتہ رفتہ معلوم کرتے ہیں، ان میں تمیز کرنا۔

نوجوانوں کے لیے اکثر، سب سے زیادہ الجھن بناوٹی صورتحال سے ہوتی ہے جو وہ اپنے لیے خود ڈھونڈتے ہیں۔ ۵ سے ۱۲ جماعت کے درمیان ہو سوچتے ہیں کہ دوسرے اُن کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، یہ ہی ان کو سب سے اہم چیز لگتی ہے۔ لیکن جب آپ بالغوں سے پوچھتے ہیں اُن کو کونسی چیز نوجوانی کی فضول محسوس ہوتی ہے، تو وہ بولتے ہیں دوسرے کا اُن کے بارے میں سوچنا۔

ایک انکشافی چیز جو آپ اپنے آپ سے پوچھنا چاہیں، کہ وہ کون سے چیز ہے جس کی آپ مستقبل میں قدر کریں گے۔ فضول چیزوں کا اصل چیزیں جن کی آپ قدر کرتے ہیں اُن کے قریب تر ہوتی ہیں۔ اس طرح آپ بیوقوف بنتے ہیں۔ ایک حد سے نیچے کا حصہ چھوٹا ہے لیکن یہ آپکی سوچ میں گھس جاتا ہے۔

چیزیں جو کارآمد ہوتی ہیں لازم نہیں کے لوگ ان کو اہم سمجھیں۔ دوستوں کے ساتھ کافی پینا اچھا کام ہے۔ آپکو یہ نہیں لگے گا کے آپ نے وقت ضائع کر دیا ہو۔

ایک چیز جو چھوٹ بچوں کی اہم ہے کہ وہ آپکو مجبور کرتے ہیں اُن چیزوں پر وقت گزارنے کے جو اُن کے لیے اہم ہوتی ہیں۔ وہ آپ کی قمیض پکڑتے ہیں جب آپ اپنی توجہ فون پر ڈالتے ہیں "کیا آپ میرے ساتھ کھیلو گے؟" اور یہ برعکس فضول کام کرنے کے برعکس ہے۔

اگر زندگی مختصر ہے تو آپ کو اس کے مختصر ہونا حیرت انگیز کر دے گا۔ اور یہ ہی اکثر ہوتا ہے۔ آپ چیزوں کو عطا کی صورت میں تصور کرتے ہو، اور پھر وہ چلی جاتی ہیں۔ آپ ہمیشہ سوچتے ہو آپ وہ کتاب لکھنا چاہتے ہو، یا پہاڑ سر کرنا، یا کچھ اور، اور پھر آپکو احساس ہوتا ہے کہ کھڑی بند ہو چکی۔ اداس ترین لمحات تب ختم ہوتے ہیں جب کوئی مر جاتا ہے۔ ان کی زندگیاں بہت چھوٹی ہوتی ہیں۔ جب میری ماں مر گئی تو میں نے سوچا کاش میں نے اُس کے ساتھ زیادہ وقت گزارا ہوتا۔ میں نے زندگی ایسے گزارے کے شاید وہ ہمشہ وہاں موجود تھی۔ اور اُس نے اپنے خاموش انداز میں اس برم کو قائم رکھا۔ لیکن یہ سب برم تھا۔ میرے خیال میں بہت سے لوگ انجانے میں غلطی کرتے ہیں جو میں نے کی۔

عام طریقہ کسی بھی تعجب سے بچنے کا کہ آپ شعوری طور پر اُس سے واقف ہوں۔ پہلے جب زندگی غیر معمولی تھی تو لوگ موت کے متعلق یوں شعور رکھتے تھے کہ اب یہ پاگل پن تصور ہو۔ مجھے نہیں معلوم کیوں، لیکن موت کے بارے میں اتنا سوچنا ٹھیک ہے اپنے آپ کو یاد کروانا۔ شاید بہتر حل اسکو دوسری طرف سے دیکھنا ہے۔ اپنے اندر اُن چیزوں کی جس کو تم طلب کرتے ہو شدت کی حدت بےصبرے ہو جاؤ۔ انتظار مت کرو پہاڑ چڑھنے کا یا کتاب لکھنے کا یا اپنے ماں سے ملنے کا۔ آپکو سوچنا نہیں چاہیے کیوں آپ نے ایسا نہیں کرنا، انتظار مت کرو۔ بس کر دو۔

میں دو اور چیزوں کے بارے میں سوچتا ہوں جب کسی کے پاس مزید نہیں ہوتیں: کوشش کرو اور حاصل کرنے کی، یا اُس کو محسوس کرو جو تمہارے پاس ہے۔ دونوں چیزیں ہی عقلمندی ہیں۔

کیسا آپ جیتے ہو اس پر میسر ہے کیسے آپ جیتے ہو۔ زیادہ طر لوگ بہتر کر سکتے ہیں۔ جن میں میں شامل ہوں۔

لیکن آپ مزید فرق ڈال سکتے ہو صرف اس بات کو قریب سے دیکھنے کہ آپ کا وقت کہاں صرف ہو رہا ہے۔ دنوں کو گزارنا آسان ہے۔ وہ "بہاؤ" جو خیالی پلاؤ بنانے والے لوگ جن سے محبت کرتے ہیں بہت زیادہ اس کا ایک کزن شیطان کزن ہے جو آپکو زندگی کی لذت سے دور دنیا کی پیچیدگیوں میں لے جاتا ہے۔ سب سے حیران کن چیز میں نے کتاب میں نہیں ایک کتاب کے عنوان میں پڑھی تھی: جیمز سالٹرز Burning the Days (دنوں کو جھلس جانا)

یہ ممکن ہے کے وقت کو سست کیا جا سکتا کسی حد تک۔ میں اس میں بہتر ہو چکا ہوں۔ بچے کا ہونا۔ جب آپ کے بچے چھوٹے ہوتے ہیں، بہت سے لمحات قیمتی ہوتے ہیں جن کے متعلق آپ سوچتے ہیں۔

یہ بات ضرور مدد کرتی ہے کہ آپ سوچیں کیسے آپ نے کسی تجربہ سے کچھ حاصل کیا ہے۔ مجھے اپنی ماں کے گزر جانے کا افسوس اس لیے نہیں ہوا کہ ہو چلی گئے مگر یہ کے ہم نے بہت سی وہ چیزیں نہ کیں جو ہم ایک ساتھ کر سکتے تھے۔ میں بڑا بچہ قریب ۷ کا ہو جائے گا۔ جبکہ میں اُس کا ۳ سال کا بچپنا یاد کروں گا۔ لیکن میرا اپنے ۳ سال کے بچے کے ساتھ بہترین وقت گزرا۔

شدت کے ساتھ فضولیات کا خاتمہ کریں، کچھ کرنے کے لیے کسی چیز کا انتظار مت کریں، اور وقت کی لذت کو محسوس کریں جو آپکے پاس ہے۔ یہ آپ تب کرتے ہو جب زندگی مختصر ہو۔