معاشی عدم مساوات

جنوری ۲۰۱۶

۱۹۷۰ کی دہائی سے امریکہ میں معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص کر امیر امیر ہوتے چلے گئے ہیں۔

تقریباََ ہر کوئی جو معاشی مساوات پر بات کرتا ہے وہ اس میں کمی پر بات کرتا ہے۔

میں اس میں دلچسپی رکھتا ہوں کیوں کہ میں ایک کمپنی کا مالک ہوں جس کا نام وائے۔کمبینیٹر ہے۔ ہم بہت سے لوگ جس سٹارٹ اپ سے متعلق ہیں اُن کی مدد کرتے ہیں۔ محض تعریف ہی سے اگر سٹارٹ اپ کے بانی کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ ایک دم امیر ہو جاتے ہیں۔ جس کا مطلب کہ میں جو سٹارٹ اپ کے بانیان کی مدد کر رہا ہوں تو معاشی عدم مساوات کو بڑھا رہا ہوں۔ مجھے سٹارٹ اپ بانیوں کو مدد نہیں کرنی چاہیے۔ کیا کسی کو بھی نہیں۔

لیکن یہ درست نہیں لگتا۔ تو کیا ہم نے دیکھایا ہے، بات کی روح تک پونچنے سے کہ معاشی عدم مساوات کو کم ہونا چاہیے۔ یہ بےشک برا ہے کہ بہت سے لوگ غربت میں پیدا ہوتے ہیں، جبکہ دوسری انتہا پر فنڈز مینیجرز ٹیکس بچانے کے لیے بہت سے راستے نکالتے ہیں۔

اس کا حال اس بات کو سمجھے میں ہے کہ معاشی عدم مساوات ایک ہی چیز نہیں ہے۔ اس میں کچھ بری ہیں جسے کے بچوں کا اپنی قابلیت کے مقام پر نا پونچنا، اور دوسری اچھی ہیں جیسے کے لیری پیج اور سرجے برن کا گوگل کی ایجاد جو آپکو آن لائن چیزوں کی تلاش میں مدد دیتی ہے۔

اگر آپ عدم مساوات کو سمجھنا چاہتے ہیں، اور مزید اہم اگر آپ اسے کے خراب حصوں کو درست کرنا چاہتے ہیں۔ اس موضوع پر تمام مضامین عام رجحان کے مطابق معاشت کے تمام حصوں کو ایک کر کے پیش کرتے ہیں۔

کبھی کبھار یہ فکری نظر کی بنا پر کیا جاتا ہے۔ اور کبھی لکھاری کے پاس اس سے متعلق صرف سطہی معلومات ہوتی ہیں، جس کی بنیاد پر وہ اسے تصنیف کرتا ہے۔ جیسا کے ایک شرابی جو چابیوں کو چراغ کی روشنی کے نیچے ڈھونڈتا ہے ناکہ وہاں جہاں اُس نے چابیں کھوئی ہوئی ہوں۔ کبھی کبھار مصنف عدم مسوات کی باریک پہلوں کو نہیں جانتا جیسا کے ٹیکنولوجی کا دولت کی تخلیق میں کردار۔ زیادہ تر وقت، شاید زیادہ تر وقت، لکھائی میں یہ تینوں پہلو موجود ہوتے ہیں۔

سب سے اہم غلطی جو لوگ معاشی عدم مساوات سے جوڑتے ہیں وہ یہ کہ یہ شاید ایک ہی رحجان ہے۔ جس کا ایک بنیادی سا مفروضہ "pie fallacy" پر مبنی ہے، کہ امیر امیر ہوتے ہیں غریبوں سے پیسے چھین کر۔
...اوپر کے طبقات زیادہ سے زیادہ قوم کی دولت کا حاصل کر رہے ہیں، بڑے حصہ میں سے ایک چھوٹا سا حصہ باقیوں کے لیے بچتا ہے ...
باقی وقت میں یہ غیر شعوری طور پر۔ لیکن غیر شعوری طور کا زیادہ اہم کردار ہے۔ شاید ہم ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوتے ہیں جہاں "pie fallacy" سچ ہے۔ بچوں کے لیے اگر دولت کی ایک مقدار ہے تو  اس کو بانٹنے سے یہ کم ہو گی۔ اس کو سمجھنے کے لیے آپکو شعوری کوشش کرنی ہو گی کہ ایسا نہیں ہے۔

حقیقی دنیا میں آپ دولت تخلیق بھی کر سکتے ہیں اور دوسرں سے لے بھی سکتے ہیں۔ ایک ترخان دولت تخلیق کرتا ہے۔ ہو کرسی بناتا ہے اور آپ اسے باخوشی اس کے بدلے پیسے دیتے ہیں۔ بات کرتے ہوئے دولت کی ادل بدل کو پیسے سے جوڑ کر پسل جانا آسان ہے۔

اگرچہ تخریب کاری کے معاملہ میں دولت کو کسی تناسب یا کررؤ سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ عموممی طور پر متعدد راستوں سے لوگ غریب ہوتے ہیں، اور متعدد راستوں سے امیر۔ جس کا مطلب ہے کہ معاشی مساوات کو سمجھنے کے لیے آپکو وہ فرد تلاش کرنے پڑیں گے جو امیر ہوں اور جو غریب، تاکہ آپ اس کا پیمانہ لگا سکیں۔

اگر آپ معاشی عدم مساوات کو بدلنا چاہتے ہیں، تو آپ پوچھیے لوگ کیا کریں جب ایسا نہیں تھا۔ ایک چیز جو میں جانتا ہوں کے امیر زیادہ امیر سب سے دولت منتقل کر کے نہیں ہو رہے۔ اگر ۱۹۶۰ سوچ بات کریں تو زیادہ تر لوگ امیر پروفیسر بن کر یا کسی بڑی کمپنی میں شمولیت سے ہوتے تھے، یہ چیز آپ سٹارٹ اپ پر چسپان نہیں کر سکتے کے جیسے کبھی تھا۔ اس سے قبل کے مارک زکربرگ نے فیسبُک بنائی اُس کی سوچ تھی کے وہ مائیکروسافٹ کے لیے کام کرے گا۔ وہ وجہ کی سٹارٹ اپ کے بانیان عام لوگوں سے زیادہ امیر ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کے ریگن انتظامیہ میں اس ملک نہ کچھ خاص کروٹ لی، لیکن ٹیکنولوجی کے عمل نے اب وہ کمپنی بنانا آسان کر دیا ہے جو بہت تیزی سے ترقی کر سکیں۔

روایتی ماہر اقتصادیات حیران کن طور پر انفرادی لوگوں کا مطالعہ کرنے سے کتراتے ہیں۔ لگتا ہے ایک اصول ہے کہ ہر چیز اعدار شمار سے ثابت کی جائے۔ وہ اس لیے آپکو بہت درست اعداد و شمار دیتے ہیں جن کا تعلق معاشرے میں آمدنی اور دولت سے ہو، پھر اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ایک بےدھڑک قیاس آرائی سے کہ ان کی وجوہات کیا ہیں۔

بہت سے لوگ صرف اس لیے امیر ہو جاتے ہیں کہ وہ کرایہ کے مختلف اقسام کو استمال کرتے ہیں، اور بہت سے لوگ زیرہ۔رقم کھیل سے (جس میں ایک حصہ جو کماتا ہو دوسرا حصہ کھو دیتا ہے)،  اور مزید بہت سے لوگ ہیں جو محض امیر دولت کی تخلیق سے ہوتے ہیں۔ اور بےشک دولت کے تخلیق مختلف ہے چھینے سے، معاشی عدم مساوات سے، نہ صرف اخلاقی طور پر، لیکن عملی طور پر بھی، اس سوچ سے کہ اسے مٹانا مشکل ہے۔ ایک اور وجہ کہ پیدواری میں تبدیلی میں تیزی واقع ہو رہی ہے۔ جس تناسب سے کوئی دولت کماتا ہے اس کا تعلق اُس شخص کے پاس موجود ٹیکنولوجی سے ہوتا ہے، اور یہ ایکسپونینشلی کی صورت میں ترقی کرتی ہے۔ دوسری وجہ دولت کی تخلیق  زبردست عدم مساوات کو جنم دیتی ہے، جب وہ پھیلتی تو دوسرے لوگوں اس میں جگہ ملتی ہے۔

میں مکمل طور پر کرپٹ راستوں سے دولت بنانے کو بند کرنے کا دائی ہوں۔ لیکن یہ دولت کی عدم مساوات کو کم نہیں کرے گا، کیونکہ جب تک آپ اس اختیار کو کھلا چھوڑ دیں گے کہ تخلیق کے زریعے دولت بنائی جا سکے، لوگ جو امیر ہونا چاہتے ہیں وہ وہ چیز کریں گے۔

زیادہ تر لوگ جو امیر ہوتے ہیں وہ منصف بنیادوں سے متاثر ہو کر چلتے ہیں۔ ان میں کوئی بھی خامی ہو سست روی اس میں سے ایک نہیں۔ مثلاََ نئی پالسی فائنینس میں دولت کمانے کو مشکل کر دیتی ہے۔ کیا یہ لگتا ہے جو لوگ فائنینس میں دولت کمانے جاتے ہیں وہاں جائیں گے اور عام آمدنی پر کام کریں گے؟ فائنینس میں جانے کی وجہ فائنینس نہیں بلکہ امیر ہونا ہے۔ اگر صرف سٹارٹ اپ ہی واحد دولت بنانے کا راستہ رہ جائے، تو ہو سٹارٹ اپ بنائیں گے۔ وہ اس میں بھی کامیاب ہو گی، کیونکہ کے عزم اصل عنصر ہے سٹارٹ اپ کی کامیابی کے لیے۔ اور یہ شاید دنیا کے لیے اچھی بات ہے کہ اگر لوگ جو امیر ہونا چاہتے ہیں زیرہ۔رقم کھیل کی بجائے تخلیق سے دولت بنائیں، شاید اسی ہی دولت کو بہت زیادہ بڑھا دیں۔ زیرہ۔رقم کھیل میں کم سے کم اوپر کی ایک حد ہے۔ مزید بہت سے سٹارٹ اپز نئی ٹیکنولوجی تخلیق کرتے ہیں جو دولت کے عدم مساوات کو مزید بڑھاتا ہے۔

پیداوار میں تغیرات ہی اب تک معاشی عدم مساوات کی وجہ ہیں۔ لیکن یہ اس معاملہ کا بنیادی ستون ہے، اس طرح سے کہ اگر آپ تمام دوسرے وجوحات کو ہٹا دیں۔ اور اگر آپ یہ کر دیتے ہیں، تو یہ ستون پھیل جائے گا جس میں تمام مہاجرین کی کوششیں بھی شامل ہو جائیں گی۔ مزید اس کے اردگر ایک بڑا باؤمول پینبورا ہو گا: جو کوئی امیر ہونا چاہتے ہے تخلیقی خود کے تخلیقی کام سے، آپ اُسے صرف اچھی آمدن دینے سے ہی روک پائیں گے۔

آپ دولت میں تغیرات کو کو روک نہیں سکتے جب تک آپ لوگوں کو دولت کمانے سے نا روکیں، اور آپ نہیں روک سکتے اُن کو سٹارٹ اپ شروع کرنے سے۔

تو اس بات کو صاف طور پر جان لی جئیے۔ بڑے پیمانے پر دولت میں تغیرات کو ختم کرنے کے لیے آپکو تغیرات کو ختم کرنا ہو گا۔ اور یہ کوئی عقلمندی کی بات نہیں۔ خاص کر جب اس کا مطلب ہو گا آپ نے اپنے ملک میں سٹارٹ اپز کو ختم کر دیا ہے۔ پرعزم لوگ آدھی دنیا گھوم کر اپنی زندگی بنانے کے لیے پونچ جاتے ہیں، اور سٹارٹ اپ دنیا میں کہیں بھی کام کر سکتے ہیں۔ تو اگر آپ نے یہ ناممکن بنا دیا کہ دولت تخلیق کی جا سکے تو وہ کہیں اور چلے جائیں گے۔ جس سے آپ کا Gini cofficient (عددی سر) کم ہو جائے گا، ساتھ میں سبق کے احتیاط رکھو جو تم مانگو۔

میرے خیال میں معاشی عدم مساوات ملکوں کے لیے ناگزیر تقدیر ہے جو اس سے برا کچھ انتخاب نہ کریں۔ ہمارے پاس ۲۰ء صدی میں کچھ ۴۰ سال کا عرصہ موجود ہے جب لوگوں نے اسے کچھ اور سمجھا۔ لیکن میں نے اس کا انتباہ The Refragmentation میں کیا تھا، کچھ منفرد حالات جنہوں نے امریکن معاشرے کو دبا دیا، صرف معاشی طور پر نہیں بلکہ ثقافتی طور پر بھی۔

اور کچھ معاشی عدم مساوات میں ترقی مخلتف بری عادات کی وجہ سے ہوئی تھی، اس کے ساتھ افرادی دولت بنانے کے مواقع میں بےحد اضافہ ہوا۔ سٹارٹ اپ اسی عرصہ کا نتیجہ ہے۔ اور سٹارٹ اپ دنیا میں بھی، پچھلے ۱۰ سال میں کچھ معیار کے حساب سے تبدیلی آئی ہے۔ ٹیکنولوجی نے سٹارٹ اپ کو آغاز کرنے کی قیمت کو کم کیا ہے، اس حد تک کہ سٹارٹ اپ بانیان انوسٹر پو ہاوی ہیں۔ بانیان کے شئر کم ڈیلوٹ dilute ہوتے ہیں، اور ہو کمپنی بورڈ کو بھی کنٹرول کر پاتے ہیں۔ دونوں معاشی عدم مساوات کا سبب بنتے ہیں، پہلا کے بانیان زیادہ سٹاک کی مالیت رکھتے ہیں، اور دوسرے انوسٹر نے یہ سیکھ لیا ہے کہ بانیان اپنی کمپنی چلانے میں بہتر ماہر ہیں۔

جبکہ سطح کا ظاہر بدلتا ہے، اسے کے نیچے کی طاقتیں وہی پرانی ہیں، بہت پرانی۔ پیداوار میں ترقی جو ہم سیلیکان وادی میں دیکھتے ہیں یہ ہزاروں سالوں سے ہو رہی ہے۔ اگر آپ پتھر کے زمانے کے ٹولز دیکھو، ٹیکنولوجی میسولتھک Mesolithic دور میں بھی ترقی تیزی سے ہو رہی تھی۔ اس ترقی کو ایک دور میں جانچنا ممکن نہ ہوتا کیونکہ یہ سست تھی۔ ایسا ہی کچھ فطرت ہے ایکسپونینشل کروو کے بائیں جانب کی۔

آپکو اپنے معاشرے کو ایسے بنانا ہے کہ وہ اس کروو سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ ٹیکنولوجی کا ارتقاء اس دنیا کی تاریخ میں بہت بڑی قوت ہے۔

لوئس برینڈیس نے کہا تھا "ہمارے پاس جمہوریت ہے، یا ہماری دولت چند ہاتھوں میں ہو، لیکن ہمارے پاس دونوں نہیں ہو سکتے۔" سننے میں یہ ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو فیصلہ کرنا پڑے آپ اِسے نظرانداز کر دیں یا ایکسپونینشل کروو کو جو ہزاروں سالوں سے کام کر رہا ہے، تو میں ایکسپونینشل کروو پر شرط لگاؤں گا۔ لیکن ایکسپونینشل کروو اکثر آپکو کاٹتا ہے۔

اگر تیزی سے پیدوار میں کچھ معاشی عدم مساوات پیدا کرتی ہے، یہ اچھا ہو گا اُس مستقبل کے بارے میں کچھ وقت کے لیے سوچا جائے۔ کیا آپ کا معاشرہ صحت مند ہو گا اس سے؟ کیا یہ آپکو پسند ہو گا؟

نوٹ کرو اس کو سوچنا کتنا مفید ہے۔ عوامی بحث محض معاشی عدم مساوات میں کمی کی طرف ہے۔ ہم شاید ہی سوچتے ہیں کیسے اس عدم مساوات کے ساتھ جی سکیں۔

مجھے امید ہے ہم یہ کر سکیں گے۔ برانڈیس Gilded Age زمانے کی پیداور تھا۔ اور چیزیں تب سے اب تک بدل چکی ہیں۔ اب غلط کام کو چھپانا مشکل ہے۔ اور امیر ہونا پہلے کی طرح سیاستدانوں کو خرید کر نہیں کیا جا سکتا جیسے تیل یا ریلوے کے سیٹھ کرتے تھے۔ دولت کی عظیم ریل پیل جو میں سیلیکان وادی میں دیکھتا ہوں مجھے وہ جمہوریت کو برباد کرتی دیکھائی نہیں دیتی۔

اور بھی امریکہ میں بہت کچھ خراب ہے، اقتصادیات صرف اُس کی ایک علامت ہے۔ ہمیں وہ چیزیں درست کرنی چاہیں۔ اسی عمل سے ہم معاشی عدم مساوات کو کم کر سکیں گے۔ ہم علامات سے وجوہات کو درست نہیں کر سکتے۔

سب سے عموممی غربت ہے۔ مجھے لگتا ہے جو لوگ معاشی عدم مساوات کو کم کرنا چاہتے ہیں وہ غریبوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں ناکہ امیروں سے پیسے چھینا۔ بےشک بہت سے لوگ اس بات میں پسل جاتے ہیں کہ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ غربت کم کرو جبکہ وہ اسے معاشی عدم مساوات کے نام سے پکارتے ہیں۔ لیکن اس صورتحال میں ہمیں درست تعین کرنا ہو گا ہمیں کیا چاہیے۔ کیوں کے غربت اور معاشی عدم مساوات ایک نہیں ہیں۔ جب شہر آپکا پانی بند کر دیتا ہے کیونکہ آپ بل نہیں دے سکتے، تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کے لیری پیج آپ سے کتنا مالدار ہے۔ اگر وہ آپ سے کچھ گناہ ہی زیادہ مالدار ہو تو بھی آپ کے پانی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

غربت کے ساتھ ایک اور چیز جسے ہم سماجی پیشرفت کہتے ہیں۔ میں نے خود دیکھی ہے: آپ پیدائشی تو پر امیر نہ ہوں یا اونچے درجے کے گھر میں پیدا نہ بھی ہوئے ہوں تو بھی آپ سٹارٹ اپ سے امیر ہو سکتے ہیں، لیکن کچھ ہی سٹارٹ اپ کے بانیان بےحد غریب ہوں معاشی طور پر اور وہ کامیاب ہوئے ہوں۔ لیکن یہاں مسئلہ محض معاشی عدم مساوات نہیں۔ یہ ایک بہتر بڑا فرق ہے اُس گھر میں جہاں لیری پیج پروان چڑھا اور جہاں ایک عام سٹارٹ اپ بانی پروان چڑھتا ہے، لیکن اس چیز نے اُس کو نہیں روکا کہ وہ ان کی صفوں میں شامل ہو جائے۔ یہ معاشی عدم مساوات نہیں جو معاشرے میں سماجی پیشرفت کر روکتی ہے، بلکے کچھ چیزوں کا امتزاج جو بچوں کے ساتھ رہتی ہے جو قدرے غریب پیدا ہوتے ہیں۔

سب سے اہم اصول سیلیکان وادی کا یہ ہے "آپ وہ بناؤ جسے آپ ناپ سکو۔" جس کا مطلب ہے اگر آپ ایک نمبر پر غور کرو گے تو ہو بڑھے گا، لیکن اس کا درست فیصلہ آپکو کرنا ہے؛ ایک اور اس سے ملتا جلتا خیال ہے کہ نمبر غور نہیں کرنا۔ مثلاََ اگر آپ یونیورسٹی کے صدر ہے اور آپ گریجویشن کے تناسب پر غور کرتے ہیں تو آپ اس کو بہتر کریں گے۔ طالبعلم شاید کم سیکھیں، اگر گریجویشن کے لیے آپ پڑھائی کو آسان کر دیں۔

معاشی عدم مساوات بہت سے مسائل سے دور تک بھی کوئی لین دین نہیں رکھتی جن کا سد باب کرنے کے لیے ہم دونوں میں سے ایک چنتے ہیں۔ اگر ہم معاشی عدم مساوات پر غور کریں، تو ہم یہ مسائل حل نہ کریں گے۔ تو میں کہتا ہوں مسائل کو حل کرنے پر غور کرو۔

مثلاََ غربت پر حملہ کرو، اور اگر ممکن ہو تو اس راستے میں پیسے کو برباد کرو۔ یہ اس سے بہتر کام ہے کہ جب آپ دولت پر حملہ کرتے ہو اس فکر میں کہ غربت ختم کر رہے ہو۔ اور اگر کچھ لوگ صارفین کو بیوقوف بنا کر امیر ہو رہے ہیں تو حکومت کو مخالف مقابلہ ریگولیشن اور ٹیش کے زریعے ان سراخوں کو بھرنا چاہیے، ناکہ ان کو روک دینا۔ اس لیے نہیں کہ یہ معاشی عدم مساوات کا باعث بنتی ہیں بلکہ یہ چوری ہے۔

اگر آپ کے پاس صرف اعداد و شمار ہیں، تو صرف آپکو انہیں درست کرنا ہے۔ لیکن اسے کے پیچے ایک وسیع اعداوشمار جیسے کے معاشی عدم مساوات جن کو کچھ چیزیں اچھی ہیں اور کچھ بری، کچھ تاریخی رحجانات ہیں جن میں بہت رفتار ہے جبکہ باقی بے ترتیب حادثات۔ اگر ہم دنیا اعداد و شمار کو درست کرنا چاہیں، تو پہلے انکو سمجھیں، پھر اپنی توجہ اور قوت لگائیں جہاں پر یہ سب سے زیادہ کارآمد ہو۔