ایک ضروری وضاحت

بدعت کی تعریف سمجھ لینے کے بعد ایک اور اہم بات سمجھنی ضروری ہے. وہ یہ ہے کہ نبی اکرم  کی وفات کے بعد مختلف اوقات میں مختلف نئے مسائل پیدا ہوئے جن کے حل کے لیے نئے قوانین بنانے کی ضرورت پڑی‘ لہٰذا اُس وقت کے علماء اور فقہاء نے اجتہاد کیا اورمختلف فقہاء نے ایک ہی مسئلے کے مختلف حل نکالے. ایسے اُمور ہمارے دین میں اختلافی امور ہیں. یا بعض ایسے معاملات بھی اختلافی امور سے تعلق رکھتے ہیں جو نبی اکرم  کے دور میں آپؐ کی سنت سے کبھی ثابت ہیں اور کبھی نہیں‘ جیسے’’رفع یدین‘‘ کا معاملہ.

اختلافی مسائل صرف وہی ہیں جن کے بارے میں دونوں طرف احادیث کی کوئی نہ کوئی سندیا دلیل موجود ہو‘ قطع نظر اس سے کہ ایک طرف صحیح حدیث ہو اور دوسری طرف ضعیف. لیکن وہ مسائل جن کے بارے میں سرے سے قرآن وسنت سے کوئی دلیل فراہم نہ کی جا سکتی ہو وہ بدعت ہیں‘ مثلاً رسم فاتحہ‘ رسم قل‘ دسواں‘ چالیسواں‘ گیارہویں‘ قرآن خوانی‘ میلاد‘ برسی‘ قوالی‘ چراغاں‘ کونڈے‘ جھنڈے وغیرہ ایسے افعال ہیں جن کا آج سے ایک صدی قبل کوئی تصور تک نہیں تھا.

اختلافی مسائل میں ہمارا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ علماء کے فتوے جان لینے کے بعد خود اپنے دل سے بھی فتویٰ لیں کہ آیا ہم رخصتیں تلاش کر رہے ہیں یا خلوصِ دل سے مسئلے کا حل تلاش کر رہے ہیں. جس پر دل کا اطمینان ہو اس پر عمل پیرا ہوں. کیونکہ نبی اکرم  کا ارشاد ہے: اِسْتَفْتِ قَلْبَکَ یعنی اپنے دل سے فتویٰ پوچھ. آیت قرآنی بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰی نَفۡسِہٖ بَصِیۡرَۃٌ ﴿ۙ۱۴﴾ (القیامۃ) کے مطابق انسان کو اپنے نفس پر بصیرت حاصل ہوتی ہے‘ وہ خوب جانتا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے.

ایک دوسرے پر اپنی رائے ٹھونسنا یا دوسرے کو قائل کرنے کے لیے زیادہ بحث و مباحثہ کرنا حکمت ِ دین کے خلاف ہے. افہام و تفہیم کے انداز میں بات کرنی چاہیے اور اس امکان کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہو سکتا ہے دوسرا شخص درست کہہ رہا ہو اور آپ غلطی پر ہوں. ان فروعی اختلافات میں شدت اختیار کرنے کی وجہ سے ہمارا دین حصے بخرے ہو گیا ہے اور ہر طرف کُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴿۳۲﴾ (الروم) کا نقشہ نظر آتا ہے. 

اختلافی امور کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک اہم وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ حفاظت ِ حدیث کے لیے ائمہ حدیث یا علمائے حدیث کی کاوشوں کو ضرور مد نظر رکھنا چاہیے اور حدیث کے معاملے میں ان کی احتیاط اور ان کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے. علمائے حدیث کی قربانیوں کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:

حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہماگواہی کے بغیر کسی کی حدیث قبول نہیں کرتے تھے. حضرت علی رضی اللہ عنہ راویٔ حدیث سے قسم لیا کرتے تھے. حضرت عثمان رضی اللہ عنہ احتیاط کی خاطر احادیث بہت کم بیان کرتے تھے. حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے تو احساسِ ذمہ داری سے ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا. 
امام رازی ؒ کہتے ہیں:’’پہلی بار طلب حدیث میں گھر سے نکلا تو سات سال تک سفر میں رہا‘‘.امام بخاریؒ جنہوں نے بہت ناز و نعم میں پرورش پائی تھی‘ طلب حدیث کی خاطر غریب الوطنی میں بے انتہا صعوبتیں برداشت کیں. ایک وقت ایسا بھی آیا کہ زادِراہ ختم ہو گیا اور تن پر لباس بھی نامکمل تھا. امام احمد بن حنبل ؒ حصولِ علم کے لیے یمن آئے تو ازار بن بن کر گزارہ کرتے رہے او رواپسی پر نانبائی کے مقروض تھے‘ اپنے جوتے قرض میں دے کر ننگے پیر روانہ ہو گئے. امام شافعی ؒ کو گرفتار کر کے پیدل دارالخلافہ روانہ کیا گیا جہاں وہ قید وبند کی صعوبتوں میں مبتلا رہے. امام احمد بن حنبلؒ نے کتاب و سنت کی خاطر جو ستم برداشت کیے وہ تاریخ اسلام کا بڑا ہی المناک باب ہے. امام ابوحنیفہؒ کا جنازہ جیل سے اٹھا.

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ائمہ احادیث کی ان کاوشوں کا تذکرہ کرنا اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ دَور میں ہم اختلافی اُمور اور فروعی معاملات کو بنیاد بنا کر مختلف فرقوں میں بٹ گئے ہیں اور فرقہ واریت اور انتہا پسندی نے ہمیں اتنا اندھا کر دیا ہے کہ ہم بڑے بڑے علماء کو تنقید کا نشانہ بنا دیتے ہیں‘ بغیر یہ دیکھے کہ علم وعمل میں وہ ہم سے کتنا آگے تھے. یہی فرقہ واریت ہمیں سنت رسولؐ کا صحیح علم ہو جانے کے بعد محض اس لیے اس پر عمل کرنے سے باز رکھتی ہے کہ ہمارے مسلک یا ہماری فقہ میں اس سنت رسولؐ کا تذکرہ نہیں ملتا. ایسا نہیں ہونا چاہیے‘ کیونکہ سبھی علماء کرام نے مسلمانوں کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ سنت صحیحہ سامنے آنے کے بعد ان کے اقوال و آراء کو بلاتامل ترک کر دیا جائے. میں چاروں ائمہ کرام کے اقوال مختصراً درج کر رہی ہوں تاکہ سنت کی اہمیت ہمارے اندر اُجاگر ہو.

امام شافعیؒ فرماتے ہیں:’’جب تم میری کتاب میں کوئی بات سنت ِ رسول ؐ کے خلاف پاؤ تو میری بات چھوڑ دو اور سنت کے مطابق عمل کرو اور کسی بھی دوسرے شخص کی بات پر توجہ نہ دو‘‘. (ابن عساکرؒ ‘ نوویؒ اور ابن قیمؒ نے اس کا تذکرہ کیا ہے)

امام احمد بن حنبل ؒ فرماتے ہیں:’’جس نے رسول اللہ کی حدیث کو ردّ کر دیا وہ ہلاکت کے کنارے پر کھڑا ہے.‘‘ 
امام ابوحنیفہ ؒ سے لوگوں نے پوچھا کہ اگر آپ کا کوئی قول قرآن کے خلاف ہو تو کیا کیا جائے؟ امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا: ’’قرآن کے مقابلے میں میرا قول چھوڑ دو‘‘. پھر پوچھا گیا کہ اگر آپ کا کوئی قول سنت ِ رسولؐ کے خلاف ہو تو کیا کیا جائے؟ امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا:’’سنت کے مقابلے میں میرا قول چھوڑ دو‘‘. پھر پوچھا گیا کہ اگر آپ کا قول صحابہ کرام ؓ کے قول کے برعکس ہو تو کیا کیا جائے؟امام ابوحنیفہ ؒ نے فرمایا:’’صحابہ ؓ کے مقابلے میں بھی میرا قول چھوڑ دو‘‘. (یہ قول’ عقد الجید‘ میں ہے)

اسی طرح ایک موقع پر امام مالک ؒ نے فرمایا:’’جو لوگ اللہ اور رسول ؐ کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے یا عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں‘‘. 
(فی شرح السنۃ) 

چونکہ دین اسلام کی بنیاد دو ہی چیزوں پر ہے‘ قرآن اور سنت ‘ لہٰذا خود نبی اکرم  اور آپؐ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کسی ایک فقہ کے پیروکار نہیں تھے‘ بلکہ فقہ کا تو ابھی وجود بھی نہیں تھا‘ پھر بھی وہ افضل ترین لوگ تھے اور صحیح دین پر عمل پیرا تھے. نبی اکرم  کی وفات کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کے معاملے میں ہمیں دل و دماغ کو کھلا رکھنا ہو گا. ایک امام کو تھام کر دوسرے امام کو ناقابل عمل ٹھہرانا درست نہیں ہے. ہمارے نزدیک چاروں ائمہ کرام کا اجتہاد اور تیار کردہ فقہ انتہائی قابل قدر علمی سرمایہ ہے جو کہ قرآن وسنت کی روشنی میں کیا گیا ہے. آئندہ بھی حالات کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق اجتہاد کی شرائط پر پورے اترنے والے فقہاء کے لیے سنت کی روشنی میں اجتہاد کی گنجائش ہر وقت موجود ہے اور اس سے عوام کو بھرپورا ستفادہ کرنا چاہیے.

قارئین کے استفادے کے لیے میں نے موضوع سے متعلق چند آیاتِ قرآنیہ اور احادیث کو یکجا کر دیا ہے تاکہ بوقت ضرورت انہیں ہینڈبل کی شکل بھی بآسانی دی جا سکے.