تعلیم کتاب

تلاوتِ آیات‘‘ اور ’’تزکیہ‘‘ کے بعد اس سلسلے کی تیسری اصطلاح ’’تعلیم کتاب‘‘ ہے. اور ’’کتاب‘‘ سے مراد درحقیقت احکام ہیں. چنانچہ قرآن مجید میں احکام کا ذکر بالعموم اس اسلوب میں کیا جاتا ہے:

کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ … کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِصَاصُ…کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ …‘ 
کُتِبَ عَلَیۡکُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ اِنۡ تَرَکَ خَیۡرَۨا ۚۖ الۡوَصِیَّۃُ لِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ 
(البقرۃ:۱۸۰

اسی طرح نماز کے بارے میں فرمایا گیا: 
اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتۡ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوۡقُوۡتًا ﴿۱۰۳﴾ 
(النسائ) 

ایسے ہی عیسائیوں کے رہبانیت اختیار کرنے کے بارے میں فرمایا گیا: 

مَا کَتَبۡنٰہَا عَلَیۡہِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰہِ 
(الحدید:۲۷

غرضیکہ قرآن حکیم میں جہاں کہیں کسی چیز کی مشروعیت اور فرضیت کا ذکر آتا ہے اس کے لیے’’کتاب‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے. چنانچہ قرآن ہی کا وہ حصہ جو احکام یعنی او امرو نواہی پر مشتمل ہے وہ ’’کتاب‘‘ ہے. اور آپ کو معلوم ہے کہ یہ حصہ ہجرت کے بعد نازل ہوا ہے. صرف نماز کے بارے میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہجرت سے دو سال قبل معراج کے موقع پر فرض ہو گئی تھی‘ ورنہ روزہ بھی ہجرت کے بعد فرض ہوا‘ زکوٰۃ کا نظام بھی بعد میں آیا‘ حج کے بارے میں ساری تعلیمات بعد میں آئیں‘ شراب کی حرمت بعد میں آئی‘ سود کی حرمت تو بہت بعد میں آئی. چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن حکیم میں ’’کتاب‘‘ کا حصہ بعد میں نازل ہوا.