لیلۃ القدر کی فضیلت کا بیان

حق تعالی فرماتے ہیں لیلۃ القدر خیر من الف شہر یعنی لیلۃ القدر بہتر ہے ہزار مہینوں سے۔ مطلب یہ ہے کہ اس رات میں عبادت کرنے کا اس قدر ثواب ہے کہ اس کے سوا اور ایام میں ہزار مہینے کرنے سے بھی اس قدر ثواب نہیں میسر ہو سکتا جتنا ثواب کہ اس ایک رات عبادت کرنے میں مل جاتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول امام سیوطی نے لباب النقول میں یہ نقل کیا ہے کہ تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا ایک مرد کا جو بنی اسرائیل کی قوم میں سے تھا اور جس نے ہزار مہینے اللہ تعالی کے راستے یعنی جہاد میں ہتھیار لگائے تھے پس تعجب کیا مسلمانوں نے اس بات سے اور افسوس کیا کہ ہم کو یہ نعمت کسی طرح میسر ہو سکتی ہے سو نازل فرمائیں اللہ تعالی نے یہ آیتیں انا انزلناہ فی لیلۃ القدر وما ادرک مالیلۃ القدر لیلۃ القدر خیر من الف شہر۔ یعنی یہ شب قدر بہتر ہے ان ہزار مہینوں سے جن میں اس مرد نے اللہ تعالی کے راستہ میں ہتھیار لگائے تھے یعنی جہاد کیا تھا اور دوسری روایت میں ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک مرد تھا جو رات کو عبادت کرتا تھا صبح تک پھر جہاد کرتا تھا یعنی لڑتا تھا دشمن دین سے دن میں شام تک سو عمل کیا اس نے ہزار مہینے یہی عمل کہ رات و عبادت کرتا تھا اور دن کو جہاد کرتا تھا پس نازل فرمائی اللہ تعالی نے آیۃ لیلۃ القدر خیر من الف شہر۔ یعنی ان ہزار مہینوں سے جن میں اس مرد نے عبادت و جہاد کیا تھا یہ رات بہتر ہے آؤ اے بھائیو اور بہنو اس مبارک رات کی قدر کرو کہ تھوڑی سی محنت میں کس قدر ثواب میسر ہوتا ہے اور اس رات میں خاص طور پر دعا قبول ہوتی ہے اگر تمام رات نہ جاگ سکو تو جس قدر بھی ہو سکے جاگو یہ نہ کرو کہ پست ہمتی سے بالکل ہی محروم رہو۔۔

حدیث میں ہے کہ یہ مہینہ یعنی رمضان تمہارے پاس آ گیا اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس رات کی برکت و اطاعت و عبادت سے محروم کیا گیا وہ تمام بھلائیوں سے محروم کیا گیا۔ اور انہیں محروم کیا جاتا ہے اس رات کی برکتوں سے مگر محروم یعنی ایسی بے بہا رات کی برکت جسے نہ ملی اور جس نے کچھ بھی عبادت اس شب میں نہ کی تو وہ بڑا بھاری محروم ہے جو ایسی نعمت سے محروم رہا۔ حدیث میں ہے کہ بے شک اگر اللہ چاہتا تو تم کو لیلۃ القدر پر مطلع کر دیتا لیکن بعض حکمتوں سے بالتعیین اس پر مطلع نہیں کیا اس کو رمضان کی سات اخیر راتوں میں تلاش کرو کہ ان راتوں میں غالب گمان شب قدر کا ہے اور تلاش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان راتوں میں جاگو اور عبادت کرو تاکہ لیلۃ القدر میسر ہو جائے۔ حدیث میں ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں شب رمضان کو ہوتی ہے اس رات کی تعیین میں بڑا اختلاف ہے مگر مشہور قول یہی ہے کہ ستائیسویں شب کو ہوتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اگر ہمت اور قوت ہو تو اخیر کی دس راتوں میں جاگے اور اس میں یہ ضرور نہیں کہ کچھ نظر آئے جب ہی اس کی برکت میسر ہو بلکہ کچھ نظر آئے یا نہ آئے عبادت کرے اور برکت حاصل کرے۔ اور مقصود یہی ہے کہ اس رات کی برکت اور اس قدر ثواب جو مذکور ہوا حاصل کرے۔ کسی چیز کا نظر آنا مقصود نہیں۔

مولانا اشرف علی تھانوی
اپریل ۲۰۱۹
اسلامی عقائد اور عمل پر فقہ کی ایک جامع کتاب۔