تقدیم - عرضِ مدیر

شاید یہ جاں نثار اختر کا شعر ہے۔

ہم نے اِنسان کے دُکھ درد کا حل ڈھونڈ لیا
کیا برا ہے اگر یہ افواہ اُڑا دی جائے

کچھ اِسی قسم کی کیفیت ہم سب احبابِ مجلس ادارت کی بھی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ دُکھ درد کا جو انوکھا حل ہمیں صاحبانِ فکر و دانش سے ملا ہے اُسے افواہ قرار دینے کو تیار نہیں ہیں بلکہ فی الواقعہ اُسے تمام اِنسانی درد کا درماں سمجھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ حل اِس اعتبار سے ناقابل موازنہ ہے کہ یہ نہ تو حکام کی نیک نیتی سے مشروط ہے اور نہ ہی اپنے خلا اور سقم کو وعظ و نصیحت سے بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ حل صرف آئینی اور قانونی نظام پر مبنی ہے۔

اِس تحریر پر علیحدہ سے دیباچہ لکھنے کی ضرورت تو نہ تھی، اِس لیے کہ یہ کوئی فکشن کی کتاب نہیں بلکہ اِس کی ہر سطر میں قاری اُسی طرح براہ راست مخاطب ہے جس طرح دیباچے میں ہوتا ہے۔۔۔ لیکن چند گزارشات ضروری تھیں۔

دنیا میں دو طرح کے اِنسان پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو بھیڑ بکریوں کی مانند ہیں اور انہیں اِس فکر سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ انہیں جس راستے پر ہانکا جا رہا ہے وہ منزل کی طرف جاتا بھی ہے یا نہیں؟۔۔۔ اور دوسرے وہ جن کی سوچ گلہ بان جیسی ہوتی ہے۔ یہی لوگ اِنسانیت کی قیادت جنم دیتے ہیں۔ ان میں سے جو لوگ مخلص ہیں اور سچے دل سے بے لوث ہو کر اِنسانیت کی زبوں حالی اور دُکھ درد پر درماں کے آرزومند ہوتے ہیں، اِس تحریر کے مخاطب وہی ہیں، چنانچہ اے عزیز قاری! اگر آپ ایسے نہیں ہیں اور آپ کو اپنے پیٹ کے علاوہ Rest of the World سے کوئی دلچسپی نہیں ہے تو یہ تحریر آپ کیلئے بیکار ہے، اِسے یہیں چھوڑ دیجیے ورنہ خوامخواہ سردرد کی دوا کھانی پڑے گی۔

ضروریاتِ زندگی حاصل کرنے کیلئے انسان کو محنت کرنا پڑتی ہے لیکن کئی لوگ اِس محنت سے جی چراتے ہیں۔ اب محنت کے بغیر کسی بھی شخص کیلئے ضروریاتِ زندگی حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہو سکتا ہے کہ اُس شخص کیلئے کوئی دوسرا فرد یا افراد محنت کریں اور اِن دوسرے افراد کی محنت کے ثمر میں سے کچھ حصہ اسے حاصل ہوتا رہے اوریوں وہ ہاتھ ہلائے بغیر دولت مند بنتا چلا جائے۔ اس مقصد کیلئے دو راستے جائز سمجھے جاتے ہیں، ایک گدا گری اور دوسرا قانونی جواز۔ جو لوگ بھیک نہیں مانگنا چاہتے اور محنت کیے بغیر دولت مند بنتے ہیں اور جن کا نام قرآن میں مترفین رکھا گیا ہے ان لوگوں کا طریق امارت یہ ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی محنت کے ثمر میں سے کچھ حصہ اس طرح حاصل کر لیتے ہیں کہ اس حصول کیلئے انہیں قانونی جواز اور تحفظ فراہم ہوتا ہے۔ اس جواز اور تحفظ کیلئے صرف تین سسٹمز، تین ہتھکنڈے ممکن ہیں۔

  • قوت و اقتدار کے زور پر چھین لینا
  • سرمایہ کاری کی بنیاد پر منافع لینا
  • مذہبی عقائد یا انسانی ہمدردی کے نام پر لوگوں کو بیوقوف بنا کر دولت اینٹھنا

قرآن نے ان تینوں سسٹمز کو بالترتیب فرعون، قارون اور ہامان کا نام دیا ہے اور طاغوت اس آئین مملکت کا نام ہے جو ان تینوں سسٹمز، ان انسٹیٹیوشنز کو قانونی اعتبار سے جائز ہونے کی سند عطا کرتا ہے۔ فرعون اقتدار حاصل کرنے کیلئے قارون سے فنانشل سپورٹ لیتا ہے اور پھر اقتدار کی قوت کے ذریعے ٹیکس اور انفلیشن کی صورت میں اس جواز کو اپنے لیے قانونی شکل دیتا ہے جبکہ دوسری طرف قارون کو اس کی سرمایہ کاری پر منافع حاصل کرنے کیلئے قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ہامان کا کاروبار یہ ہوتا ہے کہ مذہب اور انسانی ہمدردی کے نام پر اپنے لیے لوگوں سے مال اینٹھنے کے ساتھ ساتھ فرعون کی فرعونیت کو کیمو فلاژ کرے اور لوگوں کے سامنے فرعون کو ظل الہٰی قرار دیتا رہے تاکہ فرعون خود ہامان کے وجود کو سند جواز یعنی دولت اینٹھنے کی آزادی دستیاب رکھے چنانچہ وہ سامری بن کر چرب زبانی کے ذریعے لوگوں کو اپنے گرد جمع کرتا ہے، ان سے مذہب کے نام پر زر و مال کا مطالبہ کرتا ہے اور اس مال و زر سے بچھڑے کا بت یعنی کسی مذہبی مسلک کا ایک ہیڈ کوارٹر بناتا ہے جس کے اندر سے فرقہ بندیوں کی نئی نئی آوازیں نکلتی ہیں، تب یہ سامری سورہ طاہا کی آیت 88 کے انداز میں لوگوں سے کہتا ہے کہ یہی وہ مسلک اور عقیدہ یعنی الٰہ ہے جو تمام رسولوں کا الٰہ تھا اور تم اپنے رسول سے سمجھ نہیں سکے چنانچہ میں سمجھا رہا ہوں، اب اسی مسلک کے پیچھے پیچھے چلو اور اسی کی نشاۃ ثانیہ، اسی کو قائم کرنے کیلئے جان مال وقف کرو تاکہ آخرت کی نجات حاصل کر سکو، وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اور یوں سادہ لوح بیچارے لوگ فرقہ بندیوں میں منقسم ہو جاتے ہیں۔ ہر مسلک ہر فرقے کا طریقۂ واردات یہی ہے کہ لوگوں کو دو نکتے باور کرا دیے جائیں، پہلا یہ کہ حاکم کے بنائے ہوئے ملکی قانون کی اطاعت سے خدا خوش ہو گا، اس کی بھی مان کر چلو، اور دوسرا یہ کہ ہمیں بھی مال و زر پیش کرو یعنی خوب محنت کرو اور پھر فرعون کو ٹیکس کے نام پر ادائیگی کرتے رہو اور ہمیں زکوٰۃ و سخاوت کے نام پر، اس ادائیگی کے نتیجے میں تمہاری اپنی زندگی خواہ اذیت بھری بن جائے، پروا مت کرو، یہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے اور اس کے ٹھیکیدار ہم ہیں، تم ہمیں اِس دنیا میں چندے، کھالیں، صدقات وغیرہ پیش کرو، ہماری اجارہ داری جنت پر ہے اور ہم تمہیں اس جنت میں داخلہ دیں گے۔۔۔ کسی بھی مذہب کے کسی بھی فرقے کا مطالعہ کر لیجئے، لب لباب یہی اخروی زندگی کے نام پر دھوکا دہی نکلے گی اور بین السطور یہی ہو گا کہ دوسروں کی محنت کا ثمر اینٹھیں۔

فرقہ بندیوں سے پراگندہ اذہان کیلئے ہامان کی ایک اور قسم این جی اوز کے نام سے نمودار ہو چکی ہے۔ یہ ہامان مذہب کو درمیان میں لائے بغیر براہ راست انسانی ہمدردی کی دُکھتی رگ چھیڑ کر لوگوں کے ضمیر کو بلیک میل کرتا ہے، مقصد وہی ہے کہ مخیر حضرات سے سخاوت کے نام پر مال و زر اینٹھا جائے۔

قارون اور ہامان کا محافظ فرعون ہوتا ہے لہٰذا اگر فرعونیت کا ناطقہ بند کر دیا جائے تو قارونیت اور ہامانیت بھی دم توڑ جائے گی۔ سارا قرآن اسی ناطقہ بندی کے نظام کی تعلیم دے رہا ہے جس کو ہامان صدیوں سے جان بوجھ کر اوجھل رکھے ہوئے ہے اور اسی پوشیدگی کی وجہ سے انسانیت ایک آئیڈیل نظام کی تلاش میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں گزشتہ سطور میں ذکر ہو چکا کہ یہ نظام محنت کیے بغیر محض سرمایہ کاری کے جواز پر منافع حاصل کرنے کو جائز قرار دیتا ہے۔ اب ہر باشعور ذہن جانتا ہے کہ دولت کمانے کا یہ انداز معاشرے کیلئے زہر کے مترادف ہے کیونکہ اس طرح ہر محنت کرنے والے کو دوسروں کی ضروریات بھی پوری کرنا پڑتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے اس کا کوئی بہتر متبادل، کوئی ٹیکس فری ایسا نظام آج تک انسان کی سمجھ میں نہ آ سکا جس میں ہر شخص کو اس کی محنت کا پورا پورا ثمر بھی مل جائے اور معاشرے کی اجتماعی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں۔ انسان کا ذہن زیادہ سے زیادہ کمیونزم تک پہنچ سکا لیکن یہ نظام مزید بدتر ثابت ہوا کیونکہ اس میں زیادہ محنت کرنے والے کو زیادہ ثمر ملنے کی کوئی صورت دستیاب نہیں تھی اور کم محنت کرنے والے کو اجرت میں کمی کا خوف نہیں تھا، چنانچہ محنت کا جذبۂ محرکہ کم ہوتا چلا گیا۔ دوسری طرف الہامی وحی یعنی قرآن کے فہم کی طرف توجہ نہ دی گئی کیونکہ ہامان کو یہ بات گوارا نہ تھی چنانچہ فول پروف ایسا نظام آئینی شکل میں مرتب نہ ہو سکا جو اخلاقیات کا ڈھکوسلہ لیے بغیر کسی بھی معاشرے کو طبقاتی امتیاز، محرومیوں اور جرائم سے پاک ایک جنت نظیر معاشرے کا روپ دے سکے۔ اس نظام کی پہلی خوبی یہ ہونی چاہیے تھی کہ یہ نظام تینوں زہریلے انسٹیٹیوشنز یعنی فرعون، ہامان اور قارون کا تریاق بن سکے۔ زیر نظر تحریر ایسا ہی ایک نظام اجتماعیت دے رہی ہے جس کا کوئی شائبہ تک ہمارے علمی انبار میں اس سے پہلے نہیں تھا۔

اس تحریر میں کہا گیا ہے کہ یہ نظام قرآن سے ماخوذ ہے، ممکن ہے اس دعوے سے اختلاف ہو سکے، لیکن میری رائے میں یہ بات تقریباً ناممکن ہے کہ اس کے فول پروف ہونے پر دو رائے پائی جائیں۔ اول الذکر اختلاف کا تعلق آخرت سے ہے اور یوں یہ ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے جس پر بحث بیکار ہے جبکہ اس سسٹم کے فول پروف ہونے یا نہ ہونے پر اسوۂ ابراہیمی یعنی عقل اور منطق کے تناظر میں ضرور بحث ہونی چاہیے۔ اس سسٹم کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ چونکہ ہر شخص اپنے افعال کا مسؤل اور جوابدہ ہے لہٰذا اسے یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ جس صوابدیدی رائے، جس تحقیق یا جس فقہ کو بہتر سمجھے اسے بطور قانون اپنی عملداری، اپنی چاردیواری میں نافذ کرنے کیلئے آزاد رہے تاکہ اس سے جواب دہی کا جواز پیدا ہو سکے، مثال کے طور پر اگر کوئی فرد یہ سمجھتا ہے کہ اسے اپنے گھر میں بھی ایسا عائلی قانون جسے وہ خود حکم الٰہیہ سمجھتا ہے، دستیاب ہی نہیں ہے تو اس سے زنا کے گناہ پر باز پرس کیسے کی جا سکتی ہے؟۔۔ یہی آزادی اور اپنے لیے قانون سازی کا اختیار اس فول پروف نظام کا میگنا کارٹا ہے جو اس تحریر میں آپ کے زیر نظر آئے گا۔

یہ ایک ایسا انوکھا اور فراخ دل قانونی نظام ہے جو نہ تو معاشرے میں موجود کسی دوسرے قانون کو منسوخ کرتا ہے اور نہ ہی سوشلزم کی طرح معاشرے کے کسی بھی فرد کو محض اپنے تحت چلنے پر مجبور کرتا ہے بلکہ ہر شہری کو حق دیتا ہے کہ وہ اِس قانون کو اِختیار کرے یا اِس کی بجائے پہلے سے مروجہ سسٹم ہی اپنائے رکھے، لیکن اِس کے باوجود یہ قانون معاشرے کو مسائل سے یکلخت پاک کر دینے کا ضامن ہے۔ گویا یہ قانون کسی بھی ملک کے آئین کی کتاب میں اِسی طرح ہے جیسے کسی ریسٹوران کے منیو میں ایک ایکسٹرا ڈِش۔۔۔ اور یہ ڈِش ہر اُس معاشرے کو تمام مسائل سے آناً فاناً نجات کی گارنٹی دیتی ہے جو اِس کو اپنے شہریوں کیلئے دستیاب کر دے۔ اِس تحریر میں اِسی ڈِش، اِسی قانونی نظام کی تشکیل کے مدارج زیر نظر لائے گئے ہیں۔

ہرچند اِس مقالے کا بنیادی خیال پیش کرنے والوں نے آسمانی کتب بالخصوص قرآن سے ہی اکتساب کیا ہے تاہم اِس تحریر کے ابتدائی سولہ ابواب میں جہاں اِس نظام کی تشکیل اور ثمرات کا ذکر ہے، آپ کو مذاہب کے حوالے بہت کم ملیں گے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس پیغام کو کسی ایک معاشرے یا کسی ایک مذہب کے ماننے والوں تک محدود کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ مد نظر پہلو یہ ہے کہ وہ لوگ جو مذہب کی بجائے صرف عقل و منطق کی بنیاد پر اُس آفاقی نظام کو سمجھنا چاہیں ان کیلئے بھی اتمام حجت ہو سکے لہٰذا آخری دو چار ابواب کے سوا یہ تجزیہ اکثر و بیشتر کائناتی مشاہدات، اِنسانی تاریخ اور منطقی نتائج پر ہی اُستوار کیا گیا ہے، البتہ آخری ابواب میں اِس تجزیئے کے قرآنی حوالے بھی پیش کر دیے گئے ہیں۔

بطور مدیر میری کوشش یہ رہی ہے کہ طرز تحریر کو سادہ اور سلیس رکھوں اِسی لیے میں نے علمی تحقیقی موضوعات زیر بحث لاتے ہوئے بھی عام فہم اُسلوب اور دور حاضر کی اصطلاحات کو مقدم رکھنا چاہا ہے اور بعض اہم تر نکات کی تکرار بھی کی ہے چنانچہ اِس میں خلا اور سقم کا رہ جانا بعید از امکان نہیں۔ اگر آپ کی نگہ بصیرت کے دائرے میں ایسا کوئی معاملہ آئے اور آپ اِس پر خاموش رہیں تو آپ مجھ سے بڑے مجرم ہوں گے کیونکہ اِس کا مطلب یہ ہو گا کہ آپ اِس کام کیلئے مجھ سے زیادہ اہل تھے اور آپ پر اِنسانیت کا جو قرض عائد ہوتا ہے اُس کا بوجھ مجھ سے بھی بھاری تھا جو آپ نے ادا نہیں کیا۔

دوسری گزارش یہ ہے کہ چونکہ آئندہ صفحات میں کچھ ایسا آپ کی نظر سے گزرے گا جو اُردو تو درکنار، کسی بھی زبان میں پہلے ذکر نہیں کیا گیا چنانچہ عین ممکن ہے کہ کسی مقام پر کہی جانے والی بات قدرے گنجلک محسوس ہو اور ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہوں۔ ایسی صورت میں بلا توقف اِسے پڑھتے چلے جائیے، اگلی چند سطور کے اندر اور آخری ابواب میں انشاء اللہ بات واضح ہو جائے گی اور ذہن میں اٹھنے والے سوالات کا جواب مل جائے گا۔ اسی حوالے سے یہ بھی استدعا ہے کہ دوران مطالعہ کوئی رائے قائم نہ کیجیے۔ یہ تحریر ایک بڑے منظر کی مثال ہے، منظر کا کوئی ایک گوشہ پورے لینڈ سکیپ کی آئینہ داری نہیں کر سکتا۔ کتاب کا مطالعہ مکمل کیے بغیر اس پر محاکمہ قرین انصاف نہ ہو گا۔

اِس تحریر کو حتی المقدور مختصر رکھا گیا ہے کیونکہ ہماری خواہش یہ ہے کہ قارئین اِسے ایک ہی نشست میں پڑھیں تاہم اگر آپ کیلئے ایسا ممکن نہ ہو تو براہ کرم اِسے کم از کم دو بار پڑھیے اور ایسے وقت میں پڑھیے جب آپ کا ذہن تازہ دم ہو اور تھکا ہوا نہ ہو کیونکہ اِس میں جو کچھ ذکر کیا گیا ہے وہ اِس سے پہلے کسی بھی زبان یا کسی بھی علم کے حوالے سے آپ کے زیر نظر نہیں آیا چنانچہ یہ کہنا شاید درست نہیں ہو گا کہ اِسے قسطوں ٹکڑوں میں بس ایک ہی دفعہ سرسری طور پر پڑھ لینے سے اِس کے بین السطور کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ تحریر کسی ایک ملک یا معاشرے کے تناظر میں نہیں بلکہ پوری اِنسانیت کو مد نظر رکھ کر لکھی گئی ہے لہٰذا اِستدعا ہے کہ کسی ملک کے آئین کو اِس پر مشتعل نہ ہونے دیا جائے۔

اِس پیغام کو دنیا کے ہر با شعور فرد تک پہنچانا ہمارے حلقۂ اہل فکر کا مقصود نظر ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام فردِ واحد کی اِستطاعت میں نہیں ہے، اور میری اِستطاعت میں صرف یہ ہے کہ اِس کارِ عظمت کیلئے آپ سے اِستدعا اور اِس کیلئے اپنی ممنونیت کا پیشگی اِظہار کروں چنانچہ سند کی خاطر عرض ہے کہ اِس تحریر کو یا اِس کے کسی حصے کو من و عن شائع کرنے، بیان کرنے یا کسی بھی زبان میں ترجمہ شائع کرنے کی اجازت لینے کیلئے بلا تکلف و تاخیر رابطہ کیجئے، آپ کے نام نہ صرف اتھارٹی لیٹر بلا معاوضہ جاری کر دیا جائے گا بلکہ کمپوزڈ فائل کے ساتھ ساتھ کتاب کی فروخت کیلئے قدمے سخنے ہر طرح کا تعاون بھی بلا معاوضہ پیش کیا جائے گا۔ اِس حوالے سے آپ سے التجا یہ بھی ہے کہ اِس فائل کو ای میل کے ذریعے بھی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایئے، کیا عجب آپ کا یہی عمل پورے کرۂ ارض کو جنت بنانے کا ذریعہ بن جائے۔ پی ڈی ایف فارمیٹ میں یہ فائل آپ ہم سے بذریعہ ای میل بھی منگوا سکتے ہیں اور انشاء اللہ بہت جلد انٹرنیٹ سے بھی ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے۔ ویب سائٹ کا ایڈریس یہ ہے۔ www.quraan.it.tt۔یہیں پر بلاگ کا لنک بھی موجود ہو گا جہاں آپ اپنی ابلاغی کوششوں کو دوسروں کیلئے مشعل راہ بنانے کیلئے ان کی تفصیل اور اپنا ایڈریس، اپنی ویب سائٹ کا حوالہ رکھ سکیں گے، اِس تحریر میں اغلاط کی نشاندہی اور اصلاح کیلئے بلاگ میسج بورڈ پر پیغام لکھ سکیں گے اور دیگر قارئین کو ای میل بھیج سکیں گے۔

راشد۔۔ مدیر مسؤل
مجلس ادارت۔۔ اکیڈمی برائے اُردو عملی صحافت
دفتر قصوروار میگزین، چوک میلاد گیٹ
شہباز خان روڈ، قصور۔ پاکستان
Ph. O321-6581221
urduacademy@gmail.com

اردو جرنلزم اکادمی
اپریل ۲۰۱۹
تالیف از اردو جرنلزم اکادمی