اِقتصادیات

اِسلام کوئی نظام معیشت نہیں دیتا؟

وضاحت:۔ معترضین کی نظر میں اِسلام سماجی خوشحالی اور طبقاتی مساوات کیلئے کوئی منفرد قانونی نظام پیش کرنے کی بجائے صرف اِخلاقیات یعنی خیرات و سخاوت کا سہارا لیتا ہے یا چند پابندیاں عائد کرتا ہے مثلاً سود پر پابندی اور ٹیکسوں کی شرح پر پابندی یعنی زکوٰۃ کی متعین مقدار، جسے دفاعی اور فلاحی ضروریات کیلئے اقتصادی ماہرین ناکافی سمجھتے ہیں۔ اگر دیگر حکومتی ٹیکسوں یعنی انکم ٹیکس، کسٹم، ایکسائز، آزادانہ درآمد و برآمد پر قدغن، کرنسی کی ڈی ویلیویشن اور دیگر بالواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کو جائز سمجھ لیا جائے تو یہ اعتراض اور بھی حقیقت کے قریب محسوس ہونے لگتا ہے کہ اِسلام میں معاشی نظام کی حد تک کوئی نیا تصور نہیں ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر اِسلامی آئینی نظام قابل عمل ہے، اخلاقیات کا سہارا لیے بغیر اپنی قانونی ترتیب میں ہی مکمل اور بے عیب ہے اور کسی بھی معاشرے کی اقتصادیات کو خارجی سہاروں کے بغیر فوری اور بھر پور توانائی بخش سکتا ہے تو وہ نظام کہاں ہے؟ اِس کے جواب میں ہماری مذہبی قیادت قانونی نظام میں موجود خلا کو اِخلاقیات یعنی سادگی، سخاوت، خیرات،ایثار و قربانی اور بھائی چارہ وغیرہ، از قسم اخلاقی اقدار سے بھرنے کی کوشش کرتی ہے حالانکہ اگر سوچا جائے تو کونسا معاشرہ ایسا ہے جو ان اقدار کی اجازت نہ دیتا ہو۔ اصل اعتراض یہ ہے کہ اِسلام میں اِخلاقیات سے قطع نظر وہ "قانونی" خوبی کیا ہے جو کسی دوسرے نظام میں نہیں اور اِس دین کی قبولیت کیلئے جواز بن سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر سود پر پابندی ہے تو پھر نقص سے مبرا اور بہتر اور اِخلاقیات و سخاوت کے سہارے سے ماورا، وہ متبادل کونسا ہے جو "اور کہیں " نہیں ہے اور جس کے بعد معاشرے میں سود کی ضرورت ہی ختم ہو جاتی ہے؟۔۔۔ جن مفکرین کو اِسلامی تحقیق کی تاریخ میں اِس خلا کا تلخ احساس ہوا انہیں بھی سوائے جبر کے، اور کوئی راستہ دکھائی نہ دیا اور یوں ان میں سے کچھ تو اشتراکیت اور کمیونزم کو ہی ہیئت ترکیبی کے اعتبار سے عین مطابق اِسلام سمجھ بیٹھے حالانکہ یہ نظامِ اشتراکیت جبر و اکراہ پر مبنی ہونے کے باعث "یدخلون فی دین اللہ افواجا" کا منظر تشکیل نہیں دے سکتا یعنی ایک دوسری قرآنی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا اور یوں یہ مطابق اسلام کہلا ہی نہیں سکتا۔ درست اندازِ فکر کا تقاضا یہ ہونا چاہیے تھا کہ مروّجہ آئینی نظاموں سے اُوپر اُٹھ کر نگاہِ بصیرت دوڑائی جاتی یعنی یہ جستجو کی جاتی کہ وہ کونسا ایسا قرآنی اصول ہے جسے ہم اوجھل کیے بیٹھے ہیں اور جس کی آئینی موجودگی میں ہر مفاد پرستانہ قانون موجود ہونے کے باوجود غیر مؤثر اور بے حیثیت ہو جاتا ہے اور یوں بنیادی حقوق کے سلب کیے جانے کا، سوشلزم اور جبر و اکراہ کا کوئی احتمال بھی نہیں رہتا۔

اردو جرنلزم اکادمی
اپریل ۲۰۱۹
تالیف از اردو جرنلزم اکادمی