ایک اِنسان ہونے کی حیثیت سے

یہ زندگی کا وہ پہلو ہے جس کے مطابق وہ ایک اِنسان ہونے کے ناتے سے اپنی برتری دیگر مخلوقات پر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اِس مقصد کیلئے شکار،جانوروں کی سرکس اور ایسے دیگر طریقے تخلیق کرتا ہے۔ اِسی ضرورت کے لاشعوری اظہار کیلئے وہ کوہ پیمائی کرتا ہے، ٹارزن اور سپرمین جیسے کردار تراشتا ہے اور تصوراتی خلائی مخلوق کے موضوع پر مبنی ناول لکھتا، سٹار وارز جیسی فلمیں بناتا ہے۔ اِس ساری تگ و دَو کا باعث یہی ہے کہ وہ اِنسان ہونے کی حیثیت سے خود کو دیگر تمام مخلوقRest of the Universe سے افضل اور برتر دیکھنا چاہتا ہے۔ اِسی وجہ سے ایسی فلمیں کہانیاں مقبول بھی ہوتی ہیں۔

غور کیا جائے تو یہاں اِنسانی ترقی کا معروضی تصور یعنی چارلس ڈارون کا نظریۂ اِرتقاء بھی غلط ثابت ہو جاتا ہے کیونکہ برتری کی ضرورت کو اِنسانی ترقی کی بنیاد قرار دینے کے بعد ہم تاریک ماضی میں اِنسان کے صرف حلیہ یا ہیئت کا قدرے مختلف ہونا تو تسلیم کر سکتے ہیں لیکن اُس کی اِنسانیت یعنی اِنسان کی بنیادی الگ جبلت اور ذہنی بناوٹ سے انکار نہیں کر سکتے اور اِس اعتبار سے اُسے کسی دوسری مخلوق مثلاً بندر یا چمپینزی کی کوئی قسم قطعاً تسلیم نہیں کر سکتے جیسا کہ ڈارون کی تھیوری میں کہا گات ہے۔۔۔ مگر چونکہ یہ نظریۂ اِرتقاء ہمارے موضوع کا حصہ نہیں ہے لہٰذا ہم اِس سے قطع نظر کرتے ہیں، صرف اتنا سمجھنا کافی ہے کہ اِنسان کیلئے افضلیت اور برتری حاصل کرنا ایک لازمی ضرورت کا درجہ رکھتا ہے اور اِس برتری کو ہر غیر اِنسانی مخلوق پر ثابت کرنا اِس ضرورت کی پہلی سطح ہے۔

اردو جرنلزم اکادمی
اپریل ۲۰۱۹
تالیف از اردو جرنلزم اکادمی