ضابطۂ قانون اور طریقہ نفاذ

یہ قانون اِس تصور پر اُستوار کیا جا رہا ہے کہ ہر بالغ اِنسان اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے جو جدوجہد کرتا ہے اُس کے بدلے میں اگر وہ چاہے تو دولت کے درمیانی رابطے کے بغیر بھی اپنے مقصد کو حاصل کر سکے یعنی مکمل اور بے عیب کفالتی تحفظ حاصل کر سکے۔

1۔ یہ قانون ایسے معاہدۂ روزگار کی اجازت دیتا ہے جس کی رُو سے ہر آجر اپنے اجیر کو اُس کی خدمات کے عوض اُجرت کی کسی متعینہ رقم کی بجائے مکمل کفالتی تحفظ فراہم کرے گا۔ یہ تحفظ تمام ضروریاتِ زندگی یعنی خوراک، لباس رہائش، تعلیم، تفریح، عائلت، میڈیکل پروٹیکشن، غرض زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہو گا اور اُس کفالتی تحفظ کا کم از کم معیار عین وہی ہو گا جو خود آجر کے اپنے اِستعمال میں ہے۔

اگر کوئی آجر ایک سے زیادہ اجیروں سے یہ کفالتی خدمت گاری کا معاہدہ کرے تو اُس پر لازم ہے کہ تمام اجیروں کو یکساں معیار کی کفالت فراہم کرے۔ اگر وہ کسی ایک یا زائد اجیروں کو دوسرے اجیروں کی مرضی کے بغیر کوئی ایسی خصوصی سہولت فراہم کرے جو دیگر اجیروں کو نہ دی گئی ہو تو خواہ وہ سہولت مساویانہ کفالت کے دائرے میں نہ بھی آتی ہو یعنی خود آجر کے اِستعمال میں نہ بھی ہو تو بھی اُس کا یہ اقدام خلاف قواعد اور دیگر اجیروں کی حق تلفی تصور ہو گا۔

2۔ اِستعفیٰ دینے کا حق اور اِختیار پیدائشی طور پر ہر اجیر کی فطری اور ذاتی ملکیت Personality ہے اور وہ اجیر شخصی آزادی اور بنیادی حقوق کے تقاضوں کے مطابق اپنی اِس ذاتی ملکیت کو جب چاہے اپنے آجر کو اپنی دیگر زیر ملکیت اشیاء کی مانند منتقل کرنے کا مجاز ہے۔

3۔ حق اِستعفیٰ پر اِختیار کی یہ منتقلی تبھی ممکن ہے جب اُس کی واپسی قیمت کا تعین ہو چکا ہو تاکہ ہر اجیر کو ایسا معاہدہ کرتے ہوئے یہ معلوم رہے کہ وہ کس طرح جب چاہے اِس حق کو واپس حاصل کر سکتا ہے۔ اِس منتقلی کو ایسے رہن کی مثال سمجھا جا سکتا ہے جس میں کسی شے کی رہن رکھوائی کا بدل قیمت اور اُس کی واپسی کا بدل قیمت الگ الگ متعین ہو سکتا ہو۔

4۔ حق اِستعفیٰ پر اِختیار دیگر تمام زیر ملکیت اشیاء اور جائداد کی طرح قابل اِنتقال صلاحیت رکھتا ہے چنانچہ منتقلی کے بعد آجر کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنے اجیر کا یہ اِختیار جو اُس کے پاس ایک رہن کی مثال ہے، جب چاہے معاہدے میں واپسی قیمت کے ضمن میں متعین شرائط کی موجودگی میں کسی تیسرے فرد کو منتقل یا فروخت کر سکے جیسے یورپ اور امریکہ میں سپورٹس کے کلب سٹار کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کے ہاتھ بیچتے خریدتے رہتے ہیں۔ اس منتقلی کے بعد اجیر کیلئے فراہم ہونے والے کفالتی تحفظ کی کسوٹی نئے آجر کا معیار زندگی قرار پائے گا۔

5۔ آجر کے مرنے کے بعد معاہدے کی ملکیتی حیثیت اُس کی دیگر اشیاء کی طرح اُس کا ورثہ یا ترکہ تصور ہو گی اور اُس کے وارث یا ورثاء کو منتقل ہو گی۔ اگر ان ورثاء کی تعداد ایک سے زیادہ ہو گی تو ورثاء کو دیگر وراثت کی تقسیم سے قبل نئے آجر کا فیصلہ کرنا ہو گا تاکہ کفالتی تحفظ کے معیار کا تعین اور اجیر کی خدمات پر اِختیار کی وضاحت ہو سکے۔

جب تک ورثاء نئے آجر کا تعین نہیں کرتے، اجیر سے کوئی خدمات نہیں لی جا سکتیں جبکہ فوت شدہ آجر کے ترکے میں سے اجیر کو کفالتی تحفظ کی فراہمی سابقہ معیار کے مطابق جاری رہے گی یا اُس معیار کے برابر مالیت اُس کی واپسی قیمت میں سے منہا ہوتی رہے گی۔

6۔ اجیر کے مرنے کی صورت میں چونکہ حق اِستعفیٰ کا کوئی وجود نہیں رہے گا اِس لیے یہ معاہدہ کالعدم تصور ہو گا اور آجر اجیر کے ورثا سے اِس حق کی واپسی قیمت طلب کرنے کا مجاز نہ ہو گا۔

7۔ اجیر کی خدمات کیلئے نوعیت، دورانیہ اور مقام خدمت گاری (جائے ملازمت) کا تعین لازمی نہیں ہے تاہم غیر فطری، مافوق البشری (ڈبل ڈیوٹی) یا غیر قانونی خدمات کا اجیر کو حکم نہیں دیا جا سکے گا۔

8۔ خدمت گار کی سماجی و قانونی حیثیت بالکل اُس کے آجر کی سی ہے اور شہری حقوق، عدالتی گواہی اور وسیع تر قومی امور میں وہ دیگر شہریوں کا ہم پلہ ہے۔ ریاستی تعزیراتی پابندیاں اور معاشرتی حد بندیاں نبھانے کا وہ ذاتی طور پر ذمہ دار ہے اور اُس کے ایسے ہر جرم یا خطا پر اُس کا آجر بری الذمہ ہے۔

9۔ خدمت گار کو اپنی ذاتی زندگی میں مکمل خود مختاری حاصل ہے، حتیٰ کہ وہ خود اپنی خدمت کیلئے مزید کفالتی خدام رکھنے کا بھی اہل ہے۔

10۔ کفالتی سہولتوں کی فراہمی کے ضمن میں خود آجر کی ذات معیار کا درجہ رکھتی ہے اور اُسے اِس امر کی آزادی ہے کہ وہ اپنے بجٹ کے مطابق اِس معیار کو اپنی صوابدید پر سستا یا قیمتی کر سکتا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ اُسے وہی معیارِ زندگی خود بھی اپنانا ہو گا جو وہ اپنے اجیر کو فراہم کر رہا ہے۔

11۔ بیرون ملک رہائش پذیر کوئی بھی شخص آجر بننے کا اہل نہیں ہے کیونکہ کفالتی معیار کے تعین اور گرفت کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وہاں عملداری نہیں ہے۔

12۔ آجر کے لیے کسی ایک فرد کا ہونا لازم نہیں ہے۔ کوئی بھی افراد کا مجموعہ یعنی ادارہ، فرم یا کمپنی لفظ "آجر" کی تعریف میں آ سکتے ہیں۔ اِس صورت میں کفالتی معیار اُس ادارے یا کمپنی کے مالک یا با اِختیار شیئر ہولڈر (چیئر مین بورڈ آف ڈائریکٹرز چیف ایگزیکٹو مینجنگ ڈائریکٹر) کا معیارِ زندگی قرار پائے گا۔

13۔ حکومت لفظ "آجر" کی تعریف میں نہیں آ سکتی اِس لیے اُسے یہ معاہدہ کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کسی فرد یا افراد کے مجموعے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک ایسی مشینری کا نام ہے جس میں شامل افراد کسی حکومتی پراجیکٹ کے "مالک" نہیں ہوتے اور پراجیکٹ کے نقصان کی صورت میں ان کا کچھ نہیں بگڑتا لہٰذا کفالتی تحفظ کیلئے شخصی معیار ممکن نہیں ہے۔

14۔ (الف) اگر اِس معاہدے کی رو سے خدمت گار بننے والا فرد ایک مرد ہو تو وہ اِس معاہدے کا اہل تبھی ہو سکتا ہے جب اُس پر کسی دوسرے فرد یا افراد کی کفالت کی ذمہ داری نہ ہو۔ اگر اُس پر پہلے ہی کسی فرد یا افراد یعنی اُس کے بیوی بچوں اور دیگر اہل خانہ کی کفالتی ذمہ داری ہے یا وہ ایسا ارادہ رکھتا ہے تو اِس صورت میں وہ تبھی کفالتی خدمت گار بن سکتا ہے جب اُس کا آجر اُس کی یہ ذمہ داری بھی مساویانہ کفالتی تحفظ کی صورت میں اٹھانے پر آمادہ ہو۔

(ب) اگر اِس معاہدے کی رو سے خدمت گار بننے والا فرد ایک عورت ہو تو وہ اِس معاہدے کی اہل تبھی ہو سکتی ہے جب وہ کسی کے حبالہ نکاح میں نہ ہو۔ اگر وہ پہلے ہی کسی کے نکاح میں ہے یعنی اُس نے اپنے لیے مساویانہ کفالتی تحفظ کی فراہمی کی ذمہ داری کسی اور مرد پر ڈال رکھی ہے تو وہ اِس معاہدے کی اہل نہیں ہے۔

15۔ اگر اِس معاہدۂ روزگار کے دونوں فریقوں کی صورت یہ ہو کہ آجر کوئی ادارہ نہ ہو بلکہ فردِ واحد ہو اور مرد ہو جبکہ عورت اجیر ہو اور عورت گزشتہ کم از کم چار ماہ (تین طہر IntraMenstrual Clean Period) سے عفیفہ (غیر شادی شدہ، بیوہ یا طلاق یافتہ) ہو تو انہیں باہمی رضامندی سے اِس معاہدے کو ایک معاہدۂ نکاح کے طور پر ڈکلیئر کرنے کی اجازت ہو گی تاہم اِس معاہدے کی قانونی حیثیت نکاحِ زوجیت سے مختلف ایک نکاحِ روزگار کی ہو گی اور اِس میں آجر شوہر اپنی اجیر بیوی سے اُجرت یعنی مساویانہ کفالتی تحفظ کے عوض اولاد کی پیدائش کی خدمات لینے کا اِستحقاق رکھتا ہو گا۔ اِس صورت میں "دونوں کا جسمانی تعلق اور اولاد کی پیدائش،" "رضاعت" اور "گھر سنبھال، House Keeping "یا کوئی بھی دوسری خدمت اجیر بیوی کی الگ الگ خدمات تصور ہوں گی اور اگر اُس کے آجر شوہر کی طرف سے ایک سے زیادہ خدمات بیک وقت ادا کرنے کی پیشکش کی جائے تو وہ ہر زائد خدمت کا علیحدہ سے مالی معاوضہ لینے کی اہل ٹھہرے گی اور اگر وہ یہ خدمات بھی انجام دینے کے باوجود کوئی معاوضہ نہیں لیتی تو اُس کا یہ عمل قانون کی نظر میں اُس کا ایثار قرار دیا جائے گا اور اُس کو مذکورہ معاوضہ نہ لینے کے بدلے میں کوئی اضافی اِختیارات حاصل نہیں ہوں گے جبکہ اول الذکر خدمت یعنی اولاد کی پیدائش کے ضمن میں آجر شوہر کو اُس سے جب چاہے فطری جسمانی تعلق کا پورا اور غیر مشروط حق اور اِختیار ہو گا اور اِس ضمن میں اُس اجیر بیوی کی رضامندی یا غیر رضامندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔ آجر شوہر کو یہ حق بھی حاصل ہو گا کہ وہ جب چاہے مساویانہ کفالتی تحفظ کے عوض اجیر بیوی سے حاصل ہونے والی خدمات کی نوعیت میں حسب منشا تبدیلی کر سکتا ہے اور اُس کی جسمانی تعلق اور اولاد کی پیدائش پر مبنی خدمات عارضی یا مستقل طور پر موقوف کر کے کوئی دوسری خدمت اُس کے سپرد کر سکتا ہے۔ اِس شادی کے معاہدے میں مندرجہ ذیل ضمنی شرائط کی پابندی ہو گی۔

(الف)۔ اگر آجر اِس معاہدے کی قابل اِنتقال حیثیت کو اِستعمال کرتے ہوئے اُسے کسی دوسرے آجر کو منتقل کرے تو اِس معاہدے کی عائلی حیثیت ساقط ہو جائے گی اور یہ اِنتقال ایک عمومی معاہدۂ روزگار کی حیثیت سے ہو گا چنانچہ نے آجر کو اُس اجیر عورت سے جسمانی تعلق اور نسل اِنسانی کی پیدائش پر مبنی خدمت لینے کا اِستحقاق نہیں ہو گا تاہم فریقین کو یہ اجازت ہو گی کہ وہ باہمی رضامندی سے سطور بالا میں مذکور شرائط کے مطابق اِس معاہدۂ روزگار کو بھی معاہدۂ نکاح کے طور پر ڈکلیئر کر سکتے ہیں۔

(ب)۔ اگر آجر شوہر مر جائے تو اِس معاہدے کا حصہ عائلت خود بخود کالعدم ہو جائے گا اور اجیر عورت کے ساتھ جسمانی تعلق کا حق اور اِختیار جو اُس کے شوہر کو حاصل تھا، ورثا کو منتقل نہیں ہو گا اور یوں وہ اجیر عورت اگر معاہدے میں متعین واپسی قیمت ورثا کو ادا کر کے معاہدہ ختم نہ کرنا چاہے تو نئے آجر کے تعین کے بعد اُس کی خدمات کی نوعیت بدل جائے گی تاہم اپنے شوہر کے ترکے میں اُس کا معروف حق اسی طرح موجود رہے گا جیسے نکاحِ زوجیت کے معاہدے میں ہوتا ہے۔ اِسی طرح اگر اجیر بیوی مر جائے تو اُس کے ترکے میں آجر شوہر کا معروف حق موجود رہے گا۔

(ج)۔ اگر آجر شوہر ایسی حالت میں وفات پائے کہ اجیر بیوی اُس کے بچے یعنی زندہ وارث کی ماں بن چکی ہو تو اِس صورت میں معاہدے کی قابل اِنتقال صلاحیت بھی ساقط ہو جائے گی چنانچہ اُس اجیر بیوی کو شوہر سے ملنے والی وراثت میں سے اُس کے حق اِستعفیٰ کی واپسی قیمت منہا کر لی جائے گی اور معاہدہ کالعدم تصور ہو گا۔ اگر اُس واپسی قیمت کی مالیت اُس کے حقِ وراثت سے زیادہ ہو تو بھی معاہدہ منسوخ تصور ہو گا اور پھر یہی تنسیخ معاہدہ ہی اُس کی وراثت تصور ہو گی جبکہ دیگر وراثت میں سے اُس کو کوئی حصہ نہیں ملے گا۔

(د)۔ اگر آجر شوہر ایسی حالت میں وفات پائے کہ اجیر بیوی اپنی کوکھ سے اُس کے پہلے بچے کو جنم دینے والی ہو تو اِس صورت میں یہ معاہدہ تبھی کالعدم ممکن ہو گا جب وہ بچے یعنی اپنے آجر شوہر کے ایک زندہ وارث کو کامیابی سے جنم دے دے۔

16۔ آجر کی طرف سے معاہدے میں طے کردہ کسی شرط کی خلاف ورزی اور اجیر کی حق تلفی پر متعلقہ لیبر کورٹ کو معاہدے کی مارکیٹ ویلیو میں کمی کرنے کیلئے معاہدے میں متعین واپسی قیمت کی مالیت میں یا کسی دوسری شرط میں اجیر کے حق میں ترمیم یا تنسیخ کرنے کا اِختیار ہے۔

17۔ اجیر کی طرف سے معاہدے کی کسی شرط کی خلاف ورزی یا جان بوجھ کر آجر کا نقصان کرنے کی صورت میں عدالت کو اِختیار ہے کہ معاہدے کی ویلیو میں اضافہ کرنے کیلئے اِس میں متعین شرائط کی آجر کے حق میں ترمیم کرے۔ علاوہ ازیں اُسے اجیر کی منقولہ و غیر منقولہ جائداد ضبط کر کے آجر کا نقصان پورا کرنے کا بھی اِختیار ہے۔

اب صرف ایک پہلو تشنہ ہے، نظم عدالت کا پہلو۔

اِس حوالے سے یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک یعنی غریب ممالک میں جہاں پہلے ہی مقدمات کی بھرمار ہے، اِس نئے نظام کے عدالتی سیٹ اپ اور علیحدہ پرائمری کورٹس کے قیام کیلئے فنڈز کہاں سے فراہم ہوں گے؟

اِس اعتراض کے جواب کیلئے اگر ذرا سی باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو دکھائی دیتا ہے کہ تقریباً سبھی مہذب معاشروں میں ایک بنا بنایا ایسا سیٹ اپ موجود ہے جو کسی سرکاری مالی سہارے کا محتاج نہیں ہے اور محض اِختیارات کے تعین سے ہی نہ صرف عدل و انصاف کا ضامن بن سکتا ہے بلکہ اپنی نئی شناخت کے ذریعے قومی خزانے کی غیر معمولی تقویت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہ بنا بنایا سیٹ اپ ہر معاشرے کا مذہبی عبادات کا ڈھانچہ ہے۔

اگر ہر مذہبی عبادت گاہ کو، ہر مسجد چرچ اور معبد کو محلے کی سطح پر کفالتی تحفظ کی ایسی اعزازی لیبر کورٹ کا درجہ دے دیا جائے جس میں اُس مسجد یا معبد کے ذمہ دار فرد (انتظامیہ کمیٹی کے ارکان یا امام، خطیب اور پادری پروہت وغیرہ) اِس کورٹ کے اعزازی مجسٹریٹ ہوں اور کرپشن کا امکان ختم کرنے کیلئے محلے یا علاقے کے پڑھے لکھے افراد ایک روٹیشن کے ساتھ اُس عدالت میں جیوری کے اعزازی ارکان بنیں تو اِس مسئلے کا آسان اور سیدھا سادا حل نکل آئے گا۔

حکومت کی طرف سے ناظم انفاق Funds Collector کی ذمہ داریاں بھی ان اعزازی مجسٹریٹ صاحبان کے سپرد کی جائیں یعنی حکومتوں کی طرف سے اِجتماعی فلاحی مقاصد کیلئے عوام سے جو مالی تعاون وصول کیا جائے، انہی کی وساطت سے وصول کیا جائے۔ یہ اعزازی مجسٹریٹ موصوف اپنے محلے کے افراد کیلئے روزمرہ کی دستاویزات اور نقول وغیرہ کی تصدیق کرنے کے بھی مجاز ہوں تاکہ انہیں یہ فنڈز زیادہ سے زیادہ مقدار میں حاصل کرنے کیلئے ترغیب و تشویق کی فضا بنانے میں آسانی ہو۔ ان خدمات کے عوض ان مجسٹریٹ صاحبان کیلئے قومی خزانے سے اُسی معیار کی کفالت فراہم ہو جیسی سربراہِ مملکت کو حاصل ہو رہی ہے۔ اِس سے نہ صرف طبقاتی اِمتیاز ختم ہو گا اور سربراہِ مملکت کو اپنے معیارِ زندگی کو پر تعیش کے درجے سے نیچے لانا پڑے گا بلکہ ان ناظمین انفاق اور ان کے خاندان کیلئے وسیلہ کفالت بھی بنے گا جبکہ دوسری طرف ان ناظمین کی ترغیب و تشویق کے باعث ریونیو کی مقدار میں بھی تیزی سے اضافہ ہو گا (اس تصور کی مزید تفصیل آئندہ صفحات میں زیر نظر آئے گی۔) اِسی طرح ہر عبادت گاہ کو "شیرف آفس" کے سے انداز میں عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کا ذریعہ، محلے کا میڈیا سنٹر یا مقامی سرکاری انتظامی اہلکاروں یا لوکل گورنمنٹ کے منتخب کونسلروں کے چیک اینڈ بیلنس کیلئے انہی مجسٹریٹ اور جیوری پر مشتمل پرائمری اعزازی عدالت احتساب کی شکل دی جا سکتی ہے اور اِس تمام عمل کو مالی تعاون کیلئے ایڈورٹائزنگ سپانسر شپ مل سکتی ہے جس سے یہ تمام عدالتی نظام خود کفیل ہو سکتا ہے اور اگر ایسے ہر میڈیا سنٹر کے ساتھ کمرشل پوائنٹس مثلاً دکانیں سٹالز وغیرہ بھی ہوں تو یہ نظام بذات خود وسائل کا منبع ثابت ہو سکتا ہے، وعلیٰ ہٰذالقیاس۔۔۔ غرض ایسے کئی ذرائع تخلیق ہو سکتے ہیں جن کے نتیجے میں یہ عدالتی ڈھانچہ نہ صرف حکومتی مالی سہارے کا محتاج نہیں رہتا بلکہ اپنے آپ میں قومی خزانے کیلئے ایک بہت بڑی تقویت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اِس کے علاوہ اِس کا ایک بالواسطہ فائدہ یہ ہو گا کہ مذہبی اِنتہا پسندی اور فرقہ واریت سے بھی اِنسانیت کو نجات مل جائے گی کیونکہ کسی بھی مذہب کی مذہبی پیشوائیت کو اپنے لیے روزگار اور معاشرے کے افراد کی نظر میں محترم حیثیت حاصل کرنے کیلئے مذہب فروشی کی دکان سجانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔۔۔ الغرض ایسی رائے کہ یہ نظام نافذالعمل نہیں ہو سکتا، عذر لنگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔

یہ ایسا قانون ہے جو موجودہ دور کے تمام نامکمل قوانین کے خلا کو بھرتا ہے اور اِنسانی ضروریات کی تکمیل کا حتمی اور قانونی، مثبت اور محفوظ راستہ مہیا کرتا ہے۔ اِس میں بنیادی اِنسانی حقوق اور شخصی آزادی کے تمام تقاضے فی الواقعہ پورے کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے یعنی یہ کسی بھی فرد کو محض اِسی نظام تک محدود رہنے پر مجبور نہیں کرتا۔ اگر کوئی فرد اِس معاہدے کے بنیادی تصور یعنی اُجرت کی صورت میں کفالتی تحفظ کے تصور سے متفق نہیں ہے تو اُسے پورا اِستحقاق ہے کہ وہ اپنی زندگی کی ترتیب میں اُجرت کا مروجہ تصور یعنی تنخواہ کا تصور ہی اِختیار کرے مگر اُسے بہرحال یہ حق نہیں ہے کہ دوسرے افراد کیلئے اِس معاہدے کو اِختیار کرنے کی آزادی میں رکاوٹ بنے۔ شخصی آزادی اور بنیادی حقوق کا فلسفہ ہر مہذب معاشرے کی اساس ہے اور اِس کا تقاضا یہی ہے کہ معاہدہ روزگار کے دونوں تصورات یعنی اُجرت کی رقم کی صورت میں ادائیگی اور کفالتی تحفظ کی شکل میں ادائیگی کے راستے معاشرے کو دستیاب ہوں اور انہیں کسی بھی وقت اِختیار کرنے یا چھوڑ دینے کی ہر فرد کو آزادی ہو۔ ہم بخوبی سمجھتے ہیں کہ اِستعفیٰ دینے کا حق ہر شخص کی فطری آزادی کا حصہ ہے اور اُس کی ذاتی ملکیتی جائداد Personality کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ہم کسی فرد کو اُس کی ملکیتی چیز کو رہن رکھنے کی اجازت نہ دیں تو یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے یہ نام نہاد شخصی آزادی اور اِنسانی حقوق کے تصورات اور ان کا پراپیگنڈا محض بے ہنگم شور سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

اردو جرنلزم اکادمی
اپریل ۲۰۱۹
تالیف از اردو جرنلزم اکادمی