ہندوستان میں کانگریس اور مسلم لیگ کا قیام

اس موقع پر ہندوستان میں دو عظیم سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں‘ ایک انڈین نیشنل کانگریس اور ایک آل انڈیا مسلم لیگ. عجیب بات یہ ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس کا قائم کرنے والا ایک انگریز مسٹر ہیوم تھا‘ جو ایک ریٹائرڈ سول سرونٹ تھا.اس کے کانوں میں کچھ ایسی خبریں پہنچیں کہ بنگال میں کچھ ہندو اور کچھ مسلمان نوجوان ایک زیرزمین تحریک شروع کرنے والے ہیں جس میں انگریزوں کو یہاں سے نکالنے کے لیے دہشت گردی ہو گی اور قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا. اُس نے اس وقت کے وائسرائے لارڈ لٹن سے بات کی اور اسے تجویز پیش کی کہ یہاں ہندوستانیوں کی ایک جماعت ایسی قائم ہونی چاہیے جو دستوری و قانونی طور پراور ُپرامن طریقے سے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے جدّوجہد کرے .لہذا اس کے لیے میدان کھول دیا جائے تاکہ اس زیرزمین تحریک اور اس کے نتیجے کے طور پر دہشت گردی کی تحریک کا سدّباب کیا جا سکے. پہلے لارڈ لٹن نے اور اس کے بعد لارڈ ڈفرن نے اس کی سرپرستی کی اور ان کی اس محنت کے نتیجے میں ۱۸۸۵ء میں پونا کے مقام پر آل انڈیا نیشنل کانگریس کا قیام عمل میں آیا. اس کے ۲۱ سال بعد ۱۹۰۶ء میں مسلم لیگ وجود میں آئی.

مسلم لیگ کے قیام کا پس منظر بھی جان لیجیے .انگلستان میں ۱۹۰۵ء میں لبرل پارٹی کی حکومت قائم ہو گئی تھی اور اس کے ہاں ‘جیسا کہ اس کے نام سے ظاہرہے‘ انسانی تصورات نسبتاً زیادہ تھے ‘لہذا وہاں بات ہونے لگی کہ ہندوستانیوں کو بھی کچھ حقوق دیے جائیں اور انتظامی و حکومتی معاملات میں ان کو بھی شریک کیا جائے.اس مقصد کے لیے کچھ کونسلیں بنائی جائیں . مثلاً وائسرائے اور گورنروں کے ساتھ ایک ایک کونسل ہو‘ اور یہ کونسلیں حکومت اور عوام کے درمیان ایک ُپل کا کام دے سکیں. اس اعتبار سے 
مسلمانوں میں شدید تشویش پیدا ہوئی کہ اگر ان کونسلوں میں ’’ایک فرد ایک ووٹ‘‘ کے حساب سے نمائندگی کا معاملہ ہوا تو مسلمان تو ہندو سے بہت پیچھے رہ جائے گا‘ دب جائے گا اور اس کا مستقل غلام ہو جائے گا! یہ تشویش سب سے پہلے سرسید احمد خان کے رفیق کار نواب محسن الملک کے دل میں پیدا ہوئی. ان کے ساتھ علی گڑھ ہی کے ایک رئیس حاجی محمد اسماعیل نے مل کر بہت سے مسلمان زعماء سے رابطہ قائم کیا اور پھر سب کے مشورے سے علی گڑھ کالج کے انگریز پرنسپل کے ذریعے جو شملہ میں تھا‘ شملہ میں ہی موجود وائسرائے لارڈ منٹو سے ملاقات کا وقت لیا. چنانچہ ’’شملہ وفد‘‘ کے نام سے ایک وفد سر آغا خان کی قیادت میں وائسرائے کے سامنے پیش ہوا اور وہاں پر انہوں نے دو باتیں رکھیں. ایک تو یہ کہ وائسرائے کو مسلمانوں کی وفاداری کا یقین دلایا کہ مسلمانوں سے آپ کوئی اندیشہ اور خطرہ محسوس نہ کریں‘ ہم آپ کی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں اور آپ کی Government by Pen کی پالیسی کے ساتھ پورے طور سے متفق ہیں. دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ کونسلوں اور اس طرح کے دیگر اداروں کی نمائندگی میں’’ایک فرد ایک ووٹ‘‘ کے اصول کو اپنایا گیا تو یہ مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادہ ناانصافی ہو گی‘ لہذا اس حوالے سے مسلمانوں کا لحاظ رکھا جانا چاہیے.لارڈ منٹو نے اس کا بہت مثبت جواب دیا . وی پی مینن کی کتاب ’’Transfer of Power in India‘‘ سے اس کا ایک اقتباس پیش ہے : 

’’مجھے آپ ہی کی طرح اس امر کا یقین ہے کہ برصغیر میں انتخاب کے ذریعے زندگی کا ہر وہ طریقہ بری طرح ناکام ہو گا جس میں محض ’ایک فرد ایک ووٹ‘ کا اصول کارفرما ہواور برصغیر کی آبادی کی مختلف قومیتوں کے عقائد اور روایات کا خیال نہ رکھا جائے.‘‘

گویا مسلم وفد کے نقطۂ نظر کو وائسرائے نے قبول کیا. اسی سے حوصلہ پا کر نواب محسن‘الملک‘ نواب وقار الملک‘ سرآغا خان اور دیگر بڑی بڑی شخصیتوں نے دسمبر ۱۹۰۶ء میں ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خان کی محل نما کوٹھی میں اجلاس بلایا اور مسلم لیگ کی بنیاد رکھی. سرآغا خان صدر اور سرسید کے ساتھی نواب محسن الملک اور نواب وقار الملک سیکرٹری مقرر ہوئے.