قائد اعظم کا علامہ اقبال کو خراج ِ عقیدت


میرے اس تجزیے کی رو سے نظریۂ پاکستان‘ اسلام اور خلافت راشدہ کے مفہوم میں احیائے اسلام‘اس کے خالق اقبال ہیں‘ اس میں کوئی شک نہیں. یہ بات قائد اعظم محمد علی جناح تک پہنچانے والے بھی اقبال ہی تھے. اس حقیقت کو بہت سے لوگ آسانی کے ساتھ تسلیم نہیں کریں گے‘ لہذا میں چاہتا ہوں کہ خود قائد اعظم نے علامہ اقبال کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اس کے دو اقتباس آپ کے سامنے رکھ دوں. ۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء کو علامہ اقبال کا انتقال ہوا. اُس وقت کلکتہ میں فلسطین کے مسئلے پر غور کرنے کے لیے قائد اعظم کی صدارت میں ایک بہت بڑا جلسہ ہو رہا تھا . اس جلسے کے بارے 
میں سٹار آف انڈیا کی ۲۲؍اپریل ۱۹۳۸ء کی یہ خبرملاحظہ کیجیے:

A mammoth public meeting of the Muslims of Calcutta was held on the football ground on 21 April to consider the Palestine problem, but it was converted into a condolence meeting to mourn the death of Allama Iqbal. Mr. M.A.Jinnah presided. Mr. M.A. Jinnah said that the sorrowful news of the death of Dr. Sir Muhammad Iqbal had plunged the world of Islam in gloom and mourning. Sir Muhammad Iqbal was undoubtedly one of the greatest poet, philosophers and seers of humanity of all times

’’مسئلہ فلسطین پر غور کرنے کے لیے ۲۱؍اپریل کو کلکتہ کے مسلمانوں کا ایک عظیم الشان جلسہ فٹ بال گراؤنڈ میں منعقد ہوا‘ لیکن یہ جلسہ علامہ اقبال کی وفات کے سوگ میں ایک تعزیتی جلسے میں تبدیل ہو گیا . اس کی صدارت مسٹر محمد علی جناح نے کی . مسٹر محمد علی جناح نے فرمایا کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کی وفات کی افسوسناک خبر نے دنیائے اسلام کو گہرے رنج اور افسوس میں مبتلا کر دیا ہے. سر محمد اقبال بلاشبہ ایک عظیم شاعر‘ فلسفی اور ہمہ وقت صاحبِ بصیرت انسان تھے.‘‘

’’seers‘‘ اُن اصحابِ بصیرت کو کہا جاتا ہے جنہیں مستقبل کو دیکھنے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے ‘جیسے اقبال نے کہا : ع ’’گاہ مری نگاہِ تیز چیر گئی دلِ وجود‘‘ اور : ؎

آبِ روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کے خواب

قائد اعظم مزید فرماتے ہیں:

"He took a prominent part in the politics of the country and in the intellectual and cultural reconstruction of the Islamic world. His contribution to the literature and thought of the world will live for ever."
’’انہوں نے ملکی سیاست میں نمایاں حصہ لیا اور دنیائے اسلام کی علمی و ثقافتی تجدید میں اہم کردار ادا کیا. دنیائے ادب میں ان کی تحریر 
و تقریر کا جو حصہ ہے وہ ہمیشہ زندہ رہے گا.‘‘ اب قائد اعظم کا آخری جملہ ملاحظہ کیجیے جو انہوں نے اقبال کے بارے میں کہا:

" To me he was a personal friend, philosopher and guide and as such the main source of my inspiration and spiritual support."
’’وہ میرے ذاتی دوست‘ فلسفی اور رہنما تھے. وہ میرے لیے تشویق ‘ فیضان اور روحانی قوت کا سب سے بڑا ذریعہ تھے.‘‘
اس کے بعد کوئی شک رہ جاتا ہے؟ اور یہ الفاظ کون کہہ رہا ہے ؟ محمد علی جناح . وہ کوئی لفّاظ قسم کے آدمی نہیں تھے‘ کوئی شعلہ بیان 
خطیب نہیں تھے. وہ تو بہت بڑے وکیل اور ایک ایک لفظ کو تول تول کر بولنے والے انسان تھے. 

۱۹۴۰ء میں اقبال ڈے منایا گیا اور اس میں قائد اعظم نے فرمایا:

"If I live to see the ideal of a Muslim State being achieved in India, and I were then offered to make a choice between the works of Iqbal and the rulership of the Muslim State, I would prefer the former".
’’اگر میں ہندوستان میں ایک مثالی اسلامی ریاست کے حصول تک زندہ رہا اور اُس وقت مجھے یہ اختیار دیا گیا کہ میں اقبال کے کلام اور اس مسلم ریاست کی حکمرانی میں سے ایک کا انتخاب کر لوں تو میں اقبال کے کلام کو ترجیح دوں گا.‘‘

Continuing, Mr. Jinnah said that in April 1936, he thought of transforming the Muslim League, which was then only an academical institution, into a parliament of the Muslims of India. From that time to the end of his life, he continued, Iqbal stood like a rock by him. Iqbal, Mr. Jinnah said, was not only a great poet who had a permanent place in the history of the world's best literature, he was a dynamic personality who, during his lifetime, made the greatest contribution towards rousing and developing of Muslim national consciousness.

’’اسی تسلسل میں مسٹر جناح نے فرمایا کہ اپریل ۱۹۳۶ء میں انہوں نے مسلم لیگ کو جو اُس وقت صرف ایک اصولی ادارہ تھا ‘ہندوستان کے مسلمانوں کی پارلیمنٹ میں تبدیل کرنے کے متعلق سوچا. اُس وقت سے زندگی کے آخری دن تک اقبال ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے. مسٹر جناح نے فرمایا کہ اقبال صرف ایک عظیم شاعر ہی نہ تھے جو ادبی دنیا کی تاریخ میں ایک بہترین ادیب جانے جاتے بلکہ وہ ایک متحرک شخصیت تھے ‘جنہوں نے اپنی زندگی میں مسلمانوں کے قومی شعور کو بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا.‘‘