’’دعوت اِلی اللہ‘‘ کا فریضہ

سورۂ حٰم السجدۃ کی زیر نظر آیات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے. پہلے حصے میں تین آیات کا بیان ہوا‘ جن میں مرتبۂ ولایت کا ذکر ہوا ہے. دوسرے حصے کی بقیہ چار آیات میں اسی تصویر کا دوسرا رُخ سامنے آ رہا ہے ‘جس میں اصل مرکزیت ’’دعوت الی اللہ‘‘ اور اس راہ میں پیش آنے والی مصیبتوں پر صبر اور اس کی اعلیٰ ترین منزل کے بیان کو حاصل ہے. چنانچہ فرمایا: وَ مَنۡ اَحۡسَنُ قَوۡلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللّٰہِ وَ عَمِلَ صَالِحًا ’’اوراس شخص سے بہتر اور کس کی بات ہو گی جو اللہ کی طرف بلاتا ہو اور نیک عمل کرتا ہو‘‘.یہاں یہ ذہن میں رہے کہ جہاں تک عمل کا تعلق ہے اس کا بھرپور ذکر پہلے حصہ میں استقامت کے ضمن میں ہو چکا ہے. یہاں درحقیقت عمل صالح کا ذکر اسی دعوت کی ایک ضرورت‘ اس کی تائید اور اس کے مؤثر ہونے کے لازمی تقاضے کے طور پر ہو رہا ہے. یعنی دعوت الی اللہ کا عمل بالکل غیر مؤثر رہے گا‘بشرطیکہ اس گواہی کے طور پر داعی کی اپنی زندگی حسنِ اخلاق کا ایک نمونہ نہ بن جائے. اگر داعی اپنی دعوت کا ایک عملی نمونہ اپنی زندگی میں پیش نہ کرے تو درحقیقت اپنی دعوت کا اوّلین دشمن وہ خود ہو گا. یہاں آیت وَ مَنۡ اَحۡسَنُ قَوۡلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللّٰہِ میں دراصل ’’دعوت الی اللہ‘‘ کو ایک فریضہ کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے. اسے یوں سمجھئے کہ وہ لوگ جن کا ذکر ابتدائی (۱) صحیح البخاری‘ کتاب بدء الخلق‘ باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ. وصحیح مسلم‘ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا‘ باب. آیات میں کیا گیا‘ ان کے ہاں دُنیوی ساز و سامان‘ جائیداد‘ مال و متاع اور ظاہری چمک دمک کو پرِکاہ کے برابر بھی حیثیت حاصل نہیں ہوتی‘ بلکہ ان کی زندگی میں ان کی بلند ترین خواہش اور تمنا صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بندگانِ خدا کو خدا کے ساتھ جوڑ دیں‘ غافلوں کو اللہ کی جناب میں لا کر جھکا دیں اور بھولے بھٹکے ہوؤں کو سیدھے راستے پر لے آئیں. ان کی ساری عملی جدوجہد ایک ہی نقطے پر مرتکز ہوتی ہے کہ وہ اپنا سب کچھ خلقِ خدا کی ہدایت اور خلق کو خدا کی طرف بلانے میں صرف کر دیتے ہیں. 

وَ مَنۡ اَحۡسَنُ قَوۡلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللّٰہِ میں نطقِ انسانی کے مفید استعمال کی طرف بھی بلیغ اشارہ فرمایا جا رہا ہے‘ اور وہ یہ ہے کہ زبان ہر انسان کے پاس ہے‘ اس کااستعمال ہر شخص کرتا ہے. جو لوگ نسبتاً باصلاحیت ہوتے ہیں وہ کسی نہ کسی دعوت کے علم بردار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں. کوئی کنبے اور قبیلے کی فلاح کا نعرہ لے کر اٹھتا ہے‘ کوئی قوم اور وطن کی عظمت کا نام لے کر اٹھتا ہے‘ کوئی عوام کے حقوق کا نعرہ لگاتا ہے‘ کوئی معاشی عدل اور معاشی انصاف کے لیے جدوجہد کرنے کا دم بھرتا ہے. کہیں وطن کی عظمت پر گردنیں کٹائی جاتی ہیں‘ کہیں اپنی قومی برتری کے لیے محنتیں اور مشقتیں کی جاتی ہیں اور ایثار و قربانی کا داعیہ پیدا کیا جاتا ہے. اس طرح نہ معلوم کتنی دعوتیں دنیا میں دی جاتی ہیں‘ لیکن سب سے اچھی اور بہترین دعوت اس شخص کی ہو گی جو اللہ کی طرف بلا رہا ہو‘ اس اللہ کی طرف جو سب کا خالق و مالک ہے‘ جو سب کا رازق ہے‘ جو سب کا آقا ہے‘ جو سب کا حاکم ہے‘ جس کے حضور میں سب کو چاروناچار حاضر ہونا ہے‘ جس کے قبضۂ قدرت میں کُل کائنات ہے‘ جس کے اِذن کے بغیر ایک پتّا تک جنبش نہیں کرتا اور جو اصل ’’الحق‘‘ ہے‘ ازروئے الفاظِ قرآنی : ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ اس کی طرف دعوت تواصی بالحق کی بلند ترین منزل ہے‘ یہ تمام دعوتوں سے بلند ترین دعوت ہے. بلاشبہ اس سے کم تر اور نچلی سطح پر اصلاحی دعوت (Reformation movement) اور محدود پیمانے پر خلقِ خدا کی خدمت کے کاموں کی بھی اپنی اپنی جگہ پر اہمیت و افادیت ضرور ہے‘ مگر دعوت الی اللہ ان سب سے بلند تر اور اعلیٰ ترین ہے.