صِدّیقین کے ایمان کی کیفیت

یہاں فلسفۂ دین اور حکمت ِ قرآن کے اعتبار سے سب سے اہم بات جو ذہن نشین کر لینی چاہیے ‘وہ یہ ہے کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کو اصطلاح میں ’’صدّیقین‘‘ کہتے ہیں‘ جو نبی کی دعوت کو قبول کرنے میں والہانہ پیش قدمی کرتے ہیں اور قطعاً کوئی توقف نہیں کرتے. گویا انہیں اس کے بارے میں کوئی اشتباہ لاحق ہی نہیں ہوتا‘ چنانچہ نہ وہ کوئی اعتراض وارد کرتے ہیں‘ نہ کوئی جرح کرتے ہیں. وہ یہ نہیں کہتے کہ آپ ہم کو دعوت دینے والے کون ہوتے ہیں؟ بلکہ ان کی کیفیت ایسی ہوتی ہے کہ جیسے کوئی نمازی وضو کرکے نماز کے لیے تیار بیٹھا ہو اور صرف انتظار کر رہا ہو کہ جیسے ہی اذان کی آواز کان میں پڑے وہ فوراً مسجد کا رُخ کرے. بالکل یہی کیفیت صِدّیقین کی ہوتی ہے‘ جن کی فطرت صالح ہوتی ہے‘ جن کی عقل سلیم ہوتی ہے ‘ اور جو خود اپنے ذاتی غور و فکر کے نتیجے میں اُن نتائج کے آس پاس پہنچ چکے ہوتے ہیں جن کی دعوت وحی کے ذریعے سے انبیائے کرام اور رُسلِ عظام علیہم السلام تک پہنچتی ہے اور پھر اُن کے ذریعے اِن حضراتِ صدّیقین کے کانوں تک پہنچتی ہے.

الغرض اِن صدّیقین کو نبی کی دعوت کے قبول کرنے میں نہ کوئی تذبذب‘ تأمل یا تردّد ہوتا ہے نہ کوئی پس و پیش‘ کیونکہ یہ تو خود اِن کی اپنی فطرت کی پکار ہوتی ہے ‘اور ان حقائق پر مشتمل ہوتی ہے جو اِن کے اپنے باطن میں مضمر ہوتے ہیں اور وحی کا جامہ پہن کر نبی کے قلبِ اطہر پر وارد ہوتے ہیں اور اب نبی کی زبان سے ایک دعوت کی صورت میں ادا ہو کر ان کے کانوں میں پڑ رہے ہیں‘ بقول علامہ اقبال مرحوم : ؎

نکلی تو لبِ اقبال سے ہے ‘ کیا جانیے کس کی ہے یہ صدا
پیغامِ سکوں پہنچا بھی گئی ‘ دل محفل کا تڑپا بھی گئی!

لہذا وہ جس کیفیت کے ساتھ ایمان لاتے ہیں اس میں ایک والہانہ انداز ہوتا ہے‘ جیسا کہ نبی اکرم نے فرمایا کہ ’’میں نے جس کے سامنے بھی دعوت پیش کی اُس نے تھوڑی دیر کے لیے کچھ نہ کچھ توقف ضرور کیا‘ سوائے ابوبکر( رضی اللہ عنہ )کے کہ انہوں نے ایک لمحے کا توقف کیے بغیر فوراً میری تصدیق کر دی‘‘.اب آپ خود سوچیے کہ ایسا کیوں ہوا؟ معلوم ہوا کہ ان کو ان حقائق کے ادراک‘ شعور اور پہچاننے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی. کون مسلمان ایسا ہو گا جو یہ بات نہ جانتا ہو کہ ’’واقعۂ معراج‘‘ کی تصدیق کے موقع پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بارگاہِ رسالت سے ’’صِدّیق‘‘ کالقب اور خطاب ملا تھا !اور پوری اُمت کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیقِ اکبر ہیں. مزید برآں مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ سورۃ الّیل کے آخری حصے میں شامل آیات بالخصوص حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی ہیں‘ چنانچہ امام رازیؒ نے سورۃ الّیل کو سورۂ صِدّیق اکبرؓ ‘ قرار دیا ہے.

یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ نبی اکرم کی بعثت کے وقت اگرچہ پورے عرب میں بالعموم شرک اور جہالت کی شدید اور گہری تاریکیاں چھائی ہوئی تھیں اور مکّہ میں تو یہ ظلمت اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی اور عالَم یہ تھا کہ دنیا میں خدائے واحد کی عبادت کے لیے جو مرکز تعمیر ہوا تھا وہ اقبال کے ان الفاظ کے مصداق کہ ؏ 
’’دنیا کے بُت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا‘‘

تین سو ساٹھ بُتوں کا استھان بنا ہوا تھا اور ہر سو شرک کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے ‘ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فطرتِ انسانی بالکل مسخ ہو چکی تھی اور توحید کا نور بالکل ہی مٹ چکا تھا. اس لیے کہ اسی مکّہ کی سرزمین میں عین اسی وقت ابوبکرؓ ‘بھی موجود تھے جنہوں نے ساری عمر کبھی شرک نہیں کیا. اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے کہ نبی اکرم پر ابھی وحی ٔ نبوت کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا لیکن جیسے خود نبی اکرم پیدائشی طور پر موحّد تھے اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی پہلے ہی سے موحّد تھے. ایسے ہی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی ابتدا ہی سے موحّد تھے اور ایسی اور بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں. ایک صاحب زید بن عمرو بن نفیل تھے جن کا آنحضور پر وحی کے آغاز سے قبل انتقال ہو گیا تھا. روایات میں ان کا حال یہ آتا ہے کہ کعبہ شریف کے پردے پکڑ پکڑ کر اللہ سے دعائیں کیا کرتے تھے کہ ’’اے ربّ! میں صرف تیری عبادت کرنا چاہتا ہوں‘ میں ان تمام معبودانِ باطل سے اعلانِ براء ت کر رہا ہوں جن کو اہلِ مکّہ پوجتے ہیں اور جن سے انہوں نے تیرے گھر کو آباد کر رکھا ہے‘ میں صرف تیری ہی پرستش اور صرف تیری ہی پوجا کرنا چاہتا ہوں لیکن میں نہیں جانتا کیسے کروں‘‘.ان ہی کے صاحبزادے ہیں حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ جو یکے از عشرۂ مبشرہ ہیں اور جو حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے بہنوئی ہیں. ظاہر بات ہے کہ زید جیسے موحّد کی آغوش میں تربیت پانے والے کی فطرت میں ان تمام حقائق کا موجود ہونا بالکل سمجھ میں آنے والی بات ہے. یہی وجہ ہے کہ انہوںؓ نے رسول اللہ پر ایمان لانے میں سبقت کی. روایات میں چند اور حضرات کا ذکر بھی ملتا ہے جو اپنی فطرتِ سلیمہ اور عقل صحیح نیز اپنے غور و فکر سے توحید اور معاد کی معرفت حاصل کر چکے تھے‘ لیکن ان کا انتقال نبی اکرم پر آغازِ وحی سے قبل ہو چکا تھا. اس ضمن میں حضرت ورقہ بن نوفل کا ذکر بھی مناسب ہے جو اُسی مکّہ کی سرزمین میں پیدا ہوئے تھے جہاں شرک کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے‘لیکن ان کی فطرتِ سلیمہ نے شرک سے انکار کیا اور انہیں مجبور کیا کہ اس ماحول سے نکل کر حقیقت کی تلاش کریں. چنانچہ وہ شام گئے ‘ وہاں انہوں نے عبرانی زبان سیکھی اور عیسائیت اختیار کی اور پھر جب پہلی وحی کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آنحضور کو اُن کے پاس لے کر گئیں تو انہوں نے فوراً تصدیق کی اور یہ فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسی اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام پر نازل ہوا تھا… اور کاش کہ میں اُس وقت تک زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو ستائے گی اور اس شہر سے نکلنے پر مجبور کر دے گی تو میں آپ کی مدد کر سکوں. کچھ ہی دنوں کے بعد اُن کا انتقال ہوگیا.

بہرحال یہ ہیں وہ اولوالالباب ‘ ہوش مند اور باشعور لوگ جو ایک جانب تعقّل و تفکر کی وادیاں طے کرتے ہیں اور دوسری جانب ان کی فطرت سلیم ہوتی ہے اور اس میں ودیعت شدہ حقائق روشن ہوتے ہیں. لہذاایسے لوگ جب انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت سنتے ہیں تو کسی ردّوقدح کے بغیر فوری طور پر اسے قبول کر لیتے ہیں. اس کی ایک مثال قرآن مجید میں اور بھی ہے. ساتویں پارے کی پہلی آیت ہے:

وَ اِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَی الرَّسُوۡلِ تَرٰۤی اَعۡیُنَہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُوۡا مِنَ الۡحَقِّ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۸۳﴾ (المائدۃ) ’’اور جب انہوں نے سنا جو نازل ہوا ہے رسول ( ) پر تو تم دیکھتے ہو کہ معرفت ِ حق( کے شدت ِ تأثر) کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی ندیاں بہہ نکلی ہیں. (گویا معرفت ِ حق کا اتنا گہرا اثر اُن کے قلوب پر ہوا اورجذبات کے اندر وہ کیفیت پیداہوئی کہ ان کی آنکھوں سے بے اختیار اشکوں کی جھڑی لگ گئی اور) ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لے آئے‘ پس ہمارے نام بھی حق کے گواہوں میں درج فرما لے.‘‘