منتخب نصاب جلد اوّل

اب اسی آیت کے اگلے حصے کا مطالعہ کیجیے جس کے بارے میں اوپر عرض کیا جا چکا ہے کہ اس آیت میں پہلے تو اُن صدّیقین کو ان کی دعا کی اجابت و قبولیت کی بشارت و نوید سنائی گئی اور پھر افادئہ عام کے لیے ایسے حضرات کی عملی زندگی اور ان کے سیرت و کردار کی ایک جھلک بھی دکھا دی گئی . 

فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَ قٰتَلُوۡا وَ قُتِلُوۡا لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ ﴿۱۹۵﴾ 
’’پس وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی‘ اور جو اپنے گھروں سے نکال دیے گئے‘ اورجنہیں میری راہ میں ایذائیں پہنچائی گئیں‘ اور جنہوں نے جنگ کی اور قتل کردیے گئے (جنہوں نے میری راہ میں اپنی گردنیں کٹوا دیں) میں اُن کی برائیوں کو لازماً ان سے دُور کروں گااور ان کو لازماً داخل کروں گا ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی. یہ بدلہ ہو گا اللہ کے پاس سے (اس کے خاص خزانۂ فضل سے) اور (واقعہ یہ ہے کہ) اچھا بدلہ تو اللہ ہی کے پاس ہے‘‘.

آیت کے اس حصے میں ’’ہجرت‘‘ اور ’’اخراج مِن الدّیار‘‘ کے الفاظ قابلِ توجہ ہیں. بظاہر تو یہ ہم معنی اور ہم مفہوم ہیں ‘ ان کی مراد ایک ہی ہے‘ لیکن ’’ہجرت‘‘ ہمارے دین کی ایک وسیع المفہوم اصطلاح ہے. اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اللہ کے دین کی خاطر گھر بار‘ اہل و عیال اور اعزّہ و اقارب سب چھوڑ کر کسی ایسی جگہ چلے جانا جہاں عبادتِ ربّ کا فریضہ انجام دینے میں غیر معمولی اور ناقابلِ برداشت مشکلات نہ ہوں. لیکن اس کے دوسرے بھی متعدد مفاہیم ہیں. جیسے نبی اکرم سے پوچھا گیا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَیُّ الْھِجْرَۃِ اَفْضَلُ؟ ’’اے اللہ کے رسول !یہ فرمایئے کہ سب سے اعلیٰ وافضل ہجرت کون سی ہے‘‘؟اب جوا ب سنئے‘ حضور ارشاد فرماتے ہیں کہ : اَنْ تَھْجُرَ مَا کَرِہَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ ’’یہ کہ تو ہر اُس چیز کو چھوڑ دے اور ہر اُس کام سے اجتناب کرے جو تیرے ربّ عزّوجل کو پسند نہیں ہے‘‘. لہذا یہاں اس لفظ کو اس کے عموم پر رکھا جائے تو کوئی حرج نہیں. اس طرحفَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا کا مفہوم ہو گاکہ ’’وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی خاطر ہر اُس چیز کو تج دیا اور ہر اُس چیز سے ترکِ تعلق کر لیا جو اللہ کو پسند نہیں‘‘.کوئی چیز اُن کے لیے راہِ حق میں رکاوٹ نہ بن سکی اور اس راہ کی کوئی مشکل ان کے پاؤں کی بیڑی نہ بن سکی. وہ جب اپنے ربّ سے جڑے ہیں تو اس شان کے ساتھ جڑے ہیں کہ جو چیز بھی اللہ کو ناپسند ہے اس سے کٹ گئے. ان کی کیفیت یہ ہو گئی ہے کہ: 

اَلْحُبُّ لِلّٰہِ وَالْبُغْضُ لِلّٰہِ ’’اگرکسی سے محبت ہے تو صرف اللہ کے لیے اور اگر کسی سے بغض و عداوت ہے تو صرف اللہ کے لیے‘‘.

آگے بڑھیے : 
وَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ ’’اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے‘‘. یہاں ایک اشکال کا رفع ہونا ضروری ہے. وہ یہ کہ اہل ایمان کو قریشِ مکّہ نے خود تو نہیں نکالا تھا. اہل ایمان نے خود دوبار حبشہ کی طرف اور آخری بار یثرب (مدینہ منورہ) کی طرف ہجرت کی تھی. قریش تو اُن کو روکنے کے درپے تھے. لیکن امر واقع یہ ہے کہ قریشِ مکّہ نے ان اہل ایمان پر مظالم و شدائد کی وہ حد کر دی تھی کہ ان کا مکّہ میں رہنا دوبھراور اجیرن ہو گیا تھا. ان کے مظالم جن اہل ایمان کے لیے برداشت کی حدود سے نکل گئے تھے انہوں نے نبی اکرم کی اجازت سے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی. اسی بات کو یہاں ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے : وَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ ’’اور وہ لوگ جو اپنے گھروں سے نکالے گئے‘‘.

آگے فرمایا: 
وَ اُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ ’’اور جنہیں میری راہ میں ایذائیں پہنچائی گئیں‘‘. چنانچہ جو کچھ بیتا حضرت بلالؓ پر اور جو قیامت گذری حضرت خباب بن الارت اور بہت سے دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر‘ پھر جس بہیمانہ طریقے پر حضرت یاسر اور ان کی اہلیہ محترمہ حضرت سمیّہ رضی اللہ عنہماشہید کیے گئے‘ ان تمام ایذاؤں اور مظالم و شدائد کا اندازہ کیجیے جس کے تصور ہی سے ایک حسّاس ودرد مند دل لرز اٹھتا ہے ‘اور پھر سوچئے کہ ان حضرات کرامؓ نے کوئی جرم نہیں کیا تھا.زر‘ زن اور زمین کے جو جھگڑے دنیا میں مشہور و معروف ہیں‘ ان میں سے کسی کے ضمن میں ان کا کسی سے کوئی تنازع اور قضیہ نہیں تھا. اُن کا جرم کوئی تھا تو صرف یہ کہ انہوں نے کلمۂ توحید کو قبول کر لیا تھا اور محمدٌ رسول اللہ کے دامن سے وابستگی اختیار کر لی تھی. مزید برآں خود نبی اکرم جو اعلانِ نبوت ورسالت سے قبل قریش کی آنکھوں کا تارا تھے‘ جن کا ذکر وہ الصادق اور الامین جیسے اعلیٰ القاب کے بغیر نہیں کرتے تھے‘ وہ ان کے مخالف کس لیے اور کس وجہ سے تھے؟ یہاں ’’فِیۡ سَبِیۡلِیۡ ‘‘ کے الفاظ کے ذریعے ان تمام اہل ایمان کو خراجِ تحسین ادا کیا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو صرف میری خاطر مصائب کا نشانہ اور تشدّد و ستم کا نوالہ بنے اور صرف میرے دین کی خاطر جاں گسل آزمائشوں کی بھٹیوں میں سے گذرے. واضح رہے کہ یہاں تک جن ایذاؤں کا ذکر ہوا ان کا تعلق مَکی دَور سے ہے.

اب آگے مدنی دَور کا ذکر آ رہا ہے. سورۂ آل عمران مدنی ہے. اس دَور میں جنگ اور قتال کا سلسلہ شروع ہوا. جنگ کیا ہے؟ آیۂ بِر کے مطالعے کے دوران ہمارے سامنے یہ بات آ چکی ہے کہ نقدِ جان ہتھیلی پر رکھ کر اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے ایک بندۂ مؤمن معرکۂ قتال اور میدانِ جنگ میں آ جائے تو یہ نیکی کی بلند ترین چوٹی ہے. یہاں یہی بات ان الفاظ میں وارد ہوئی : وَ قٰتَلُوۡا وَ قُتِلُوۡا ’’اور انہوں نے اللہ کی راہ میں جنگ کی اور قتل کر دیے گئے ‘‘. انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنی گردنیں کٹوا دیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا.پس جن لوگوں کا یہ مقام ہے‘ جن کے یہ مراتب ہیں ‘ جن کے ایثار و قربانی کی یہ شان ہے تو ان کو بشارت ہو کہ لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ ’’میں لازماً ان سے ان کی برائیاں دُور کر دوں گا‘‘. بربنائے بشریت کہیں کوئی لغزش ہو گئی ہو‘ کبھی جذبات کی رو میں آ کر کسی غلط حرکت کا صدور ہو گیا ہو تو اس سے ہم چشم پوشی فرمائیں گے‘ ان کو معاف کر دیں گے. ان کے دامنِ کردار پر اگر کوئی داغ دھبہ ہے تو ہم اسے دھو ڈالیں گے. ان کے نامۂ اعمال میں اگر سیاہی کے کچھ داغ ہیں تو ہم ان کو صاف کر دیں گے. یہاں جو پہلے ’’لامِ مفتوح‘‘ اور آخر میں ’’نونِ مشدّد‘‘ آیا ہے عربی زبان میں یہ تاکید کا سب سے بڑا اسلوب ہے. مفہوم ہو گا کہ ’’میں لازماً دُور کر کے رہوں گا‘‘. 

آگے فرمایا : وَ لَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ یہاں بھی تاکید کا وہی اسلوب ہے:’’اور میں لازماً ان کو داخل کر کے رہوں گا ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہیں‘‘. آیت کا اختتام ہوتا ہے : ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ ’’یہ بدلہ ہے خاص اللہ کے پاس سے‘‘.یہاں پر جو ’’مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں ان میں ایک خاص کیفیت ہے‘ یعنی مَیں اپنے خاص خزانۂ فضل سے انہیں نوازوں گا. یہ لوگ میرے مقربینِ بارگاہ ہوں گے ‘ ان کو جو کچھ میں عطا کروں گا وہ اپنے خاص خزانۂ فیض سے عطا کروں گا. وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ ﴿۱۹۵﴾ ’’اور (یہ جان لو کہ) اچھا بدلہ (اور عمدہ صلہ) صرف اللہ کے پاس ہے‘‘.یہاں بھی حصر کا مفہوم موجود ہے. حصر کے اسلوب کے متعلق پہلے عرض کیاجا چکا ہے . اس اسلوب سے ’’صرف‘‘ کا مفہوم پیدا ہوا. یعنی ’’اچھا بدلہ تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے‘‘. 

اس میں ایک لطیف اشارہ ہے اس طرف کہ انسان محنتیں کرتا ہے‘ بھاگ دوڑ کرتا ہے تو کسی نہ کسی فائدہ‘ نفع اور بدلہ کو پیشِ نظر رکھتا ہے. اولاد پر انسان محنت کرتا ہے‘ اپنے آپ کو کھپاتا ہے‘ اس امید میں کہ یہ ہمارے بڑھاپے میں ہمارا سہارا بنیں گے. لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں اولادکی طرف سے خلافِ توقع ایک غلط طرزِعمل سامنے آتا ہے. انسان کو صدمے جھیلنے پڑتے ہیں. اولاد کے غلط طرزِ عمل اور رویے کی وجہ سے انسان نفسیاتی و ذہنی کرب سے دوچار ہو جاتا ہے. معلوم ہوا کہ صرف وہ محنت اور وہ کوشش لازماً نتیجہ خیز ہو گی جو اللہ کے لیے کی گئی ہو. اس کا اچھا بدلہ مل کر رہے گا. ہر وہ ساعت لازوال اور غیر فانی ہو جائے گی جو اللہ کے لیے صرف کی گئی ہو اور اس کے دین کی خدمت میں لگائی گئی ہو. اسی طرح ہر وہ پیسہ محفوظ ہو جائے گا جو اللہ کے دین کے لیے خرچ ہوا ہو. یہ تمام مفاہیم اس آیۂ مبارکہ کے اختتامی الفاظ میں موجود ہیں. 

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَoo