پہلی تمثیل : ’’مَثَلُ نُوْرِہٖ‘‘کامفہوم!

اب آگے چلیے! ارشاد فرمایا: مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشۡکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصۡبَاحٌ ؕ ’’اس کی روشنی کی مثال ایسے ہے جیسے ایک طاق ہو‘اس میں ایک چراغ ہو‘‘. یہاں جو ’’نُوْرِہٖ‘‘ (اس کی روشنی) کے الفاظ آئے ہیں ان کی تفسیر میں مختلف اقوال ملتے ہیں. متکلمین کی اکثریت نے اسے نورِ ہدایت قرار دیا ہے کہ یہ تمثیل نورِ ہدایت کے لیے ہے. بعض حضرات کی رائے ہے کہ یہاں نور سے مراد قرآن ہے‘ کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر قرآن کو ’’نور‘‘ سے تعبیرکیا ہے. ایک رائے یہ بھی ملتی ہے کہ یہاںنور سے مراد ہیں حضرت محمد ٌ رسول اللہ ‘اس لیے کہ آپ کے بارے میں سورۃ الاحزاب کی آیت ۴۶میں واضح طور پر فرمایا گیا کہ آپ ایک روشن چراغ ہیں. ویسے ہم تینوں کو جمع کر لیں تو بھی کوئی حرج نہیں. اس لیے کہ ہدایت‘ قرآن اور رسول اللہ مل کر ایک وحدت بن جاتے ہیں‘ جیسے سورۃ البیّنہ میں ارشاد فرمایا: 

لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ مُنۡفَکِّیۡنَ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ۙ﴿۱﴾ 
’’یہ سارے اہل کتاب اور یہ سارے مشرکین (اپنے کفر اورشرک سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس ’’بینّہ‘‘ نہ آجاتی‘‘. آگے فرمایا کہ وہ ’’الۡبَیِّنَۃُ‘‘ کیا ہے: 

رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً ۙ﴿۲﴾فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ ؕ﴿۳﴾ 
’’ایک رسول‘ اللہ کی طرف سے جو پاک صحیفے پڑھ کر سناتا ہے ‘جن میں بالکل راست اور درست باتیں لکھی ہوئی ہیں‘‘.

گویا رسولِ خدا اور صحیفۂ خداوندی مل کر ایک وحدت بنتے ہیں اور اس طرح 
’’بیّنہ‘‘ وجود میں آتی ہے‘ اور یہ ہے اللہ کی روشن دلیل‘ اللہ کی حجت‘اللہ کی برہان. 

’’مَثَلُ نُوْرِہٖ‘‘ کے ضمن میں دو صحابہؓ ‘کی رائے بھی نہایت قابلِ غور ہے. یہ دونوں صحابہؓ وہ ہیں جن کی قرآن فہمی کے ضمن میں نبی اکرم نے خصوصی فضیلت بیان فرمائی ہے. ان میں سے ایک ہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور دوسرے ہیں حضرت اُبی ابن کعب رضی اللہ عنہ. حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہاں ’’مَثَلُ نُوْرِہٖ‘‘ سے مراد ہے ’’مَثَلُ نُوْرِ مَنْ آمَنَ‘‘ (مثال اس کے نور کی جو ایمان لایا) یعنی جو ایمان لے آئے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور عطا ہوتا ہے‘ اُس نور کی مثال یہاں بیان ہو رہی ہے. اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہاں ’’مَثَلُ نُوْرِہٖ‘‘ سے مراد ہے ’’مَثَلُ نُوْرِہٖ فِیْ قَلْبِ الْمُؤْمِنِ‘‘ (اس کے نور کی مثال جو مؤمن کے قلب میں ہوتا ہے) گویا کہ یہاں مراد ہے نورِ ایمان. اس لیے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ ایمانِ حقیقی کے نور کا محل و مقام قلب ہے. جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرات میں ایک جانب صحابہ کرامؓ کے بارے میں فرمایا کہ: وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ (آیت ۷’’لیکن اللہ نے ایمان کو تمہاری محبوب ترین متاع بنا دیاہے اور اسے تمہارے دلوں میں کھپا دیا ہے‘‘. اور کچھ دوسرے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ : وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ (آیت۱۴’’اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا‘‘.

قلب ِ مؤمن میں جو نورِ ایمان پیدا ہوتا ہے آگے اس کی تمثیل بیان کی گئی ہے کہ جیسے ایک طاق ہے. اب ذرا آپ غور کیجیے اور اپنے جسم کی ہڈیوں کے پنجر کو اپنے تصور میں لائیے تو سینے کی جو ہڈیاں اور پسلیاں ہیں وہ بالکل ایک طاق کے مانند ہیں. ’’ڈایا فرام‘‘ جو ہمارے سینے کو معدے وغیرہ سے جدا کرتا ہے وہ اس کا فرش ہے اوراس پر قلب رکھا ہوا ہے. جب یہ قلب ایمان سے منور ہو جاتا ہے تو اب یہ ایک روشن چراغ کے مانند ہے کہ : 
کَمِشۡکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصۡبَاحٌ ؕ ’’جیسے ایک طاق ہو (اور )اس میں ایک چراغ رکھا ہو‘‘. اَلۡمِصۡبَاحُ فِیۡ زُجَاجَۃٍ ؕ ’’یہ چراغ ایک شیشے (فانوس) میں ہو‘‘. ہم سب کا تجربہ ہے کہ اگر چراغ شیشے (فانوس) یا کسی قندیل میں نہ ہو تو چراغ کی لو ہوا سے اِدھر اُدھر منتشر ہوتی رہتی ہے. جب چراغ شیشے (فانوس) یا قندیل میں ہوتا ہے تو لو ایک مرکز پر مرتکز اور ایک جگہ قائم رہتی ہے جس سے روشنی بالکل یکساں اور ہموار طور پر اپنے ماحول میں سرایت کرتی ہے.
اب آگے اس تمثیل کی اصل فصاحت و بلاغت آ رہی ہے: 

اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوۡکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوۡقَدُ مِنۡ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیۡتُوۡنَۃٍ لَّا شَرۡقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرۡبِیَّۃٍ ۙ یَّکَادُ زَیۡتُہَا یُضِیۡٓءُ وَ لَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡہُ نَارٌ ؕ 
’’فانوس کی کیفیت یہ ہو جیسے چمکتا اور جگمگاتا ستارا‘ وہ چراغ جلتا ہو ایک ایسے بابرکت زیتون کے درخت (کے تیل) سے جو نہ شرقی ہو نہ غربی‘ جس کا روغن آپ سے آپ بھڑک اٹھنے کے لیے تیار ہو‘ چاہے اسے آگ نے چھوا تک نہ ہو‘‘.

اس زیتون کے درخت کے متعلق حبر الاُمّہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اس سے زیتون کا ایسا درخت مراد ہے جو کسی پہاڑی کی چوٹی پر ہے یا کسی میدان میں یک و تنہا کھڑا ہے. ایسے درخت پر صبح سے لے کر شام تک مسلسل دھوپ پڑتی ہے‘ گویا سورج کی حرارت و تمازت اثر انداز ہوتی ہے. اس کے برعکس اگر درختوں کا کوئی جھنڈ ہو تو اگر اس کے شرقی گوشے میں کوئی درخت ہوگا تو شام کی دھوپ اس کو نہیں ملے گی اور اگر غربی گوشے میں ہوگا تو صبح کی دھوپ سے محروم رہے گا. یہ ہے مفہوم ’’لَّا شَرۡقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرۡبِیَّۃٍ‘‘ کا. حضرت ابن عباسؓ مزید فرماتے ہیں کہ ایسے درخت کے پھل کا تیل نہایت صاف و شفاف ہوتا ہے اور اس میں روشن ہونے کی استعداد بدرجۂ تمام و کمال موجود ہوتی ہے. آیت کے اس حصے میں زیتون کے اس درخت کے روغن کی یہ خصوصیت و کیفیت بیان ہوئی ہے کہ وہ اتنا صاف و شفاف ہے کہ بھڑکنے اور مشتعل ہونے کے لیے بے تاب ہے‘ مچل رہا ہے‘ چاہے اسے آگ نے چھوا تک نہ ہو. جدید دَور میں اگر ہم اس کی مثال دیں تو وہ پٹرول ہے. مٹی کے تیل سے بھی دِیا جلایا جاتا ہے‘ لیمپ اور لالٹین روشن کی جاتی ہے‘ سرسوں کے تیل سے بھی دِیا جلا لیا جاتا ہے‘ لیکن ان سب کے لیے بڑے جتن کرنے پڑتے ہیں. اس کے لیے بتی چاہیے‘ کپڑا چاہیے‘ تب وہ جلے گا. اس کو براہِ راست دیا سلائی دکھائیں تو وہ نہیں جلے گا. اس کے برعکس پٹرول کا معاملہ ہے کہ دِیا سلائی اس سے ابھی دُور ہے‘ قریب بھی نہیں آئی ‘لیکن پٹرول خود آگے بڑھ کر آگ کو پکڑنے اوربھڑک اٹھنے کے لیے بے تاب ہے. گویا یہاں ؏ ’’نغمے بے تاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیے !‘‘ والا انداز ہے.