مسلمانوں کی حیاتِ ملّی کی دوسری اہم بنیاد

نبی اکرم کا ادب و احترام


سورۃ الحجرات کی آیات ۲ تا ۸ میں مسلمانوں کی ہیئت اجتماعیہ یا ان کی حیاتِ ملّی کی شیرازہ بندی کی جو دوسری اہم بنیاد ہے‘ اس کا ذکر ہے. پہلی بنیاد جس کا ذکر اس سورۂ مبارکہ کی پہلی آیت میں ہے‘ دستوری اور آئینی نوعیت کی تھی کہ ایک اسلامی ریاست یا ایک اسلامی ہیئت اجتماعیہ یا ایک اسلامی معاشرہ پابند ہے اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا. اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا دائرہ وہ دائرہ ہے کہ مسلمان خواہ فرد ہو‘ خواہ معاشرہ ہو‘ خواہ پوری ملتِ اسلامیہ ہو‘ خواہ کوئی اسلامی ریاست ہو وہ اس دائرے کے اندرمحدود رہے گی. اب اس دائرے کا ایک مرکز بھی ہے اور مرکزی شخصیت جناب محمد رسول اللہ کی. اور مسلمانوں کی حیاتِ ملی کی شیرازہ بندی میں جہاں اس پہلی اصل کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے جو دستوری و آئینی اصل ہے‘ وہاں دوسری بنیاد مرکزی نقطہ کی حیثیت کی حامل ہے کہ حضور سے دلی محبت ہو‘ حضور سے عقیدت ہو‘ حضور کا ادب و احترام ہر آن ملحوظ رکھا جائے. آپ کی توقیر و تعظیم ہو. گویا فی الجملہ ہر مسلمان کے دل میں جناب محمد رسول اللہ کی محبت اور آپؐ ‘کی تعظیم جاگزیں ہو.

یہ درحقیقت وہ جذباتی بنیاد ہے جس سے ہمارے تمدن اور ہماری تہذیب کا نقشہ بنتا ہے یہ بات ذہن میں رکھئے کہ انسان میں صرف عقل و ذہانت 
(Intellect) ہی نہیں بلکہ اس میں جذبات‘ (sentiments) بھی ہیں. اور کسی بھی معاشرے میں جہاں اس کی عقلی اور فلسفیانہ اساسات کو اہمیت حاصل ہے‘ وہاں جذبات کے لیے بھی کوئی مرکز ضروری ہے‘ جس کے ساتھ اگر جذباتی وابستگی نہیں ہو گی تو دل پھٹے رہیں گے‘ آپس میں بُعد رہے گا اور ثقافت میں کوئی یک رنگی پیدا نہیں ہو سکے گی. چنانچہ کوئی تہذیبی و ثقافتی ہم آہنگی‘ (Cultural Homogenity) وجود میں نہیں آ سکے گی. ایک مسلمان معاشرے میں یہ مطلوبہ کیفیت درحقیقت نبی اکرم کے اتباع کے ذریعے سے ہی پیداہوتی ہے.

یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ ایک ہے اطاعت اور ایک ہے اتباع ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے. اطاعت نام ہے اس رویہ کا کہ جو حکم ملے اسے پورا کر دیا جائے اور یہ رویہ تو اصل میں اس دستوری اور آئینی بنیاد کا جزو ہے جس پر پہلے گفتگو ہو چکی ہے.اتباع کا دائرہ بہت وسیع ہے جو عمل بھی اُس شخصیت سے منسوب ہے جسے اللہ کا رسول مانا گیا ہے‘ جس پر ایمان لایا گیا ہے‘ جس کی اللہ کے نبی و رسول کی حیثیت سے تصدیق کی گئی ہے‘ اب اس شخصیت کی نشست و برخاست کا‘ اس کی گفتگو کا‘ اس کے رہن سہن کا‘ اس کی وضع قطع‘ اس کی تہذیب اور اس کی پوری نجی و مجلسی زندگی کا جو بھی انداز ہو‘ اس پورے نقشے کو اپنے سیرت و کردار میں جذب کرنا‘ اس رویہ اور اس کیفیت کا نام دراصل اتباع ہے اور اس کا دائرہ بہت وسیع ہے.