ایمان اور اس کے ثمرات ومضمرات

سورۃ التغابن کی روشنی میں


بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۚ لَہُ الۡمُلۡکُ وَ لَہُ الۡحَمۡدُ ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱﴾ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ فَمِنۡکُمۡ کَافِرٌ وَّ مِنۡکُمۡ مُّؤۡمِنٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲﴾خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَ صَوَّرَکُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَکُمۡ ۚ وَ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۳﴾یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ یَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۴﴾اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ نَبَؤُا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ۫ فَذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِہِمۡ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۵﴾ذٰلِکَ بِاَنَّہٗ کَانَتۡ تَّاۡتِیۡہِمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرٌ یَّہۡدُوۡنَنَا ۫ فَکَفَرُوۡا وَ تَوَلَّوۡا 

پاکی بول رہا ہے اللہ کی جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں، اسی کا راج ہے اور اسی کو تعریف ہے، اور وہی ہر چیز کر سکتا ہے. وہی ہے جس نے تم کو بنایا پھر کوئی تم میں منکر ہے اور کوئی تم میں ایماندار، اور اللہ جو تم کرتے ہو دیکھتا ہے. بنایا آسمانوں کو اور زمین کو تدبیر سے اور صورت کھینچی تمہاری پھر اچھی بنائی تمہاری صورت، اور اس کی طرف سب کو پھر جانا ہے. جانتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو کھول کر کرتے ہو، اور اللہ کو معلوم ہے جیؤں کی بات. کیا پہنچی نہیں تم کو خبر ان لوگوں کی جو منکر ہو چکے ہیں پہلے، پھر انہوں نے چکھی سزا اپنے کام کی اور ان کو عذاب دردناک ہے. یہ اس لئے کہ لاتے تھے ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں پھر کہتے کیا آدمی ہم کو راہ سمجھائیں گے، پھر منکر ہوئے اور منہ موڑ لیا

وَّ اسۡتَغۡنَی اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۶﴾زَعَمَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ لَّنۡ یُّبۡعَثُوۡا ؕ قُلۡ بَلٰی وَ رَبِّیۡ لَتُبۡعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلۡتُمۡ ؕ وَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۷﴾فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ النُّوۡرِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلۡنَا ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۸﴾یَوۡمَ یَجۡمَعُکُمۡ لِیَوۡمِ الۡجَمۡعِ ذٰلِکَ یَوۡمُ التَّغَابُنِ ؕ وَ مَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَ یَعۡمَلۡ صَالِحًا یُّکَفِّرۡ عَنۡہُ سَیِّاٰتِہٖ وَ یُدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۹﴾وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿٪۱۰﴾مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِیۡبَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ یَہۡدِ قَلۡبَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۱﴾وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۲﴾اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۳﴾یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ وَ اَوۡلَادِکُمۡ 
اور اللہ نے بے پروائی کی، اور اللہ بے پروا ہے سب تعریفوں والا. دعویٰ کرتے ہیں منکر کہ ہرگز ان کو کوئی نہ اٹھائے گا، تو کہہ کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تم کو بیشک اٹھانا ہے پھر تم کو جتلانا ہے جو کچھ تم نے کیا، اور یہ اللہ پر آسان ہے.

سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے اتارا، اور اللہ کو تمہارے سب کام کی خبر ہے. جس دن تم کو اکٹھا کرے گا جمع ہونے کے دن وہ دن ہے ہار جیت کا، اور جو کوئی یقین لائے اللہ پر اور کرے کام بھلا اتار دیگا اس پر سے اس کی برائیاں اور داخل کرے گا اس کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں ندیاں رہا کریں ان میں ہمیشہ، یہی ہے بڑی مراد ملنی. اور جو لوگ منکر ہوئے اور جھٹلائیں انہوں نے ہماری آیتیں وہ لوگ ہیں دوزخ والے رہا کریں اسی میں، اور بری جگہ جا پہنچے. نہیں پہنچتی کوئی تکلیف بدون حکم اللہ کے، اور جو کوئی یقین لائے اللہ پر وہ راہ بتلائے اس کے دل کو، اور اللہ کو ہر چیز معلوم ہے. اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول پھر اگر تم منہ موو تو ہمارے رسول کا تو یہی کام ہے پہنچا دینا کھول کر. اللہ اس کے سوائے کسی کی بندگی نہیں، اور اللہ پر چاہئے بھروسہ کریں ایمان والے. اے ایمان والو تمہاری بعض جوروئیں اور اولاد 
عَدُوًّا لَّکُمۡ فَاحۡذَرُوۡہُمۡ ۚ وَ اِنۡ تَعۡفُوۡا وَ تَصۡفَحُوۡا وَ تَغۡفِرُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴﴾اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَ اَوۡلَادُکُمۡ فِتۡنَۃٌ ؕ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۵﴾فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ وَ اسۡمَعُوۡا وَ اَطِیۡعُوۡا وَ اَنۡفِقُوۡا خَیۡرًا لِّاَنۡفُسِکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۶﴾اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعِفۡہُ لَکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ شَکُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿ۙ۱۷﴾عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۱۸﴾ 
دشمن ہیں تمہارے سو ان سے بچتے رہو، اور اگر معاف کرو اور درگزرو اور بخشو تو اللہ ہے بخشنے والا مہربان. تمہارے مال اور تمہاری اولاد یہی ہیں جانچنے کو، اور اللہ جو ہے اس کے پاس ہے ثواب بڑا. سو ڈرو اللہ سے جہاں تک ہو سکے اور سنو اور مانو اور خرچ کرو اپنے بھلے کو، اور جس کو بچا دیا اپنے جی کے لالچ سے سو وہ لوگ وہی مراد کو پہنچے. اگر قرض دو اللہ کو اچھی طرح پر قرض دینا وہ دونا کر دے تم کو اور تم کو بخشے، اور اللہ قدردان ہے تحمل والا. جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر کا زبردست حکمت والا.‘‘

ایمان کی بحث کے ذیل میں چوتھے نمبر پر سورۃ التغابن پڑھی جاتی ہے جو عموماً دو نشستوں ہی میں پڑھی جا سکتی ہے. ایک میں اس کا رکوعِ اول اور دوسری میں رکوعِ ثانی. اس سورت کے مضامین کی ترتیب اس اعتبار سے بڑی عجیب ہے کہ اس کے رکوع اول میں ایمان کے تینوں اجزاء کو صرف بیان 
(Narrate) کر دیا گیا ہے. استدلال کا پہلو یہاں بھی اگرچہ موجود ہے تاہم بہت خفی اور دوسرے رکوع میں ایمان کے بعض مضمرات اور مقدرات کو بھی کھول دیا گیا ہے اور اس کے اہم ثمرات کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے.

چنانچہ رکوع اول میں سب سے پہلے خدا کی ہستی، اس کی توحید اوراس کی صفاتِ کمال پر آیاتِ آفاقی کی شہادت کو اس پیرائے میں بیان کیا گیا ہے کہ آسمان وزمین میں جو کچھ ہے، اللہ کی تسبیح کر رہا ہے اور پھر اس کے مرتبہ ومقام اور اس کی بعض صفاتِ کمال خصوصاً قدرت اور علم کا بیان ہے. پھر رسالت کے ذیل میں رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کے عذابِ الٰہی سے ہلاک ہونے کا بیان بھی ہے اور رسالت کے باب میں ان کی اس اصل 
گمراہی کا ذکر بھی کر دیا گیا ہے کہ انہوں نے بشریت اور نبوت ورسالت کو ایک دوسرے کی ضد خیال کیا. (۱اس کے بعد منکرین بعث بعد الموت کی شدت کے ساتھ تردید اور قیامِ قیامت اور حشرونشر اور جزاوسزا کا بیان اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اصل ہارجیت اور کامیابی وناکامی کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا. اور آخر میں اللہ، رسول، کتاب اور آخرت پر ایمان کی پُرزور دعوت ہے.

دوسرے رکوع میں، جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ایمان کے مضمرات اور ثمرات کا بیان ہے یعنی: (i) تسلیم ورضا (ii) اطاعت وانقیاد، (iii) توکل واعتماد (iv) علائقِ دنیوی کی فطری محبت کے پردے میں انسان کے دین وایمان اور آخرت وعاقبت کے لئے جو بالقوہ 
(Potential) خطرہ مضمر ہے اس سے متنبہ اور چوکس وچوکنا رہنا. البتہ یہ بھی نہ ہو کہ انسان گھر کو میدانِ جنگ ہی بنا ڈالے. اس کے برعکس بہتر ہے کہ عفو ودرگزر کی روش اختیار کی جائے. (v) تقویٰ (vi) سمع وطاعت اور (vii) انفاق فی سبیل اللہ جس کی اہمیت پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے.

اس طرح یہ سورت ایمان کے بیان میں نہایت جامع ہے کہ اس کے اجزائے ثلاثہ کی تفصیل بھی اس میں آگئی اور اس سے انسان کے نقطۂ نظر، طرز فکر اور ذہنی روش میں جو تبدیلیاں آنی چاہئیں اور اس کے طرزِ عمل اور معاملاتِ دنیوی میں اس کے عملی رویے میں جو انقلاب برپا ہو جانا چاہئے، اس کا بیان بھی ہو گیا. اس سورت کا دوسرا رکوع ایک کسوٹی ہے جس پر انسان اپنے ایمان کو پرکھ کر دیکھ سکتا ہے کہ واقعۃً ایمان موجود ہے یا نہیں اور ہے تو کتنا ہے اور کیسا؟ 

(۱) اس مقام پر راقم اس حقیقت کو وضاحت سے بیان کیا کرتا ہے کہ اصل مرض ایک ہی ہے یعنی بشریت اور نبوت ورسالت کا ایک دوسرے سے استبعاد جس کا ظہور ایک شکل میں اس طرح ہوتا ہے کہ لوگ اس بنا پر رسول کی رسالت کا انکار کر دیتے ہیں کہ یہ تو بشر ہیں نبی یا رسول کیسے ہو سکتے ہیں اور دوسری طرف اسی مرض کا ظہور اس شکل میں ہوتا ہے کہ نبوت ورسالت کا اقرار کر لینے والے نبی یا رسول کی بشریت کا انکار کر بیٹھتے ہیں اور خود ان کو ماوراء البشر قرار دے کر الوہیت کے مقام پر لا بٹھاتے ہیں.