بندۂ مومن کی شخصیت کے خدوخال

سورۃ الفرقان کے آخری رکوع کی روشنی میں


بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
تَبٰرَکَ الَّذِیۡ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوۡجًا وَّ جَعَلَ فِیۡہَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیۡرًا ﴿۶۱﴾وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ خِلۡفَۃً لِّمَنۡ اَرَادَ اَنۡ یَّذَّکَّرَ اَوۡ اَرَادَ شُکُوۡرًا ﴿۶۲﴾وَ عِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِیۡنَ یَمۡشُوۡنَ عَلَی الۡاَرۡضِ ہَوۡنًا وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ﴿۶۳﴾وَ الَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴿۶۴﴾وَ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ ٭ۖ اِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا ﴿٭ۖ۶۵﴾اِنَّہَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿۶۶﴾وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ یُسۡرِفُوۡا وَ لَمۡ یَقۡتُرُوۡا وَ کَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا ﴿۶۷﴾وَ الَّذِیۡنَ لَا یَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ 

’’بڑی برکت ہے اسکی جس نے بنائے آسمان میں برج اور رکھا اس میں چراغ اور چاند اجالا کرنیوالا. اور وہی ہےجس نے بنائے رات اور دن بدلنے والے اس شخص کے واسطے کہ چاہے دھیان رکھنا یا چاہے شکر کرنا. اور بندے رحمن کے وہ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر دبے پاؤں اور جب بات کرنے لگیں ان سے بے سمجھ لوگ تو کہیں صاحب سلامت. اور وہ لوگ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے آگے سجدہ میں اور کھڑے. اور وہ لوگ کہ کہتے ہیں اے رب ہٹا ہم سے دوزخ کا عذاب، بیشک اس کا عذاب چمٹنے والا ہے. وہ بری جگہ ہے ٹھہرنے کی اور بری جگہ رہنے کی. اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرنے لگیں نہ بے جا اڑائیں اور نہ تنگی کریں اور ہے اس کے بیچ ایک سیدھی گزران. اور وہ لوگ کہ نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ دوسرے حاکم کو اور نہیں خون کرتے جان کا 
الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ لَا یَزۡنُوۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ یَلۡقَ اَثَامًا ﴿ۙ۶۸﴾یُّضٰعَفۡ لَہُ الۡعَذَابُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ یَخۡلُدۡ فِیۡہٖ مُہَانًا ﴿٭ۖ۶۹﴾اِلَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمۡ حَسَنٰتٍ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۷۰﴾وَ مَنۡ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوۡبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا ﴿۷۱﴾وَ الَّذِیۡنَ لَا یَشۡہَدُوۡنَ الزُّوۡرَ ۙ وَ اِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ مَرُّوۡا کِرَامًا ﴿۷۲﴾وَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَمۡ یَخِرُّوۡا عَلَیۡہَا صُمًّا وَّ عُمۡیَانًا ﴿۷۳﴾وَ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا ہَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعۡیُنٍ وَّ اجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا ﴿۷۴﴾اُولٰٓئِکَ یُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَۃَ بِمَا صَبَرُوۡا وَ یُلَقَّوۡنَ فِیۡہَا تَحِیَّۃً وَّ سَلٰمًا ﴿ۙ۷۵﴾خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ حَسُنَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿۷۶﴾قُلۡ مَا یَعۡبَؤُا بِکُمۡ رَبِّیۡ لَوۡ لَا دُعَآؤُکُمۡ ۚ فَقَدۡ کَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ یَکُوۡنُ لِزَامًا ﴿٪۷۷﴾ 
جو منع کر دی اللہ نے مگر جہاں چاہئے اور بدکاری نہیں کرتے، اور جو کوئی کرے یہ کام وہ جا پڑا گناہ میں. دونا ہو گا اس کو عذاب قیامت کے دن اور پڑا رہے گا اس میں خوار ہو کر. مگر جس نے توبہ کی اور یقین لایا اور کیا کچھ کام نیک سو ان کو بدل دے گا اللہ برائیوں کی جگہ بھلائیاں، اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان. اور جو کوئی توبہ کرے اور کرے کام نیک سو وہ پھر آتا ہے اللہ کی طرف پھر آنے کی جگہ. اور جو لوگ شامل نہیں ہوتے جھوٹے کام میں، اور جب گزرتے ہیں کھیل کی باتوں پر نکل جائیں بزرگانہ. اور وہ لوگ کہ جب ان کو سمجھائے ان کے رب کی باتیں نہ پڑیں ان پر بہرے اندھے ہو کر. اور وہ لوگ جو کہتے ہیں اے رب دے ہم کو ہماری عورتوں کی طرف سے اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک اور کر ہم کو پرہیز گاروں کا پیشوا. ان کو بدلہ ملے گا کوٹھوں کےجھروکے اسلئے کہ وہ ثابت قدم رہے اور لینے آئینگے ان کو وہاں دعا اور سلام کہتے ہوئے. سدا رہا کریں ان میں، خوب جگہ ہے ٹھہرنے کی اور رہنے کی. تو کہہ پرواہ نہیں رکھتا میرا رب تمہاری اگر تم اس کو نہ پکارا کرو، سو تم تو جھٹلا چکے اب آگے کو ہونی ہے مڈبھیڑ.‘‘

’عمل صالح‘ کی وضاحت میں تیسرا مقام سورۃ الفرقان کے آخری رکوع پر مشتمل ہے، 
جس میں بعض دوسرے اہم اور نہایت حکیمانہ اور دین کے فلسفہ وحکمت کے اعتبار سے انتہائی بنیادی حقائق کی وضاحت کے ساتھ ساتھ ایک بندۂ مؤمن کی پختہ اور پوری طرح تعمیر شدہ شخصیت کی جھلک ’’عبادالرحمن‘‘ کے اوصاف کی صورت میں دکھا دی گئی ہے. گویا کہ پچھلے درس میں جس انسانی شخصیت کی تعمیر کے ابتدائی لوازم کا ذکر تھا، اس مقام پر اس کی پوری طرح تکمیل شدہ وتیار (Finished) اور ہر اعتبار سے پختہ (Mature) حالت کی کامل تصویر کشی کر دی گئی ہے.

چنانچہ یہاں آغاز ان دو اوصاف کے بیان سے ہوا جو کسی انسان کی پختگی 
(Maturity) کی سب سے نمایاں اور اہم ترین علامتیں ہیں. یعنی ایک عجز وانکسار اور تواضع وفروتنی (واضح رہے کہ اس صفت کا ذکر ابتدائی اسباق میں سے سبق نمبر تین میں آخری اور بلند ترین وصف کی حیثیت سے ہوا ہے) اور دوسرے گفت وشنید، بحث وتمحیص اور مناظرہ ومجادلہ میں وقار شائستگی اور حکمتِ دعوت وتبلیغ کو ملحوظ رکھنا.

پھر نماز کا ذکر آیا. لیکن نماز پنجگانہ اور صلوٰۃ مفروضہ کا نہیں بلکہ رات کے قیام وسجود، تسبیح وتہلیل، اور دعاء واستغفار کا، جوگویا کہ ’صلوٰۃ‘ کا نقطۂ عروج ہے (واضح رہے کہ سورۃ النور کی طرح یہاں بھی عبادت وریاضت کی اس بلند منزل پر ہونے کے باوجود خوفِ عذاب اور تقویٰ وخشیتِ الٰہی کاذکر موجود ہے). 

پھر ایک اور وصف کا ذکر ہے جو تواضع وانکسار اور شائستگی ووقار ہی کی طرح انسانی شخصیت کی پختگی 
(Maturity) کی ایک اہم علامت ہے یعنی اعتدال اور میانہ روی، جس کا سب سے بڑا مظاہرہ انسان کے ذاتی خرچ اور گھریلو اخراجات کے میدان میں ہوتا ہے کہ نہ بخل سے کام لیا جائے نہ اسراف سے.
’’شہادتِ زُور‘‘ کا ذکر یہاں اس انداز سے آیا کہ یہ لوگ جھوٹ کی گواہی ہی سے مجتنب نہیں رہتے بلکہ جھوٹ پر ’’موجودگی‘‘ تک کو گوارا نہیں کرتے. اسی طرح ’’اعراض عن اللغو‘‘ کا ذکر اس طور سے ہوا کہ بالارادہ کسی لغو کا ارتکاب یا اس کے جانب میلان تو درکنار اگر اتفاقاً ان کا گزر ’لغو‘ کے پاس سے ہو جائے تو بھی متوجہ نہیں ہوتے بلکہ شریفانہ انداز سے 
دامن بچاتے ہوئے گزر جاتے ہیں.
پھر کفار پر ایک تعریض کے اسلوب میں ’عباد الرحمن‘ کا یہ وصف بیان کر دیا گیا کہ وہ غور وفکر اور تدبر وتفکر سے کام لیتے ہیں. (تقابل کے لئے دیکھئے سورۃ آل عمران کا آخری رکوع)
پھر ان کی اس خواہش کا ذکر ایک دعا کی شکل میں ہے کہ اسلام وایمان، اور نیکی اور بھلائی کی جس راہ پر وہ خود گامزن ہوئے ہیں ان کے اہل وعیال اور اولاد واحفاد بھی اسی راہ پر چلیں (واضح رہے کہ سورۃ التغابن کے آخر میں عائلی زندگی میں ایک مومن کے رویے کا جو منفی رخ پیش کیا گیا ہے یہ اسی کا مثبت پہلو ہے).

ایک حقیقی بندۂ رحمن یعنی شجرِ انسانیت کے ایک پورے پکے ہوئے 
(Ripe) اور ہر طرح سے تیار پھل کی انفرادی زندگی کی اس نقشہ کشی کے ساتھ ساتھ اس رکوع میں حسبِ ذیل بنیادی حقائق بھی بیان ہوئے:

۱. رکوع کے آغاز میں دو الفاظ میں وہ کیفیات بیان ہوئی ہیں جو آفاق وانفس میں آیاتِ الٰہی کے مشاہدے سے ایک سلیم الفطرت اور صحیح العقل انسان میں پیدا ہونی چاہئیں یعنی تذکر اور شکر (یہ گویا کہ خلاصہ ہے فلسفۂ قرآن اور حکمتِ قرآنی کے ان مباحث کا جو سورۂ آل عمران کے آخری، سورۃ النور کے پانچویں اور سورۂ لقمان کے دوسرے رکوع میں تفصیل سے آچکے ہیں).

۲. کبیرہ گناہوں میں سے بھی تین گناہ سب سے عظیم ہیں. ایک شرک اور اس کے جملہ اقسام میں سے بھی شرک فی الدعاء (واضح رہے کہ دعا عبادت کا اصل جوہر ہے: بقول نبی کریم  
اَلدُّعَا مُخْ اَلْعِبَادَۃِ اور اَلدُّعَآئُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ یہ تو گویا کہ وہ بنیادی گمراہی ہے جو انسان کو مرتبہ انسانیت ہی سے گرادیتی ہے. دوسرے ’’قتل نفس بغیر الحق‘‘ جس سے انسانی تمدن کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں اور معاشرے کا امن اور چین رخصت ہو جاتا ہے. اور تیسرے زنا، جس سے انسان کی سماجی زندگی تباہ ہو جاتی ہے اور عائلی زندگی سے باہمی اعتماد اور مودت ورحمت رخصت ہو جاتے ہیں. ۳. ازروئے ہدایتِ قرآنی گناہ گاروں کے لئے توبہ کا در مستقل طور پر کھلا ہوا ہے جس کے ذریعے ان کے پاس موت کے واضح آثار کے شروع ہو جانے تک تلافی ٔ مافات کا پورا موقع موجود رہتا ہے. بقول سرمد ؎

باز آ، باز آ ہر آنچہ ہستی باز آ
گر کافر و گبر و بت پرستی باز آ
ایں درگہِ ما درگہِ نو میدی نیست
صد بار اگر توبہ شکستی، باز آ

۴. حقیقی توبہ انسان کے گناہ کے اثرات کو زائل ہی نہیں کرتی ان کو ’حسنات‘ میں بدل دیتی ہے. توبہ اسلام کے بنیادی فلسفے کے نظام کی وہ شق ہے جس سے انسان میں امید اور رَجا کی کیفیات برقرار رہتی ہیں اور اصلاح کے لئے ارادہ اور ہمت قائم رہتے ہیں.

۵. اس ضمن میں صحیح توبہ کی شرائط بھی بیان ہو گئیں یعنی تجدید ایمان اور عمل صالح. اس سے اس حقیقت پر بھی روشنی پڑ گئی کہ اگرچہ گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے انسان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا تاہم واقعہ یہی ہے کہ گناہ کا صدور انسان سے حقیقی ایمان کی حالات میں نہیں ہوتا، اور گناہ کے بعد توبہ حقیقی اعتبار سے تجدید ایمان ہی کی حیثیت رکھتی ہے. (حدیث نبوی  
لاَ یَزْنِی الزَّانِیْ حِیْنَ یَزْنِیْ وَ ھُوَ مُؤمِنٌ وَلاَ یَسْرِقُ السَّارِقُ حِیْنَ یَسْرِقُ وَ ھُوَ مُؤمِنٌ . نہ کوئی زانی حالتِ ایمان میں زنا کرتا ہے اور نہ کوئی چور حالتِ ایمان میں چوری کرتا ہے). 

۶. آخر میں ایک تنبیہہ ہے کہ نبی  کے دعوت وتبلیغ میں حد سے بڑے ہوئے انہماک اور لوگوں کی ہدایت کے لئے آپ کی بے قراری سے یہ نہ سمجھا جائے کہ خدا کو لوگوں کی کوئی پرواہ ہے، یہ تو صرف اتمامِ حجت کے لئے ہے. پھر اگر کوئی اپنی شامتِ اعمال سے اعراض وتکذیب پر مصر ہی ہو جائے تو اسے اس کی بھرپور سزا مل کر رہے گی.