حکمتِ دین کا ایک عظیم خزانہ

نبی اکرم  کی اہم حدیث


عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ  خَرَجَ بِالنَّاسِ قَـبْلَ غَزْوَۃِ تَـبُوْکَ، فَلَمَّا اَنْ اَصْبَحَ صَلّٰی بِالنَّاسِ صَلٰوۃَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ اِنَّ النَّاسَ رَکِبُوْا، فَلَمَّا اَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ نَـعَسَ النَّاسُ فِیْ اَثَرِ الدُّلْجَۃِ وَلَزِمَ مُعَاذٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ یَتْلُوْا اَثَرَہٗ وَالنَّاسُ تَفَرَّقَتْ بِھِمْ رِکَابُھُمْ عَلٰی جَوَادِ الطَّرِیْقِ تَاْکُلُ وَتَسِیْرُ، فَـبَیْنَمَا مُعَاذٌ عَلٰی اَثَرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ  وَنَاقَتُہٗ تَاْکُلُ مَرَّۃً وَتَسِیْرُ اُخْرٰی عَثَرَتْ نَاقَۃُ مُعَاذٍ فَـکَبَحَھَا بِالزَّمَامِ فَھَبَّتْ حَتّٰی نَفَرَتْ مِنْھَا نَاقَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ  ثُمَّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ  کَشَفَ عَنْہُ قِنَاعَہٗ فَالْتَفَتَ فَاِذَا لَـیْسَ مِنَ الْجَیْشِ رَجُلٌ اَدْنٰی اِلَـیْـہِ مِنْ مُعَاذٍ ، فَـنَادَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ  فَقَالَ: یَا مُعَاذُ قَالَ لَـبَّـیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ‘ قَالَ: اُدْنُ دُوْنَکَ فَدَنَا مِنْہُ حَتّٰی لَصِقَتْ رَاحِلَتُھُمَا اِحْدَاھُمَا بِالْاُخْرٰی ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  : مَا کُنْتُ اَحْسِبُ النَّاسَ مِنَّا کَمَکَانِھِمْ مِنَ الْـبُـعْدِ فَقَالَ مُـعَاذٌ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ نَـعَسَ النَّاسُ فَـتَـفَرَّقَتْ بِھِمْ رِکَابُھُمْ تَرْتَعُ وَتَسِیْرُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  : وَاَنَا کُنْتُ نَاعِسًا فَلَمَّا رَأی مُعَاذٌ بُشْرٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ  اِلَـیْہِ وَخَلْوَتَہٗ لَـہٗ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِئْذَنْ لِیْ اَسْأَلُکَ عَنْ کَلِمَۃٍ قَد ْ اَمْرَضَتْنِیْ وَاَسْقَمَتْنِیْ وَاَحْزَنَتْنِیْ ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ : سَلْنِیْ عَمَّ شِئْتَ فَقَالَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ حَدِّثْنِیْ بِعَمَلٍ یُدْخِلُنِیَ الْجَنَّۃَ لَا اَسْأَلُکَ عَنْ شَیْئٍ غَیْرَھَا ، قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ  : بَخٍ بَخٍ لَقَدْ سَاَلْتَ بِعَظِیْمٍ ، لَقَدْ سَاَلْتَ بِعَظِیْمٍ [ثَلَاثًا] وَاِنَّـہٗ لَـیَسِیْرٌ عَلٰی مَنْ اَرَادَ اللّٰہُ بِہِ الْخَیْرَ فَلَمْ یُحَدِّثْہُ بِشَیْئٍ اِلاَّ قَالَــہٗ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِرْصًا لِکَیْمَا یُتْقِنَہٗ عَنْہُ ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ  : تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَتُقِیْمُ الصَّلٰوۃَ وَتَعْبُدُ اللّٰہَ وَحْدَہٗ لَا تُشْرِکْ بِہٖ شَیْئًا حَتّٰی تَمُوْتَ وَاَنْتَ عَلٰی ذٰلِکَ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ اَعِدْ لِیْ، فَاَعَادَھَا لَـہٗ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ‘ ثُمَّ قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ  : اِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُکَ یَا مُعَاذُ بِرَأْسِ ھٰذَا الْاَمْرِ وَذِرْوَۃِ السَّنَامِ فَقَالَ بِاَبِیْ وَاُمِّیْ اَنْتَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ فَحَدِّثْنِیْ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ  : اِنَّ رَأْسَ ھٰذَا الْاَمْرِ اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لاَّ اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُـہٗ ، وَاَنَّ قَوَامَ ھٰذَا الْاَمْرِ اِقَامُ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَائُ الزَّکٰوۃِ ، وَاَنَّ ذِرْوَۃَ السَّنَامِ مِنْہُ الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ، وَاِنَّمَا اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَیَشْھَدُوْا اَنْ لاَّ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُـہٗ ، فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ فَقَدِ اعْتَصَمُوْا وَعَصَمُوْا دِمَائَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ اِلاَّ بِحَقِّھَا وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  : وَالَّـذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ مَا شَحَبَ وَجْہٌ وَلَا اغْبَرَّتْ قَدَمٌ فِیْ عَمَلٍ تُـبْـتَغٰی فِیْہِ دَرَجَاتُ الْجَنَّۃِ بَعْدَ الصَّلٰوۃِ الْمَفْرُوْضَۃِ کَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا ثَـقَّلَ مِیْزَانَ عَبْدٍ کَدَابَّۃٍ تُنْفَقُ لَــہٗ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْ یُحْمَلُ عَلَیْھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (رواہ احمد والبزار والنسائی وابن ماجہ والترمذی وقال حدیث حسن صحیح) 

ترجمہ

حضرت معاذبن جبلؓ سے روایت ہے کہ رسولِ خدا  لوگوں کو غزوۂ تبوک کے لئے لے کر نکلے. جب صبح ہو گئی تو آپؐ نے ان کو صبح کی نماز پڑھائی، لوگ نماز پڑھ کر پھر سوار ہو گئے . جب آفتاب نکلا تو سب لوگ شب بیداری کی وجہ سے اونگھ رہے تھے. ایک معاذؓ تھے جو برابر رسولِ خدا  کے پیچھے پیچھے لگے چلے آرہے تھے. بقیہ لوگوں کی سواریاں چرتی رہیں اور چلتی رہیں اور انہیں لے کر راستے کے طول وعرض میں تتر بتر ہو گئی تھیں. اسی دوران میں کہ معاذؓ کی اونٹنی نے جو رسول اللہ  کی اونٹنی کے پیچھے پیچھے کبھی چرتی اور کبھی چلتی جا رہی تھی، دفعۃً ٹھوکر کھائی، معاذؓ نے اس کو لگام کھینچ کر سنبھالا تو وہ اور تیز ہو گئی یہاں تک کہ اس کی وجہ سے آپؐ کی اونٹنی بھی بدک گئی. آپؐ نے اپنا نقاب اٹھایا! دیکھا تو لشکر بھر میں معاذؓ سے زیادہ کوئی اور شخص آپ کے قریب نہ تھا. آپؐ نے انؓ کو آواز دی اے معاذؓ ! انہوں نے جواب دیا، یا نبی ؐ اللہ میں حاضر ہوں. فرمایا اور قریب آجاؤ وہ قریب آگئے اور اتنے قریب آگئے کہ دونوں کی سواریاں ایک دوسرے سے بالکل مل گئیں. آپؐ نے فرمایا میرا یہ خیال نہیں تھا کہ لوگ مجھ سے اتنی دور ہوں گے. معاذؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! لوگ کچھ اونگھ رہے تھے (اس لئے) ان کی سواریاں چرتی رہیں اور چلتی رہیں اور اِدھر اُدھر انہیں لے کر متفرق ہو گئیں. آپؐ نے فرمایا میں خود بھی اونگھ رہا تھا. معاذؓ نے جب دیکھا کہ آپؐ ان سے خوش ہیں اور موقع بھی تنہائی کا ہے تو عرض کیا یا رسول اللہ  ! اجازت دیجئے تو ایک بات پوچھوں جس نے مجھے بیمار ڈال دیا ہے اور نڈھال کر دیا ہے اور غمزدہ بنا رکھا ہے.

آپؐ نے فرمایا اچھا جو چاہتے ہو پوچھو. عرض کیا یا رسول اللہ  ! کوئی ایسا کام بتا دیجئے جو مجھے جنت میں لے جائے. اس کے سوا میں آپؐ سے اور کچھ نہیں پوچھوں گا. آپؐ نے فرمایا بہت خوب ، بہت خوب، تم نے بڑی بات پوچھی. تین بار فرمایا. جس کے لئے خدا بھلائی کا ارادہ کرے اس کے لئے کچھ اتنی دشوار بھی نہیں. آپؐ نے ان سے کوئی بات نہیں فرمائی جو تین بار نہ دہرائی ہو، اس خیال سے کہ وہ آپؐ کی بات خوب پختہ یاد کرلیں. آپؐ نے فرمایا اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھو، نماز پڑھا کرو، اللہ کی عبادت کیا کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ. یہاں تک کہ اسی حال پر تمہاری موت آجائے. انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ  ! پھر ارشاد فرمائیے. آپؐ نے ان کی خاطر تین بار فرمایا، اس کے بعد آپؐ نے فرمایا اگرچاہو تو اس دین کے اونچے عملوں میںجو چوٹی کا عمل ہے اور جو اس کی جڑ ہے، وہ تمہیں بتا دوں. انہوں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! ضرور ارشاد فرمائیے!

آپؐ نے فرمایا سب میں جڑکا عمل تو یہ ہے تو اس کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو تنہا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں محمد  اس کے بندے اور رسول ہیں، اور جس عمل سے دین کی بندش مضبوط رہتی ہے، وہ نماز پڑھنا اور زکوٰۃ دینا ہے اور ا س کے اونچے اونچے عملوں میں سب سے چوٹی کا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے. مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں جنگ اس وقت تک جاری رکھوں جب تک کہ لوگ نماز نہ پڑھیں، زکوٰۃ نہ دیں اور اس بات کی شہادت نہ دیں کہ معبود کوئی نہیں مگر اللہ جو تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں. جب یہ باتیں کر لیں تو وہ خود بھی بچ گئے اور اپنی جان ومال کو بھی بچا لیا مگر ہاں جو شریعت کی زد میں آجائے اور اس کے بعد ان کا حساب خدا کے سپرد ہے. اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمدؐ کی جان ہے، کوئی چہرہ (عمل کرتے کرتے) متغیر نہیں ہوا اور کوئی قدم (سفر کرتے کرتے) غبار آلود نہیں ہوا، کسی ایسے عمل میں جس کا مقصد درجاتِ جنت ہوں فرض نماز کے بعد جہاد فی سبیل اللہ کے برابر اور نہ بندہ کے میزانِ عمل میں کوئی نیکی اتنی وزن دار ثابت ہوئی جتنا کہ اس کا وہ جانور جو جہاد فی سبیل اللہ میں مرگیا یا جس پر اس نے راہِ خدا میں سواری کی!