اہلِ ایمان کے لئے ابتلاء وامتحان سے گزرنا لازمی ہے

سورۃ العنکبوت کے پہلے رکوع ، سورۃ البقرہ کی آیت ۲۱۴، 
سورۃ آل عمران کی آیت ۱۴۲ اور سورۃ التوبہ کی آیت ۱۶ کی روشنی میں

سورۃ العنکبوت کا پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَ ہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ ﴿۲﴾وَ لَقَدۡ فَتَنَّا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۳﴾اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّسۡبِقُوۡنَا ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿۴﴾مَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ ؕ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۵﴾وَ مَنۡ جَاہَدَ فَاِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفۡسِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶﴾وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ 

’’کیایہ سمجھتے ہیں لوگ کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہہ کر کہ ہم یقین لائے اور ان کو جانچ نہ لیں گے. اور ہم نے جانچا ہے ان کو جو ان سے پہلے تھے سو البتہ معلوم کرے گا اللہ جو لوگ سچے ہیں اور البتہ معلوم کرے گا جھوٹوں کو. کیا یہ سمجھتے ہیں جو لوگ کہ کرتے ہیں برائیاں کہ ہم سے بچ جائیں، بری بات طے کرتے ہیں. جو کوئی توقع رکھتا ہے اللہ کی ملاقات کی سو اللہ کا وعدہ آرہا ہے، اور وہ ہے سننے والا جاننے والا. اور جو کوئی محنت اٹھائے سو اٹھاتا ہے اپنے ہی واسطے، اللہ کو پروا نہیں جہان والوں کی. اور جو لوگ یقین لائے اور کئے بھلے کام ہم اتار دیں گے ان پر سے

سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَحۡسَنَ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷﴾ وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ حُسۡنًا ؕ وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ لِتُشۡرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ فَلَا تُطِعۡہُمَا ؕ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸﴾وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدۡخِلَنَّہُمۡ فِی الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۹﴾وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ فَاِذَاۤ اُوۡذِیَ فِی اللّٰہِ جَعَلَ فِتۡنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ ؕ وَ لَئِنۡ جَآءَ نَصۡرٌ مِّنۡ رَّبِّکَ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمۡ ؕ اَوَ لَیۡسَ اللّٰہُ بِاَعۡلَمَ بِمَا فِیۡ صُدُوۡرِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰﴾وَ لَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ﴿۱۱﴾وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوۡا سَبِیۡلَنَا وَ لۡنَحۡمِلۡ خَطٰیٰکُمۡ ؕ وَ مَا ہُمۡ بِحٰمِلِیۡنَ مِنۡ خَطٰیٰہُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۲﴾وَ لَیَحۡمِلُنَّ اَثۡقَالَہُمۡ وَ اَثۡقَالًا مَّعَ اَثۡقَالِہِمۡ ۫ وَ لَیُسۡـَٔلُنَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾ 

برائیاں ان کی اور بدلا دینگے ان کو بہتر سے بہتر ان کے کاموں کا. اور ہمنے تاکید کر دی انسان کو اپنے ماں باپ سے بھلائی سے رہنے کی، اور اگر وہ تجھ سے زور کریں کہ تو شریک کرے میرا جس کی تجھ کو خبر نہیں تو ان کا کہنا مت مان، مجھی تک پھر آنا ہے تم کو سو میں بتلا دوں گا تم کو جو کچھ تم کرتے تھے. اور جو لوگ یقین لائے اور بھلے کام کئے ہم ان کو داخل کریں گے نیک لوگوں میں. اور ایک وہ لوگ ہیں کہ کہتے ہیں یقین لائے ہم اللہ پر پھر جب اس کو ایذا پہنچے اللہ کی راہ میں کرنے لگے لوگوں کے ستانے کو برابر اللہ کے عذاب کی، اور اگر آپہنچے مدد تیرے رب کی طرف سے توکہنے لگیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، کیا یہ نہیں کہ اللہ خوب خبردار ہے جو کچھ سینوں میں ہے جہان والوں کے. اور البتہ معلوم کرے گا اللہ ان لوگوں کو جو یقین لائے ہیں اور البتہ معلوم کریگا جو لوگ دغاباز ہیں. اور کہنے لگے منکر ایمان والوں کو تم چلو ہماری راہ اور ہم اٹھا لیں تمہارے گناہ، اور وہ کچھ نہ اٹھائیں گے ان کے گناہ، بیشک وہ جھوٹے ہیں. اور البتہ اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور کتنے بوجھ ساتھ اپنے بوجھ کے، اور البتہ ان سے پوچھ ہو گی قیامت کے دن جو باتیں کہ جھوٹ بناتے تھے.‘‘ 


سورۃ البقرہ کی آیت ۲۱۴

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ مَسَّتۡہُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلۡزِلُوۡا حَتّٰی یَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ ﴿۲۱۴﴾ 
’’کیا تم کو یہ خیال ہے کہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ تم پر نہیں گزرے حالات ان لوگوں جیسے جو ہو چکے تم سے پہلے، کہ پہنچی ان کو سختی اور تکلیف اور جھڑجھڑائے گئے یہاں تک کہ کہنے لگا رسول اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے کب آئے گی اللہ کی مدد، سن رکھو اللہ کی مدد قریب ہے.‘‘ 



سورۃ آل عمران کی آیت ۱۴۲

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾ 

’’کیا تم کو خیال ہے کہ داخل ہو جاؤ گے جنت میں اور ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں اور معلوم نہیں کیا ثابت رہنے والوں کو.‘‘ 



سورۃ التوبہ کی آیت ۱۶

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تُتۡرَکُوۡا وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ لَمۡ یَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لَا رَسُوۡلِہٖ وَ لَا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَلِیۡجَۃً ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۶﴾ 

’’کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ چھوٹ جاؤ گے اور حالانکہ ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے جہاد کیا ہے اور نہیں پکڑا انہوں نے سوا اللہ کے اور اس کے رسول کے اور مسلمانوں کے کسی کو بھیدی، اور اللہ کو خبر ہے جو تم کر رہے ہو.‘‘