امتحان و آزمائش کانقطۂ عروج

اب سورۃ الصا فا ت میں (ازآیت ۱۰۰ تا آیت ۱۱۱) چھٹے اور آخری امتحان کا ذکر شروع ہوتا ہے اور نہایت مختصر ، لیکن جامع ترین الفاظ میں صورت حال کی ایک ایسی مکمل تصویر کھینچ دی جاتی ہے کہ ہم چشم تصوّر سے پورے واقعے کو ہر دور اور زمانے میں دیکھ سکتے ہیں. 

رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰۰﴾فَبَشَّرۡنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعۡیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الۡمَنَامِ اَنِّیۡۤ اَذۡبَحُکَ فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ ﴿۱۰۳﴾ۚوَ نَادَیۡنٰہُ اَنۡ یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾ۙقَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡیَا ۚ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡبَلٰٓـؤُا الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۰۶﴾وَ فَدَیۡنٰہُ بِذِبۡحٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۰۷﴾وَ تَرَکۡنَا عَلَیۡہِ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾ۖسَلٰمٌ عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿۱۰۹﴾کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۱۰﴾اِنَّہٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۱﴾ 
(الصافات: ۱۰۰تا۱۱۱

’’(ابراہیمؑ نے کہا)اے پروردگار ! مجھے ایک بیٹا عطا کو جو صالحوں میں سے ہو.(اس کی دعا کے جواب میں ) ہم نے اس کو ایک حلیم (بردبار) لڑکے کی بشارت دی. وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو(ایک روز) ابراہیمؑ نے اس کہا:بیٹا! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں،اب تو بتا تیرا کیا خیال ہے اُس نے کہا: ابّا جان! جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالئے، آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں کے میں سے پائیں گے.آخر کو جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا. اور ہم نے ندادی کہ اے ابراہیم تو نے اپنا خواب سچ کرد کھایا.ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی جزا دیتے ہیں . یقیناََ یہ ایک کھلی آزمائش تھی. اور ہم نے بڑی عید قربانی فدیئے میں دے کر اس (بچے) کو چھڑالیا اور اس (قربانی) کو (بطور یادگار ہمیشہ کے لئے)بعد کی نسلوں میں چھوڑ دیا. سلام ہے ابراہیم پر. ہم نیکوں کاروں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں. یقیناََ وہ ہمارے مؤمن بندوں میں سے تھاَ‘‘

بڑھاپے میں دعا کر کر کے تو اللہ سے بیٹا لیا او ر وہ بھی کیسا بیٹا! حلیم ، نہایت بردبار ،سلیم الطبع،فرماں بردار ، صابر اور سعادت مند لیکن اب آخری امتحان کے لئے اسٹیج سیٹ ہو رہا ہے. گویا قدرت مسکرارہی ہے کہ ایک سو سالہ بوڑھے انسان کا امتحان ، بڑا کڑا امتحان ابھی باقی ہے. یہ بڑے بڑے امتحانوں سے گزر کر آیا ہے لیکن ابھی آخری تیرا یک بھاری اور مشکل امتحان کی صورت میں ہمارے ترکش میں موجود ہے امتحان کی گھڑی دیکھئے فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعۡیَ ’’تو جب وہ (بیٹا )اس (باپ) کے ساتھ بھاگ دوڑ کرنے کے قابل ہوا‘‘ تو اس امتحان کاوقت بھی آپہنچا. بچہ اگر بالکل شیرخوار گی کی عمر میں ہوتا، بالکل چھوٹا سا ہوتا تو قدرے ہلکا امتحان ہوتا. لیکن اب تو کڑی سے کڑی آزمائش مطلوب ہے. ادھر بوڑھا باپ اپنے اکلوتے بیٹے کو جوان ہوتے دیکھ رہا ہے، ادھر محبت و جذبات اور امیدوں اور تمناؤں کا مرحلہ آگیا اور اس کے لئے وقت منتخب کیا گیا جب زندگی کی بھاگ دوڑ میں وہ بوڑھے باپ کی لاٹھی بننے کے قابل ہوگیا، جدّوجہد اور محنت و مشقت میں ہاتھ بٹانے والا بن گیا . جس کو ہم کہیں گے کہ فی الحقیقت دست و بازو بن گیا اُس وقت حضرت اسماعیل ؑ کی عمر تیرہ سال تھی تو حضرت ابراہیم ؑ اس سے کہتے ہیں : یٰبُنَیَّ اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الۡمَنَامِ اَنِّیۡۤ اَذۡبَحُکَ فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی ؕ اے میرے پیارے بچے! میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے ذبح کر رہاہوں.(روایات میں آتا ہے کہ مسلسل تین رات یہ خواب آیاہے) اب تم دیکھو، غور کرو اور بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے!‘‘ بیٹے کی را ئے معلوم کر کے باپ بھی بیٹے کا امتحان لے رہا ہے. 

یہ بات ذہن میں رکھئے کہ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے. سچا خواب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس کی آخری ، حتمی اور قطعی صورت ’’ وحی نبوّت‘‘ ہے. 
وحی نبوّت کا دروازہ نبی اکرم  پر تا قیامِ قیامت بند ہو گیا، لیکن اس سے کچھ کم تر چیزیں اب بھی باقی ہیں. الہام اب بھی ہے، کشف اب بھی ہے، القاء اب بھی ہے. اللہ اپنے جس بندے کے دل میں جو بات چاہے ڈال دے، اس کے لئے نبوت شرط نہیں ہے. نبوت خواتین کے لیے تو ہے ہی نہیں لیکن اللہ نے اُمِّ موسیٰ ؑ کے دل میں بات ڈالی اور کتنے یقین کے ساتھ ڈالی کہ اپنے بچے کو خود اپنے ہاتھوں صندوق میں بند کر کے دریا کے حوالے کر دیا. یہ کوئی آسان کام نہیں تھا. اگر یہ یقین نہ ہوتا کہ بات مجھ پر القا ہوئی ہے، اگر ذرا بھی گمان ہوتا کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے، تو وہ یہ اقدام ہرگز نہیں کر سکتی تھیں! پس الہام، القا، کشف اور رؤیاۓ صادقہ، یہ ساری چیزیں اب بھی موجود ہیں. یہ چیزیں نبیوں کے لیے بھی تھیں اور غیر نبیوں کے لیے بھیخود نبی اکرم کا ارشاد ہے کہ وحی نبوت کا دروازہ مجھ پر بند ہو گیا، لیکن رؤیاۓ صادقہ کا سلسلہ جاری رہے گا جو نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے. ایک روایت میں سواں حصّہ بھی آیا ہے. البتہ نبیوں کے لیے یہ چیزیں، یعنی الہام، القا، کشف اور رؤیا(خواب)بھی وحی کے درجے میں ہوتے ہیں اور ان میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہوتی. لہٰذا وہ فوراً یقین کر لیتے ہیں کہ یہ اللہ کا حکم ہے. 

اب بیٹے کی حلیمی کا اظہار ہو رہا ہے: 

قَالَ یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾ 
’’اس (بیٹے نے)کہا، ابّا جان! کر گزرئیے جو حکم آپ کو مل رہا ہے، آپ ان شاءاللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے‘‘. 
فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا 
’’تو جب وہ دونوں مسلمان ہو گئے…‘‘ یہاں میں نے جان بوجھ کر ’’مسلمان ہو گئے‘‘ ترجمہ کیا ہے. اسلام، جس کو ہم نے بدنام کیا ہوا ہے، اس کے اصل معنی ہیں گردن نہادن، سرِ تسلیم خم کر دینا. جو بھی اللہ کا حکم ہے اسکی بلا چون و چرا اطاعت اور فرماں برداری کرنا ’’اسلام‘‘ ہے. بقول مولانا محمد علی جوہر مرحوم ؎

یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا!
اور بقول علامہ اقبال مرحوم ؎

چوں می گویم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلاتِ لا الٰہ را !

یہ ہے اسلام. 
فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ ﴿۱۰۳﴾ۚ پھر جب دونوں نے اسلام کا مظاہرہ کیا، دونوں نے گردن جھکا دی، جب دونوں نے اللہ کے حکم کو بسر و چشم قبول کر لیا.اور اس (ابراہیمؑ)نے اس(اسماعیلؑ)کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا، تا کہ چہرہ سامنے نہ رہے اور جذباتِ فطری عین وقت پر جوش میں نہ آ جائیں، بوڑھے ہاتھوں میں کہیں لرزش نہ پیدا ہو جاۓ. سو برس کا بوڑھا ہے جو اپنے تیرہ برس کے اکلوتے بیٹے کے گلے پر چھری پھیرنے کی تیاری کر رہا ہے وَ نَادَیۡنٰہُ اَنۡ یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾ۙ ’’اور ہم نے اس کو پکارا اے ابراہیم‘‘(بس کر) قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡیَا ۚ ’’بلا شبہ تو نے خواب کو سچ کر دکھایا‘‘ اس سے زائد ہمیں بھی درکار نہیں. یعنی ممتحن کو بس کرنا پڑی، جس کا امتحان کا امتحان لیا جا رہا تھا اس نے بس نہیں کی. چشمِ فلک اس نظارے کی تاب نہ لا سکی کہ ابراہیمؑ بیٹے کو بالفعل ذبح کر رہا ہے. امتحان پورا ہو گیا، تم آمادہ ہو گئےاور اپنی محبوب ترین شے کو اللہ کی مَحبّت و اطاعت کی خاطر اور اس کی راہ میں قربان کرنے کے لیے جی جان سے تیار ہو گئے، لہٰذا امتحان میں کامیاب ہو گئے. تمہاری کامیابی تسلیم. اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾ ’’ہم اسی طرح ان لوگوں کو جو محسن ہوتے ہیں، جو درجہ احسان پر فائز ہو جاتے ہیں، اپنے انعامات اور جزا سے نوازتے ہیں‘‘محسن، احسان کرنے والے نہیں. ایک احسان دوسروں پر ہوتا ہے. عام طور پر یہ مفہوم اردو میں مستعمل ہے.عربی میں احسان کا یہ مفہوم بھی ہے، لیکن اس کا اصل اور حقیقی مطلب و معنی کسی کام کو نہایت خوبصورتی سے کرنا ہے. اسلام میں جب کمال پیدا ہو جاۓ تو وہ احسان ہو جاۓ گا. حدیثِ جبرائیل میں یہ تین مراتب بیان ہوۓ ہیں. جبرئیلؑ نے رسول اللہ سے اسلام، ایمان اور احسان تینوں کے بارے میں سوال کیا : اَخْبِرْ نِیْ عَلَی الْاِسْلَامِ ، اَخْبِرْنِیْ عَنِ اَلْاِ یْمَانِ اور اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِ حْسَانِ یہ بتائیے اسلام کسے کہتے ہیں؟ یہ بتائیے ایمان کسے کہتے ہیں؟ یہ بتائیے کہ احسان کسے کہتے ہیں؟ تو احسان ہمارے دین میں بہترین اعمال کی ارفع و اعلیٰ یعنی بلند ترین سطح کو کہا جاتا ہے. لہٰذا فرمایا : اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾ 
’’اسی طرح ہم نیکو کاروں اور خوب کاروں کو جزا دیتے ہیں‘‘.

آگے فرمایا : 
اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡبَلٰٓـؤُا الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۰۶﴾ 
’’واقعہ یہ ہے کہ بڑا کھلا امتحان تھا، بہت کڑی آزمائش تھی‘‘اب آپ خود ہی سوچئے کہ اس سے بڑا کامیابی کا درجہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ خود ممتحن پکار اٹھے کہ امتحان واقعی بہت کڑا، بہت مشکل اور بہت کٹھن تھا. اب معاملہ رہ کیا گیا تھا؟ چھری تو پھیر ہی دی تھی. لیکن اس چھری نے حکم الٰہی سے کام کیا نہیں.